تازہ ترین
Home / Tag Archives: Opposition Meeting

Tag Archives: Opposition Meeting

متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم کے لئے 70 سوالات تیار کرلئے

514136-oppositionmeeting-1463466550-414-640x480

اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم کی جانب سے 7 سوالات کے جواب نہ ملنے کے بعد مزید 70 سوالات تیار کرلئے ہیں۔جیو پاکستان کے مطابق قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی زیرصدارت متحدہ اپوزیشن کا اجلاس ہوا جس میںآئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم سے پوچھنے کے لئے مزید 70 سوالات تیار کرلئے جس کے حوالے سے اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اب وزیراعظم سے 70 سوالات کے جوابات مانگے جائیں گے۔متحدہ اپوزیشن کے ترتیب دیئے گئے 70 سوالات میں چیدہ چیدہ یہ ہیں کہ نوازشریف حکومت وضاحت کرے کہ ان کے خاندان نے بیرون ملک پیسہ کیسے بھجوایا، کیایہ درست نہیں کہ وزیراعظم کےعہدے پر ہوتے ہوئے لندن میں اربوں کی جائیدادخریدی اور کیا وزیراعظم نے اپنے نابالغ بچوں کے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے جب کہ 1993 میں جس وقت شریف خاندان نے پارک لین میں اپارٹمنٹ خریدا اس وقت حسن نواز کی عمر محض 17 برس تھی۔اپوزیشن کے سوالنامے میں شامل مزید سوالات میں پوچھا گیا ہے کہ کیایہ حقیقت نہیں کہ ہ 1988 سے 1991 تک وزیراعظم اوران کے خاندان نے 14 کروڑ سے زائد منی لانڈرنگ کی، کیا ہنڈی کے ذریعے تمام رقم باہربھیجنے کا مقصد کالے دھن کو تحفظ دینا تھا، کیا یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم نے 1988 سے 1991 تک صرف 887 روپے انکم ٹیکس ادا کیا اور کیا یہ درست ہے کہ پشاورمیں حوالہ ڈیلرکے ذریعے شریف فیملی نے رقم غیرقانونی طریقےسے باہربھیجی، وزیراعظم کے کزن خالد سراج نے بیان دیا کہ شریف فیملی نے غیرقانونی طورپرپیسے باہربھجوائے کیا یہ بات غلط ہے۔متحدہ اپوزیشن کے آج ہونے والے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کوئی شریک نہیں ہوا جب کہ متحدہ ارکان نے شکوہ کیا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کا اسٹیرنگ پیپلزپارٹی نے سنبھال لیا ہے اور ہمیں پوچھا نہیں جارہا۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن متحد ہے کہ کل کے اجلاس میں جو ہوا وہ تمام جماعتوں کی حکمت عملی کاحصہ تھا اور متحدہ اپوزیشن آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی مشترکہ موقف اپنائیں گے اور 70 سوالات حکومت کی پریشانی میں مزید اضافہ کریں گے۔

پاناما لیکس کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کا اجلاس

509051-oppositionmeeting-1462865208-879-640x480

اسلامآباد: پاناما لیکس کے معاملے اور وزیراعظم نواز شریف کے ایوان میںآنے سے متعلق حکمت عملی تیار کرنے کے لئے متحدہ اپوزیشن کا اجلاس جاری ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کی رہائشگاہ پر متحدہ اپوزیشن کا اجلاس جاری ہے جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ تمام دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں کی نمائندگی موجود ہے۔وزیراعظم نوازشریف کی ایوان میںآمد کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن نے 7 سوالات پہلے ہی تیار کررکھے ہیں تاہم حتمی حکمت عملی کے لئے اپوزیشن رہنماو¿ں کی مشاورت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کے سوالات پرمطمئن نہ کئے جانے پر اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کی پالیسی پرغورکیا ہے تاہم اگروزیراعظم نے سوالات کے جواب دیئے لیکن اپوزیشن کو مطمئن نہ کیا تو اپوزیشن رہنما ان کے سامنے مزید سوالات رکھیں گے۔

پانامالیکس؛ اپوزیشن جماعتوں کا وزیراعظم سے وضاحت کیلئے سوال نامہ تیارکرنے کا فیصلہ

509051-oppositionmeeting-1462865208-879-640x480

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے پاناما لیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی میں وزیراعظم سے وضاحت کے لئے سوالنامہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جیو پاکستان کے مطابق حکومت کی جانب سے وزیراعظم کے ایوان میں جمعہ کوآنے کے اعلان کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے پاناما لیکس پر ان سے وضاحت کے لئے سوال نامہ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ایوان کو جواب دہ ہیں اس لئے پاناما لیکس کے معاملے پر صرف ایوان میں حاضری کافی نہیں بلکہ انہیں اپوزیشن جماعتوں کو مطمئن کرنا ہوگا۔تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے پارلیمنٹ ہاو¿س میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم کی ایوان میں حاضری سے ہی مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم سے سوالات کی صورت میں وضاحت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے اور مشاورت سے کل تک سوالنامہ تیارکرلیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوالنامے میں وزیراعظم سے پوچھا جائے گا ان کے خاندان کی جانب سے پاناما منتقل کی گئی رقم پر کتنا ٹیکس ادا کیا گیا اور پاناما میں کتنی سرمایہ کاری کی، پیسہ کہاں سےآیا اور کیسے بھجوایا گیا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کل اسلامآباد میں موجود نہیں ہوں گے اس لئے تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کل ایوان میں یہ سوالنامہ پیش کریں گے۔