تازہ ترین
Home / Tag Archives: Ishaq Dar

Tag Archives: Ishaq Dar

دال مہنگی ہے تو مرغی کھائیں، اسحاق ڈار کا قوم کو مشورہ

535967-tw-1466240883-193-640x480

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ کچھ اراکین اسمبلی کہتے ہیں کہ دال مہنگی کردی گئی ہے اگر دال مہنگی ہے تو مرغی کا گوشت کھائیں وہ سستا کردیا گیا ہے۔قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے لئے پیش کئے گئے بجٹ میں شامل لازمی اخراجات کی منظوری کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت مالیاتی خسارے میں کمی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، ہم نے 3 سال میں ترقیاتی بجٹ میں 2 گنا اضافہ کردیا ہے جبکہ مالیاتی خسارہ نصف رہ گیا ہے۔ ہم نے 34 میں سے 32 اداروں کے خفیہ فنڈ ختم کردیئے، اب انٹیلی جنس اداروں کے سوا کسی کے پاس سیکرٹ فنڈ نہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے خسارے میں جاسکتے ہیں۔ رواں مالی سال میں 3 صوبوں نے خسارے کے بجٹ پیش کئے ہیں اور یہ غیر قانونی نہیں ہے۔وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ کشکول کی دیگ موجودہ حکومت نے نہیں بنائی 2000 سے 2013 تک لئے گئے قرضوں کے حوالے سے پرویز مشرف ، (ق) لیگ اور پیپلز پارٹی سے بھی پوچھا جائے۔ جو بھی قرضے لئے جاتے ہیں اس میں پارلیمنٹ کی منظوری شامل ہوتی ہے۔اسحٰق ڈار نے کہا کہ کچھ اراکین اسمبلی کہتے ہیں کہ دال مہنگی کردی گئی ہے اگر دال مہنگی ہے تو مرغی کھائیں ہم نے مرغی 200 روپے فی کلوکردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ صرف خبروں میں آنے کے لیے غیر ضروری باتیں کرتے ہیں، شیخ رشید جلد شادی کرلیں تاکہ انہیں بچوں کی ضروریات کے بارے میں علم ہوسکے۔ وہ شیخ رشید کو چیلنج کرتے ہیں اگر بیرون ملک ان کا ایک روپیہ بھی ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان سے معاملات پر حکومت باخبر ہے، طورخم بارڈر پر اب تک جو بھی ہوا ہے وہ اچھا شگون نہیں۔ آپریشن ضرب عضب پر اب تک 145 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں جبکہ 100 ارب مزید رکھے جارہے ہیں۔

آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ کچھ دیر بعد پیش کیا جائے گا

525508-darr-1464894692-769-640x480

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ساڑھے 4 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کا وفاقی بجٹ آج پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارآئندہ مالی سال 17-2016 کے لیے ساڑھے 4 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کے حجم پر مشتمل وفاقی بجٹ آج شام پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔ ایکسپریس نیوز کو حاصل ہونے والی بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ماضی کے 10،10 فیصد کے 2 ایڈہاک ریلیف تنخواہوں میں شامل کرکے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 10 فیصد اضافہ کرنے کی تجویزدی گئی ہے جس کے بعد نظر ثانی شدہ پے اسکیلز جاری کیے جائیں گے، اس کے علاوہ میڈیکل الاو¿نس اور کنوینس الاو¿نس میں بھی اضافے کی تجویزہے جب کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ بجٹ کے مجوزہ مسودے میں دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق آئندہ مالی سال کے لئے دفاعی بجٹ 860 ارب روپے جب کہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3 ہزار620 ارب اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار 675 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 800 ارب روپے کے لگ بھگ ہوگا۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قرضوں پرسود کی ادائیگی کے لئے 1354 ارب روپے، پنشن کی ادائیگی کے لئے 245 ارب روپے، وفاقی حکومت کے سروس ڈلیوری کے اخراجات کے لئے 348 ارب روپے، سبسڈیز کیلئے 169 ارب روپے، صوبوں کو گرانٹس کی ادائیگی کے لئے 40 ارب روپے اور دیگر گرانٹس کی مد میں 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیرغورہے۔بجٹ میں 250 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز ہے، اسٹیشنری، سیمنٹ، سگریٹ، مشروبات، میک اپ کے سامان، ادویات، پینٹش وارنش، انجنآئل، گیئرآئل، ایئرکنڈیشنر، ڈبے کے دودھ اور پولٹری فیڈ پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز زیرغور ہے جب کہ گاڑیوں کی لیزنگ پر 2 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس، کمرشل صارفین کے لئے بجلی پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 12 فیصد اور مالدار لوگوں پر سپرٹیکس برقرار رکھنے کی تجویزہے۔ لینڈ ڈویلپرز اور بلڈرز پر 33 روپے فی مربع فٹ ٹیکس، شادی ہالوں پر حجم کے مطابق ٹیکس، اسٹاک ایکسچینج ممبران کے کمیشن پر ٹیکس 0.01 سے 0.02 فیصد تک بڑھانے کی تجویزہے جب کہ اکانومی کلاس کے فضائی ٹکٹ پر 3 ہزارروپے ٹیکس عائد کیا جائے گا۔بجٹ میں یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے جب کہ کپاس اورچاول کے چھوٹے کاشتکاروں کو زرتلافی دینے کی تجویزہے، کسانوں کو سولرپمپس کی فراہمی کے لئے بجٹ مختص کیا جائے گا۔ زرعی ادویات، خام مال اور پلاسٹک مصنوعات سستی کئے جانے کا امکان ہے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وزارت انسانی حقوق کے لیے 17 کروڑ، وزارت قانون و انصاف کے لیے ایک ارب پچاس کروڑ، وزارت خارجہ کے لیے 50 کروڑ، وزارت مواصلات کے لیے پانچ ارب 28 کروڑ، دفاعی پیدا وار کے لیے 2 ارب 23 کروڑ، ایوی ایشن ڈویڑن کے لئے 4 ارب 69 کروڑ، کابینہ ڈویڑن 36 کروڑ اور کیڈ کے لئے 2 ارب 56 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویزہے۔ وزارت امورکشمیر و گلگت بلتستان کے لیے 25 ارب اور 75 کروڑ روپے، ایچ ای سی کے لیے 21 ارب 48 کروڑ، وزارت ہیلتھ سروسز کے لیے 24 ارب 95 کروڑ، اٹامک انرجی کمیشن کے لیے 27 ارب 56 کروڑ، وزارت دفاع کے لیے 2 ارب 52 کروڑ، وزارت داخلہ کے لیے 11 ارب 55 کروڑ، وزارت پانی و بجلی کے لیے 31 ارب 71 کروڑ ، سیفران کے لیے 22 ارب 30 کروڑ، وزارت جہاز رانی و بندر گاہوں کے لیے 11 ارب 99 کروڑ، ریلوے کے منصوبوں کے لیے 41 ارب اور وزات منصوبہ بندی و ترقی کے لئے 11 ارب 99 کروڑ روپے مختص کرنے تجویز دی گئی ہے۔بجٹ میں وفاقی خصوصی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 28 ارب روپے، کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لیے 20 ارب ، این ایچ اے کے منصوبوں کے لیے 188 ارب روپے اورواپڈا کے لیے 130 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے۔ صوبوں کے لیے 875 ارب روپے اور وفاقی ڈویڑنوں کے لیے 282 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزہے۔

پارلیمانی کمیٹی پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے متفقہ ٹی اوآرز تشکیل دے گی، اسحاق ڈار

514217-ISHAQDARPHOTOINP-1463478582-705-640x480

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارکہتے ہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں گے جو پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے متفقہ ٹی اوآرز تشکیل دے گی.اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئےاسحاق ڈارنے کہا کہ وزیراعظم کےخاندان سمیت کوئی بھی احتساب سے بالاترنہیں، وزیراعظم نے خود کو ایوان میں احتساب کے لیے پیش کردیا ہے، وزیراعظم نے پاناما لیکس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے متفقہ ٹی اوآرز طے کرنے کے لیے اسپیکرقومی اسمبلی کو کمیٹی بنانے کی درخواست کی ہے، یہ کمیٹی دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل ہوگی کیونکہ یہ کسی ایک شخص کا معاملہ نہیں، اس سلسلے میں سیکڑوں افراد کے ناموں سےمتعلق چھان بین ہونی ہے۔وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ وہ یہ نہیں کہتے کہ اس معاملے کو دبا دیا جائے لیکن اپوزیشن ملکی مفادات کو مد نظررکھے، کہیں سیاسی گہما گہمی میں پاکستان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ پارلیمانی کمیٹی حکومت اوراپوزیشن کے ٹی او آرزپربھی غورکرسکتی ہے، ان ہی کی روشنی میں متفقہ ٹی وی آرزبنائے جائیں گے۔آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے اسحاق ڈارنے کہا کہ آئندہ بجٹ بہت اچھا اورعوام دوست ہوگا، ہم ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہتے ہیں اورٹیکسوں کے نظام کو معتدل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے معاملے پر کمیٹی بنا دی گئی جو فیصلہ کرے گی، 2018 کے انتخابات جیتنے کے بعد بھی متفقہ چارٹر آف اکنامی کےموقف پرقائم رہیں گے۔

ملک کی معیشت پرمنفی سیاست سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار

496744-ishaqdar-1461404188-374-640x480

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت نےمعیشت کی بحالی کےلیےمثبت اصلاحات کیں، ہیں اس لئے معیشت پرمنفی سیاست سے گریز کیا جائے۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ ملکی فلاح اورترقی کے لیے نیک نیتی سے کام کررہے ہیں،مسلم لیگ (ن)کی اقتصادی پالیسی ایک کھلی کتاب ہے، جمہوری حکومت نے سب سے پہلے توانائی بحران کے خاتمے پرتوجہ دی، موجودہ حکومت نے3 سال میں شرح نمو میں خاطر خواہ اضافہ کیا، رواں مالی سال 3100 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے پاکستان میں معیشت کی بہتری کےمعترف ہیں، دنیا کے 22 قابل اعتماد ادارے پاکستان کی معاشی ترقی کا اعتراف کرچکے ہیں۔ دنیا نے 2012 کے آخر میں پاکستان کےساتھ کاروبار بند کردیا تھا، ہماری حکومت نے معیشت کی بحالی کےلیےمثبت اصلاحات کیں جس کی وجہ سے ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے،بہترصورتحال کے باعث پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری آرہی ہے، چین پاکستان میں 46 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کررہا ہے۔ گردشی قرضوں کی ادائیگی کے 4 آڈٹ ہوچکےہیں۔ رواں مالی سال3100ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف ہے۔

صوبوں کو ایک ارب 29 کروڑ فراہمی کی منظوری دیدی گئی

465644-ishaqdar-1457301332-787-640x480

اسلام آباد: وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار نے رواں مالی سال 2015-16 کی پہلی سہ ماہی جولائی سے ستمبر کے لیے صوبوںکو ایک ارب29 کروڑ 25 لاکھ 49 ہزار روپے کی گرانٹ کی منظوری دی ہے جو فوری طور پر جاری کی جائے گی۔گزشتہ روز وزارت خزانہ سے جاری بیان کے مطابق وزیرخزانہ نے صوبوں کے لیے جس مجموعی رقم کی منظوری دی ہے، اس میں سے پنچاب کو 27 کروڑ 17 لاکھ 14ہزار، سندھ کو 20 کروڑ47 لاکھ 72 ہزار، خیبرپختونخوا کو 31 کروڑ 36 لاکھ80 ہزار جبکہ بلوچستان کو 50 کروڑ 23 لاکھ 83 ہزار روپے دیے جائیں گے۔31 جولائی2015 کو مشترکہ مفادات کونسل نے یہ فیصلہ کیا تھاکہ صوبوںکے فاضل بجٹ پر ریٹ آف ریٹرن تازہ ترین ٹریڑری بل کے ریٹ پردینے کی اجازت دی جائیگی جسے برقرار رکھنے کی کم ازکم شرح 3 ماہ ہوگی، اس فیصلے کے تحت صوبوںکو سہ ماہی بنیاد پر گرانٹ دی جارہی ہے۔