تازہ ترین
Home / Tag Archives: Khursheed Shah

Tag Archives: Khursheed Shah

پاناما لیکس ٹی او آر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کا تقرر؛ اپوزیشن کی سرگرمیاں بحال

554023-shahkhursheed-1468219779-615-640x480

اسلام آباد: عید الفطر کی چھٹیوں کے بعد اپوزیشن نے پاناما لیکس کے ٹی او آر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کے تقرر کے معاملات پر اپنی سرگرمیاں دوبارہ بحال کردی ہیں۔جیو پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف بیرسٹر اعتزاز احسن سے ملاقات کی، ملاقات میں شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی کے دونوں رہنماو¿ں کو الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سے متعلق تحریک انصاف کے نکتہ نظر اور تجویز کردہ ناموں سے آگاہ کیا۔ملاقات میں پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے ٹی او آرز سے متعلق معاملات اور اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کا وقت طے کرنے کے لیے بھی تبادلہ خیال ہوا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن ممبران کی تقرری کے لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی خورشید شاہ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔ جس میں وہ حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ارکان کے لیے حکومتی ناموں سے آگاہ کریں گے۔

ای او بی آئی میں خلاف ضابطہ بھرتیوں پر خورشید شاہ سپریم کورٹ میں طلب

522838-khursheedshah-1464590834-577-640x480

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ای او بی آئی میں خلاف ضابطہ بھرتیوں پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو طلب کرلیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ای او بی آئی میں خلاف ضابطہ بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کیس کا مرکزی ملزم ظفراقبال گوندل جیل میں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے ریمارکس دیئے کہ بھرتیوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کے 21نومبر 2011 کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے 2011 میں وزیر محنت خورشید شاہ، سیکریٹری لیبر اور اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا۔

ایسی سیاست کا قائل نہیں جس سے نظام کو خطرہ ہو، خورشید شاہ

513460-khursheedshah-1463394540-698-640x480

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ میں ایسی سیاست کا قائل نہیں ہوں جس سے نظام کو خطرہ ہو۔متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس سے قبل میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کا نام نہیں لیکن ان کے بچوں کا نام اس میں شامل ہے، کبھی اس کی تردید کی جاتی رہی اور کبھی اعتراف کیا گیا لہذا وزیراعظم کو اپنے بچوں کے اثاثوں کی وضاحت کرنی چاہیئے، ہمارے ہاتھ میں بندوق ہے نا ہی پتھر اس لئے وزیراعظم کو آج اپوزیشن جماعتوں کے سوالات کا جواب دینا چاہیئے اور ہماری کی بات بھی سننی چاہیئے، آج عمران خان اور مجھ سمیت دیگر اپوزیشن رہنما بھی ایوان میں بات کریں گے، وزیراعظم کے بعد اپوزیشن جماعتیں اپنی گزارشات ایوان میں پیش کریں گی۔خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت کی وجہ سے ہی آج پیار سے بات کر رہا ہوں، میں ایسی سیاست کا قائل نہیں جس سے نظام کو خطرہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ پاناما لیکس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کا بیان ہمارے موقف کی تائید ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے ٹی او آرز متفقہ ہونے چاہیئیں۔

جس دن کرپشن ثابت ہوجائے سیاست چھوڑ دوں گا، خورشید شاہ کا اعلان

489885-khursheedshah-1460446977-919-640x480

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کا کہنا ہے کہ وہ اب تک جنتی بھی وزارتوں میں رہے صرف عوام کی خدمت کی ہے اور اگر جس دن پر کرپشن ثابت ہوجائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ایک شخص کل کہہ رہا تھا خورشید شاہ کے خلاف نیب کی بہت سی فائلیں ان کے پاس آگئی ہیں،وزیرداخلہ نے جیسی بات کی ایسی تو عام آدمی بھی نہیں کرتا ہے، وزیر داخلہ بڑے شیربنتے ہیں ، یہ شیر نہیں گیدڑ سے بھی بدتر ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کا لیڈر جلاوطن ہوا تو وہ گھروں میں سکون کی نیند سوتے رہے، گھٹیا آدمی بھی ایسی بات نہیں کر سکتا جوایک وزیرنے کی، وزیرداخلہ ان کی زبان بندی کرنا چاہتے ہیں اسی لیے وہ انہیں بلیک میل کرتے ہیں، کیا نیب وزیر داخلہ کے ماتحت ہے اس کا جواب بھی آنا چاہیے۔پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وہ مرسکتے ہیں لیکن کرپشن نہیں کرسکتے،وہ آج تک جتنی وزارتوں میں رہے ہیں صرف عوام کی خدمت کی ہے، 2 بینک اکاو¿نٹس کے علاوہ ان کا کہیں بھی کوئی اکاو¿نٹ نہیں۔ انہوں نے 1973 سے کاروبار شروع کیا لیکن نواز شریف کی حکومت آئی تو ان کے خلاف نیب کے کیسز بنائے گئے،وہ خداکو حاضر ناظر جان کرکہتے ہیں کہ ایف آئی اے اور نیب کے بجائے ایوان ان کا احتساب کرے، قوم کو بتایا جائے کہ اپوزیشن لیڈر نے کون سے فوائد حاصل کیے۔ جس دن ان پر کرپشن ثابت ہوجائے تو وہ ان کا آخری دن ہوگا، تحقیقاتی ٹیم کو سکھر بھجوایاجائے اور اگر ایک انچ زمین پر بھی قبضہ ثابت ہو تو آج سے ان کا استعفا قبول کرلیں۔

لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کو پالنے والے ان سے ناراض ہو گئے ہیں، خورشید شاہ

465809-KhurshidShahWeb-1457339100-957-640x480

لاہور: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ایم کیو ایم کو ایک بار پھر اسٹیلشمنٹ کی ’بے بی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے ایم کیو ایم کو پالنے والے ان سے ناراض ہو گئے ہیں۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کرپشن ہے یا نہیں مجھے اس کا نہیں پتہ لیکن ملک میں سیاست ہر روز کروٹ بدل رہی ہے، نیب نے پنجاب میں کارروائی کا آغاز کیا تو (ن) لیگ اور صوبائی وزراءکی چیخیں نکل پڑیں، 2، 3 وزرا کی تو ٹیپ بھی منظر عام پر آ چکی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اندر بہت کچھ ہے۔شہباز شریف کے کرپشن ثابت ہونے پر سیاست چھوڑنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جب ماڈل ٹاو¿ن کا واقعہ ہوا تو اس وقت بھی شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر مجھ پر الزام ثابت ہو گیا تو میں سزا کیلئے تیار ہوں لیکن جب پہلی انویسٹی گیشن رپورٹ سامنے آنے لگی تو اسے روک دیا گیا کیونکہ اس میں ان پر الزام ثابت ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میٹرو میں 72 بسیں ہیں اور ایک بس ایک ارب روپے خرچ کئے گئے، اورنج لائن ٹرین کا پروجیکٹ بھی 200 ارب روپے کا ہے، منصوبے سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسافر فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، اس میں 600 روپے فی کس خرچہ ہے جس میں 50 روپے پنجاب حکومت وصول کر رہی ہے جب کہ 550 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جس کی لاگت 10 ارب روپے کے قریب بنتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اتنے مہنگے پراجیکٹ لانے کے پیچھے کیا راز ہے یہ تو آنے والے وقت میں پتہ چل جائے گا لیکن لاہور کی آبادی تو 70 لاکھ افراد پر مشتمل ہے تو آپ کو ایسا پراجیکٹ لانا چاہیئے جس سے 70 لاکھ افراد مستفید ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ پنجاب کا بجٹ 400 ارب روپے ہے جس میں سے صرف لاہور کا بجٹ پورے جنوبی پنجاب سے 3 گنا ریادہ ہے، یہ سب چیزیں تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گی لیکن اب جب نیب کو تحقیقات سے روکا جا رہا ہے تو نا انویسٹی گیشن ہو گی اور نہ استعفیٰ آئے گا۔مصطفیٰ کمال کے الزامات کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ حقیقی طور پر دیکھا جائے تو ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی ’بے بی‘ رہی ہے اور جنرل ضیاءالحق نے اس کو پال پوس کر بڑا کیا، اب جب ایم کیو ایم بالغ ہو گئی ہے تو اس نے نخرے دکھانا شروع کر دیئے ہیں، ایسی صورت حال میں پالنے والے بڑے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ ایل این جی ڈیل 1700 ارب روپے میں ہوئی ہے اور یہ ڈیل تقریباً ڈھائی سال سے چل رہی تھی، ہم پارلیمنٹ میں چیخ چیخ کر تھک گئے کہ اس ڈیل سے متعلق بتایا جائے لیکن کچھ نہیں بتایا گیا، ہمیں اس لئے نہیں بتایا گیا کہ اگر اب بتایا گیا تو انٹرنیشنل آئل پروڈیوسنگ کمپنیاں درمیان میں آ جائیں گی اور اپنے ریٹ اوپن کر دیں گی۔ آج دنیا میں ایل این جی کی پوزیشن یہ ہے کہ سارے ایل این جی پیدا کرنے والے ملک پریشان ہیں کہ ہم سے کوئی ایل این جی خریدے کیونکہ امریکا 60 فیصد ایل این جی کا خریدار تھا اور جاپان بھی 12 فیصد تک ایل این جی کا خریدار تھا، اب 75 فیصد ایل ایک جی کے خریدار انٹر نیشنل مارکیٹ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، ایسی صورت حال میں ہم کم سے کم ریٹ میں ایل این معاہدہ کر سکتےتھے، بہت سی باتیں لکھی اور کہی جا رہی ہیں، سب کو سمجھ آتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو گربڑ ہوئی ہے۔

چھوٹی ذہنیت کے لوگوں کے الزامات کا جواب دینا میرے شایان شان نہیں،خورشید شاہ

441918-khursheedshah-1454136914-218-640x480

سکھر: اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے ان کا رتبہ بڑا ہے اس لئے وہ ان کے الزامات کا جواب نہیں دیں گے بلکہ وزیراعظم کے سامنے پارلیمنٹ کو جواب دیں گے۔سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ان پرلگائے گئے الزمات محضکہ خیزہیں، حکومت میں شامل چھوٹی ذہنیت کے کچھ لوگ ہمارے خلاف باتیں کر کے اپنا قد اونچا کر نے کی کوشش کررہے ہیں۔بحیثیت قائد حزب اختلاف چھوٹی چھوٹی باتوں کا جواب دینا ان کے شایان شان نہیں، وہ صرف وزیراعظم کو کسی بات کا جواب دے سکتا ہوں اور ان الزامات کا جواب بھی وہ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے سامنے ہی دیں گے۔ وہ الزام لگانے والوں پر واضح کریں گے کہ وہ الزام لگائیں اگر وہ الزام ثابت نہیں کر پائے تو عدالت سے رجوع کریں گے۔
خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کا مک مکا ہے، اب یہ باتیں وزیر اعظم کے اپنے لوگ بھی کر رہے ہیں، اس لئے اب وزیر اعظم ہی اس کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعطم نواز شریف نے سخت وقت دیکھا ہے انہیں حالات پر نظر رکھنی چاہیئے کہ ان کی حکومت میں کیا ہو رہا ہے۔