تازہ ترین
Home / Tag Archives: Waseem Akram

Tag Archives: Waseem Akram

کنگ آف سوئنگ وسیم اکرم نے زندگی کی 50 بہاریں دیکھ لیں

525804-tw-1464942451-960-640x480

کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آل راو¿نڈر اور سابق کپتان وسیم اکرم 50 برس کے ہوگئے ان کے مداح ان کی سالگرہ کے کیک کاٹ کراپنی محبت کا اظہار کررہے ہیں۔3 جون 1966 کو لاہور میں پیدا ہونے والے وسیم اکرم آج اپنی 50 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ مایہ نازآل راو¿نڈراوراپنی جادوئی بولنگ کے باعث کنگ آف سوئنگ کا خطاب پانے والے وسیم اکرم نے اپنے ٹیسٹ کیرئر کا آغاز آکلینڈ کے گراو¿نڈ میں 25 جنوری 1985 کو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا۔ کرکٹ کے طویل فارمیٹ ٹیسٹ کے 104 میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اورآل راو¿نڈ کارکردگی دکھاتے ہوئے 147 اننگز میں 22.64 کی اوسط سے 2 ہزار 898 رنز بنائے جس میں 3 سینچریاں اور 7 نصف سینچریز بھی شامل ہیں جب کہ ان کا زیادہ سے زیادہ انفرادی اسکورایک اننگز میں 257 ناٹ آو¿ٹ ہے۔وسیم اکرم ٹیسٹ میچز میں 104 میچوں کی 181 اننگز میں 414 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے جبکہ اس فارمیٹ میں 1 اننگز میں 119 رنز دے کر 7 وکٹیں لینا ان کی بہترین کارکردگی رہی۔ وسیم اکرم نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلا۔ 25 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے 12 میچز جتوائے اور 8 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔وسیم اکرم نے ایک روزہ میچوں کا آغاز فیصل آباد میں 23 نومبر1984 کو نیوزی لینڈ کے خلاف میچ سے کیا۔ ون ڈے کیرئیر میں انہوں نے پاکستان کی جانب سے 356 میچوں میں بولنگ کراتے ہوئے دنیا کے 502 بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی اور بہترین بولنگ میں 15 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کی۔وسیم اکرم ایک روزہ کرکٹ میں 500 وکٹیں لینے والے دنیا کے پہلے بولر ہیں۔ ایک روزہ کرکٹ میں وسیم اکرم نے 280 اننگز میں 3 ہزار 717 رنزبھی بنائے جس میں 6 نصف سینچریاں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کی جانب سے 109 ایک روزہ میچز میں قیادت بھی کی جس میں سے پاکستان نے 66 میچز میں فتح حاصل کی۔وسیم اکرم 2 بار رشتہ ازدواج میں منسلک ہوچکے ہیں۔ 2009 میں اپنی پہلی بیوی ڈاکٹرہما کے انتقال کے بعد اگست 2013 میں دوسری شادی آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی شنیرا تھامسن سے کی۔ وسیم اکرم مئی 2003 کو کرکٹ کی دنیا میں 19 سال تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے جب کہ ان دنوں وہ ملکی اورغیر ملکی اسپورٹس چینلزپرکمنٹیٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

قومی ٹیم کی شکست پر سابق کرکٹرز بھی تلملا اٹھے

442975-Shoaibakhtarwasimakram-1454274015-262-640x480

لاہور: آکلینڈ میں پاکستان ٹیم کی شکست پر سابق کرکٹرز بھی تلملا اٹھے ہیں، وسیم اکرم نے کہا کہ ٹیم پرفارمنس نہ دے تو کپتان یا کوچ کو جانا پڑتا ہے، اظہر علی کی قیادت پر بھی سوال اٹھے گا۔
تفصیلات کے مطابق آکلینڈ میں گرین شرٹس کی شکست پر سابق کرکٹرز نے بھی طنز کے تیر چلادیے۔ ایک انٹرویو میں وسیم اکرم نے کہا کہ پانچواں ریگولر بولر نہ ہونے سے ہمیشہ نقصان تو ہوتا ہے، ٹیم پرفارمنس نہ دے تو کپتان یا کوچ کو جانا پڑتا ہے، اب اظہرعلی کی کپتانی پر سوال اٹھے گا، سابق پیسر شعیب اختر نے کہا کہ ٹیم کے کھلاڑیوں کو ذمے داری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا،آسان وکٹ پر پاکستان کوآخری 19 اوورز میں 125 رنز تو بنانا چاہیے تھے، انھوں نے کہا کہ وہاب ریاض کی جانب سے مایوسی نظرآرہی ہے، عامر نے بھی مایوس کیا، کھلاڑیوں کو ذمے داری لینا ہوگی،آکلینڈ میں 290 رنز کا ہدف کافی نہیں تھا، انھوں نے مزید کہا کہ قسمت اسی وقت خراب ہوتی ہے جبآپ اچھا نہیں کھیلتے۔
عبدالقادر نے کہا کہ پاکستان ٹیم بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں مایوس کرتی ہے، اچھا ٹوٹل حاصل کرنے کیلیے مڈلآرڈر کا ذمہ دارانہ کھیل ضروری تھا، بعد ازں ٹیل انڈرز ہی اوور پورے کھیلنے کی کوشش کرتے تو گرین شرٹس 325رنز بناسکتے تھے، بولرز بھی اہم موقع پر بڑی غلطیاں کرکے حریف کو حاوی ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں لیکن ان کو سمجھانے اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے والا کوئی نہیں ہے، پی سی بی میں 16،16لاکھ تنخواہ لینے والے کیا کام کررہے ہیں،بورڈ والوں سے تو مسائل پر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، کرکٹ کو ایسے لوگ چلا رہے ہیں جن کو اس کھیل کی کوئی سمجھ یا تجربہ نہیں،ٹیم میں بہتری کیسےآئے گی، حکومت اور وزیر اعظم سے ہی درخواست کرسکتے ہیں کہ ان لوگوں سے جان چھڑا دیں۔
رمیز راجہ نے کہا کہآج پاکستان ٹیم کی قسمت اچھی نہیں تھی،گرین شرٹس اگر مکمل اوورز کھیل لیتے تو ہدف تقریباً320 کے قریب اور کیویز کیلیے مشکل ہوتا، انھوں نے مزید کہا کہ بارش کے باعث پچ گیلی ہوگئی جس کی وجہ سے گیند پھنس رہا تھا لیکن اظہر علی اچھی بولنگ کی ہے، عرفان کی فٹنس پر سوال اٹھتا ہے کہ ان کی سپیڈ 130 سے اوپر نہیں گئی،ٹیم میں ایک ہی قسم کے لیفٹآرم بولرز کا بھی نقصان ہورہا ہے، انھوں نے کہا کہ پاکستان نے نیوزی لینڈ کا سخت مقابلہ کیا، اس لیے ٹیم کو داد دینی چاہیے، اچھی بات یہ ہے کہ کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا جب ٹیم لڑکر ہارتی ہے۔
عبدالرزاق نے کہا کہ اظہر علی سلو پچز کے بیٹسمین ہیں، انٹرنیشنل تجربہ کم ہونے کے باوجود ان کے کندھوں پر قیادت کی بھاری ذمہ داری بھی آن پڑی ہے، ہوسکتا ہے کہ دو یا تین سال میں کپتانی کے گر سیکھ بھی جائیں لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہوگی، ہماری عالمی رینکنگ بہت پیچھے جاچکی ہے، بورڈ بہتری لانا چاہتا ہے تو ابھی درست فیصلے کرنا ہونگے، ورنہ زوال کی جانب سفر یونہی چلتا رہے گا۔سعید اجمل نے کہا کہ پاکستان کی کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں تھی،ٹیم نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز کو سمجھ نہیں سکی جبکہ کیویز نے بھرپور فائدہ اٹھایا، اسکواڈ میں ایسے بولرزکی کمی محسوس ہورہی ہے جو رنز روکنے کیساتھ وکٹیں بھی لے کر حریف کو دباو¿ میں لاسکیں۔