تازہ ترین
Home / Tag Archives: Suprem corut

Tag Archives: Suprem corut

کراچی بد امنی کیس میں سپریم کورٹ نے پولیس کی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا

465749-scpkarachi-1457329180-154-640x480

سپریم کورٹ نے کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران امن و امان کے حوالے سے آئی جی سندھ کی پیش کردہ رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف قرار دے دیا۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی لارجر بینچ کراچی رجسٹری میں کراچی بد امنی کیس کی سماعت کررہا ہے، سماعت کے دوران آئی جی سندھ نے پولیس کی کارکردگی رپورٹ پیش کی، رپورٹ میں کہا گیا کہ شہرمیں ہونے والے جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے،24 جولائی 2014 سے اب تک بھتہ خوری میں 60 فیصد ، بینک ڈکیتیوں میں 58فیصد،اسٹریٹ کرائم میں 20 فیصد، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 100 فیصد جب کہ ٹارگٹ کلنگ کےواقعات میں69فیصدکمی ہوئی ہے۔چیف جسٹس نے پولیس کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ آپ کے سارے اعداد و شمار کا تعلق 2015 سے ہے جب رینجرز نے آپریشن شروع کیا، وہ جس کارکردگی کا ذکر کررہے ہیں اس میں رینجرز، پولیس اور دیگر ایجنسیوں کا مشترکہ کردار ہے، پولیس کا کام صرف اعداد و شمار جمع کرنا نہیں بلکہ تفتیش کرنا ہے، وہ یہ بتائیں کہ 2015 میں ٹارگٹ کلنگ کی جتنی وارداتیں ہوئی ہیں ان میں سے کتنے واقعات کے ملزمان پکڑے گئے، عدالت میں کتنے چالان پیش کئے گئے۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کوئی ایسا ملزم جسے پکڑا گیا اور اس کے خلاف چالان بھی عدالت میں پیش کیا گیا ہو اس کی تفصیل دیں، جس پر آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس بہت کام کررہی ہے، ہم نے 451 اشتہاری ملزمان کو پکڑا ہے، صفورا گوٹھ،عباس ٹاو¿ن اور ایئر پورٹ حملہ کیس میں ملزمان پکڑے، غلام حیدر جمالی کے جواب پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ اگر 4 ہزار اشتہاری ملزمان شہر میں آزاد دندنا رہے ہوں تو امن وامان کی صورت حال کا کیا بنے گا،2 ہزار دہشت گرد آزاد گھوم رہے ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں کہ امن ہوگیا۔ وہ جس کیسز کی بات کررہے ہیں وہ 2015 کے کیس نہیں ہیں اور وہ بھی ہماری مداخلت پر آپ نے پکڑے ہیں۔ 47 افراد کی لسٹ ہے اور آپ کہتے ہیں کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات ختم ہوگئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں کمیآئی ہے لیکن شارٹ ٹرم کڈنیپنگ بڑھ گئی ہے، پولیس کے بھی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، آپ کو معلوم ہے کہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کیا ہے، اس سلسلے میں عامر فاروقی تحقیقات کی ہے اس بارے میں آپ کیا جانتے ہیں، آئی جی سندھ کی جانب سے تحقیقات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرنے پر سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ کو اتنا بھی نہیں معلوم تو پھر آپ کو وردی میں رہنے کا بھی حق نہیں ہے۔ جن کیسز کی تفتیش ہوئی ان کے ملزمان کے نام اور پتے موجود ہیں مگرآپ ان پر ہاتھ نہیں ڈالتے، بتائیں مفرور ملزمان کو کیوں نہیں پکڑے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پے رول پر رہا کیے گئے لوگوں کی گرفتاری کے لیے کیا کیا گیا،جس پر پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ 70افراد کو پے رول پر رہا کیا گیا تھا، جن میں سے 54 کے مقدمات نپٹا دیئے گئے۔ 16 مقدمات زیر التواءہیں۔18 ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی کو نااہل قراردینے کی درخواست خارج کردی

438848-supremecourt-1453704860-794-640x480

اسلامآباد: سپریم کورٹآف پاکستان نے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی کو نااہل قرار دینے کی درخواست خارج کردی۔جیو پاکستان کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 208 جیکبآباد سے منتخب ہونے والے پیپلزپارٹی کے رکن اعجاز جاکھرانی کو نااہل قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ نے خارج کردی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ غیرتصدیق شدہ ووٹ جعلی نہیں اور دھاندلی کا الزام لگانے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ شواہد بھی پیش کرے جب کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ یہ معاملہ پہلے ہی طے کرچکی ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹریبونل میں انتخابی عذاداری دائر کرنے کے بعد ترمیم نہیں کی جاسکتی، سپریم کورٹ نے آئندہ الیکشن کے لئے بہت سی چیزوں کو طے کردیا ہے اورسپریم کورٹ اپنے اس فیصلے پرنظرثانی کرنے کو بھی تیار نہیں۔واضح رہے کہ این اے 208 جیکبآباد ون سے منتخب ہونے والے پیپلزپارٹی کے رکن اعجازجاکھرانی کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے امیدوار الہٰی بخش سومرو نے درخواست دائر کی تھی۔