تازہ ترین
Home / Tag Archives: Imran Khan

Tag Archives: Imran Khan

شریف خاندان کے احتساب سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، عمران خان

547587-imrankhan-1467439590-802-640x480

کراچی: پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کے احتساب سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پہلے کی نسبت حالات قدرے بہتر ہیں لیکن سندھ حکومت نے کراچی پولیس کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے، رینجرز کو امجد صابری کے قاتلوں کو ہر صورت گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچانا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں شریف خاندان کی بادشاہت قائم ہے لیکن اس بادشاہت کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی، لاہور میں میری بہن کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار بھی شریف خاندان ہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی حکومت پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لئے ٹی او آرز سے ڈر رہی ہے جس طرح 4 حلقے کھولنے سے ڈر رہی تھی۔ احتساب پانامہ پیپرز سے شروع ہوگا اور ہم شریف خاندان کے احتساب سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میری بھی آف شور کمپنی تھی، میرا بھی احتساب کریں لیکن مجھے کسی چیز کا خوف نہیں کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، سب کا احتساب ہونا چاہیئے اور جن ٹی او آرز پر وزیراعظم کا احتساب کرنا ہے انھی پر میرا بھی احتساب کیا جائے، عید کے بعد پاناما لیکس کی تحقیقات کے لئے عدالت بھی جائیں گے۔تحریک انصاف کے چیرمین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس عوامی طاقت ہے، جب چاہیں شہر بند کر سکتے ہیں اور اس بار ایک تربیت یافتہ جماعت سڑکوں پر آئے گی۔ انھوں نے کہا کہ کراچی کے الیکشن میں تحریک انصاف کی ناکامی کی وجہ تنطیم کا نہ ہونا ہے لیکن اس حوالے سے ہم کام کر رہے ہیں اور عید کے بعد سندھ کا دورہ کروں گا۔

دھرنے کے دوران ایس ایس پی اسلام آباد پر تشدد؛ عمران خان اور طاہرالقادری کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری

537396-tw-1466409463-519-640x480

اسلام آباد: انسداد دہشت گردی عدالت نے دھرنے کے دوران ایس ایس پی اسلام آباد عصمت جونیجو پر تشدد سے متعلق کیس میں تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سہیل اکرام نے 2014 میں دھرنوں کے دوران ایس ایس پی اسلام آباد عصمت جونیجو پر تشدد سے متعلق کیس کی سماعت کی، تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اورعوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی گرفتاری سے متعلق تعمیلی رپورٹ انسپکٹر یاسین بھٹہ نے جمع کرائی۔تفتیشی افسر نے تعمیلی رپورٹ میں کہا کہ چئیرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کےلئے ان کے گھر گئے تو ان کی رہائش گاہ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ عمران خان اس وقت کہاں ہیں اس بات کا علم نہیں جبکہ ڈاکٹرطاہرالقادری بھی ملک سے باہر ہونے کے باعث گرفتار نہیں کئے جاسکے۔ عدالت نے دونوں پارٹی سربراہان کے دوبارہ گرفتاری کے احکامات جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 25 جولائی تک ملتوی کردی ہے۔واضح رہے کہ ملزمان کیخلاف باوردی اہلکار پر تشدد، کار سرکار میں مداخلت اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

تحریک انصاف کا وزیراعظم کے خطاب کے دوران خلل نہ ڈالنے کا فیصلہ

513459-imran-1463395131-868-640x480

اسلام آباد: تحریک انصاف کے پارٹی مشاورتی اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کے ایوان میں خطاب کے دوران کوئی خلل نہیں ڈالا جائے گا اور تحمل سے وزیراعظم کا مکمل خظاب سنا جائے گا۔جیو پاکستان کے مطابق بنی گالہ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی سربراہی میں پارٹی رہنماو¿ں کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم کے ایوان میں خطاب کے دوران خاموشی اختیار کی جائے گی۔ اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ اسپیکرسردارایاز صادق سے رابطہ کیا جائے گا کہ عمران خان کو وزیراعظم کے بعد بولنے کا موقع دیا جائے اس حوالے سے شاہ محمود قریشی اسپیکر سے ملاقات کر کے معاملات طے کریں گے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایوان میں اپنی آف شور کمپنی کے حوالے سے وضاحت دیں گے اور خود کو احتساب کے لئے پیش کریں گے۔

عمران خان کے فنانسر اور علیم خان بھی آف شور کمپنیوں کے مالک

508182-panama-1462764321-871-640x480

پاناما: دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے خفیہ اکاو¿نٹس اور کمپنیوں سے متعلق دستاویزات شائع کر کے تہلکہ مچانے والی پاناما لیکس کا دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر آ گیا ہے جس میں تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کے فنانسر اور علیم خان سمیت سیکڑوں پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔
پاناما لیکس کی جانب سے جو نئی دستاویزات شائع کی گئی ہیں ان میں مزید 400 پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، آئی سی آئی جے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آف شور کمپنیوں کے ذریعے 12 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ بیرون ممالک منتقل کیا گیا جس میں سے زیادہ ترسرمایہ ابھرتی ہوئی معیشت والے ممالک میں منتقل کیا گیا۔ بیرون ملک سرمایہ بھیجنے والے ممالک میں چین، روس، ملائشیا، تھائی لینڈ، انگولا اور نائیجیریا بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے فنانسر اور قریبی دوست ذوالفقار عباس بخاری عرف زلفی 6 آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جب کہ پی ٹی آئی رہنماعلیم خان کا نام بھی آف شور کمپنیاں بنانے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔
سابق وزیراعظم شوکت عزیزدور کے وزیر صحت نصیر خان کے بھائی ظفراللہ خان اور بیٹے محمد جبران کی بھی آف شورکمپنی ہے۔ اس کے علاوہ لاہور سے تعلق رکھنے والے سیٹھ عابد کے بیٹے ساجد محمود ورجن آئی لینڈ میں کمپنی کے مالک نکلے، سیٹھ عابد کے خاندان کی 30 آف شورکمپنیاں منظرعام پر آئی ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم قائد الطاف حسین کے دوست عرفان اقبال بھی 3 آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔
پورٹ قاسم اتھارٹی کے سابق ایم ڈی عبدالستار ڈیروکی بھی غیرملکی کمپنیاں ہیں، کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدرشوکت احمد کے نام کمپنی رجسٹرڈ، بیٹا اور بہو شیئر ہولڈرز میں شامل ہیں۔ آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے کی والدہ صباعبید بھی 3 غیر ملکی کمپنیاں رکھتی ہیں۔
ایڈمرل ریٹائرڈ مظفرحسین کے صاحبزادے اظہرحسین بھی ایک غیرملکی کمپنی میں شیئر ہولڈرہیں، پیپلزپارٹی کی سابق سینیٹر رخسانہ زبیری نے بھی غیرملکی کمپنی میں سرمایہ کاری کی جب کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے کزن طارق اسلام بھی آف شور کمپنی رکھنے والوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ایکسپریس نیوز سے بات کرتے ہوئے سینیٹر رخسانہ ذبیری نے آف شور کمپنی میں اپنا نام شامل کرنے پر قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری کوئی آف شور کمپنی نہیں، تمام اثاثے اپنی رقم سے خریدے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاناما لیکس نے اپنے پہلے ایڈیشن میں آف شور کمپنیاں یا پھر خفیہ اکاو¿نٹس رکھنے والے 250 پاکستانیوں سمیت دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی 10 لاکھ سے زائد شخصیات کے نام شائع کئے تھے، پانامالیکس کی پہلی قسط میں وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادوں کے نام سامنے آنے پر وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کے ٹی او آرز کو اپوزیشن جماعتوں نے مسترد کردیا تھا جب کہ بعض اپوزیشن رہنماو¿ں کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ کے سامنے موجود لوگوں کا موازنہ ہمارے دھرنوں سے نہ کیا جائے، عمران خان

455658-imrankhan-1455968064-780-640x480

ایبٹ آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے سامنے موجود لوگوں کا موازنہ ہمارے دھرنوں سے نہ کیا جائے۔ایبٹ آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر حالیہ ہونے والے دھرنے کا موازنہ ہمارے دھرنے سے نہ کیا جائے ہم نے اپنے دھرنے کے دوران ایک گملا تک نہیں توڑا تھا اور ہمارا دھرنا انتخابی دھاندلی کے خلاف تھا کیونکہ عوام کا مینڈیٹ چرانا سب سے بڑا جرم ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 11 سال پہلے ملکی تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا تھا اور زلزلے کے نام پر دنیا بھر سے بے پناہ عطیات آئے تھے اور صرف اسکولوں کی تعمیر کے لئے 15 ارب ڈالرز بیرونی امداد آئی تھی لیکن 11 سال میں زلزلے سے متاثرہ ڈھائی ہزار اسکولوں میں سے صرف 700 اسکولوں پر ہی کام شروع ہوسکا۔ 850 اسکولوں کو مکمل طور پر گرا دیا گیا جب کہ 600 اسکولوں کی تعمیر کا سلسلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ تعلیم کے ساتھ ہمارے حکمرانوں نے کیا سلوک کیا۔ قوم پلوں سے نہیں تعلیم سے بنتی ہے۔ خیبرپختون خوا نے سب سے زیادہ پیسہ تعلیم پر خرچ کیا اور ہم زلزلے سے متاثرہ اسکولوں کے لئے 7 ارب روپے خرچ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا پنجاب پولیس غیر سیاسی نہیں۔ سیاسی مداخلت اور میرٹ کے فقدان کے باعث پنجاب پولیس اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی اور شرپسند عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ خیبرپختون خوا میں پولیس غیر سیاسی ہے بہت جلد خیبرپختونخوا میں نیا پولیس ایکٹ نافذ کیا جائے گا۔ قبائلی علاقوں سے ملحقہ سرحدوں سے آنے والے غیر ملکیوں سے پاکستان آتے ہیں تو اس سے خطرہ ہوتا ہے ، اس لئے ہم نے قبائلی علاقوں کی سرحدوں پر رینجرز تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان علاقوں میں قیام امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

عمران خان نے خیبرپختونخوا کابینہ کو احتساب ترامیم فوری واپس لینے کی ہدایت کردی

455658-imrankhan-1455968064-780-640x480

اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے خیبرپختونخوا کابینہ کو احتساب ترامیم فوری واپس لینے کی ہدایت کردی۔جیو پاکستان کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران احتساب بل کا جائزہ لیا گیا جب کہ اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ احتساب بل میں کی گئی ترامیم کو واپس لیا جائے گا اور نظرثانی شدہ بل اسمبلی میں پیش کرکے اس کی منظوری لی جائے گی۔احتساب بل کا جائزہ لینے کے لئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ماتحت وکلا کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو احتساب بل کا جائزہ لے رہی ہے اور احتساب بل کے حوالے سے نئی ترامیم تیار کی گئی ہیں جس کی منظوری خیبرپختونخوا اسمبلی سے لی جائے گی۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ احتساب کے لئے کسی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گے اور ا?زاد احتساب کے لئے موثر مسودہ قانون جلد خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کروں گا۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے احتساب کمیشن میں لائے گئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث کسی بھی مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے پانچ رکنی کمیشن کی منظوری کو لازمی قراردیا گیا تھا جب کہ مشتبہ شخص کے جسمانی حراست کی مدت بھی 45 روز سے کم کر کے 15 دن کردی گئی تھی جس پر احتساب کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد حامد خان نے احتساب ایکٹ 2015 میں ترمیم کے باعث احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) نے نیب کے پرکاٹے تو بھرپورمخالفت کریں گے، عمران خان

455658-imrankhan-1455968064-780-640x480
اسلام آباد: چیرمین تحریک انصاف عمران خان کہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کو وزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب دھمکیاں دے رہے ہیں اور اگر مسلم لیگ (ن) نے نیب کے پرکاٹے تو بھرپور مخالفت کریں گے۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ کرپشن ملک کو کھوکھلا کردیتی ہے، ملک میں ہر روز 8 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔ ان کے سیاست میں آنے کا مقصد بھی ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا تھا، ہم خیبر پختون خوا میں احتساب کا ایک آزاد ادارہ بنانا چاہتے تھے، اسی لئے ہم نے احتساب کمشنر اور ڈی جی نیب کی اسمبلی سے منظوری لی، انہوں نے احتساب سیل کے سربراہ حامد خان کی مکمل حمایت کی۔ اینٹی کرپشن نچلے لیول پرکام کرتی ہے،احتساب کمیشن سیاستدانوں سے متعلق کام کرتاہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ حکومتی وزیر کو پکڑا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی احتساب سیل حامد خان کو حکومت سے کوئی شکوہ نہیں تھا ، انہیں اختیارات پرمسئلہ تھا، نیب میں نوازشریف اوراپوزیشن لیڈرکے خلاف کیسز ہیں لیکن ان کی صوبائی حکومت کے کسی عہدے دار کے خلاف کرپشن کا کوئی کیس نہیں۔ وہ خود کمیٹی کی سربراہی کریں گے اور ترامیم کا جائزہ لیں گا، آزاد احتساب میں اگر کوئی ترمیم رکاوٹ بنے گی تو ہم اسے دور کریں گے۔عمران خان نے کہا کہ چیئرمین نیب کووزیراعظم اوروزیراعلیٰ پنجاب دھمکیاں دے رہے ہیں، احتساب کے راستے میں رکاوٹ کی سخت مخالفت کریں گے، اگر مسلم لیگ (ن) نے نیب کے پرکاٹے تو بھرپور مخالفت کریں گے۔

نواز شریف کا اقتدار میں آنے کا مقصد اپنے کاروبار کی ترقی ہے، عمران خان

449552-imrankhan-1455189158-167-640x480
گوجرانوالہ: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کان کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نواز شریف کے اقتدار میں آنے کا مقصد صرف اپنے کاروبار کی ترقی ہے۔گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی سیاست میں بڑا فرق یہے۔ نواز شریف کا اقتدار میں آنے کا مقصد صرف اور صرف اپنے کاروبار کی ترقی ہے ، اگر اس دوران ملک کو فائدہ ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ ان کا اپنا کاروبار تو ترقی کرہی رہا ہے۔ اسی وجہ سے نواز شریف کا کاروبار تو ترقی کررہا ہے لیکن پاکستان کی معاشی حالت خراب ہورہی ہے۔ کسانوں کا حال برا ہوگیا ہے ، پیداوار کی لاگت میں روز بروز اضافہ اور قیمت میں کمی ہورہی ہے۔ لاہور میں 200 ارب روپے کی لاگت سے اورنج میٹرو کا منصوبہ بنایا جارہا ہے اگر یہی رقم کسانوں کی فلاح پر لگائی جاتی تو ملک میں غربت کم ہوجاتی، کسان خوشحال ہوتا اور ملک میں بے روزگاری میں کمی آتی۔ نواز شریف عوام کے پیسے سے صرف اشتہارات میں ہی بجلی پیدا کرتے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ اگر عالمی منڈی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ڈیزل کی قیمت 20 روپے فی لیٹر کم ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا، اگر ایسا ہوتا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ کسانوں کو ہوتا لیکن نواز شریف ہمیشہ امیروں کو نوازتے ہیں،ان کے دور میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوجاتا ہے جب کہ مغربی ممالک میں حکومتیں امیروں سے ٹیکس وصول کرکے اسے غریبوں پر خرچ کرتی ہیں، جہاں بے روزگاری الاو¿نس ملتا ہے، علاج معالجے اور تعلیم مفت ہے، قائد اعظم بھی پاکستان کو ایسی ہی اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ نواز شریف کا مشن بڑے بڑے منصونے بناکر کمیشن پیدا کرنا اور اسے بیرون ملک اپنے بچوں کے پاس بھیجنا ہے۔ میں دیگر ممالک میں جاکر اپنے ملک میں پیسے لاتا ہوں لیکن وزیر اعظم اپنے ملک کی دولت باہر کے بینکوں میں رکھتے ہیں۔ نواز شریف اپنے اثاثوں کا علان کریں اور بتائیں کہ بیرون ملک ان کے اور اسحاق ڈار کے کتنے اثاثے ہیں۔ ملک میں بادشاہت کرنے والے اپنی جماعتوں میں الیکشن بھی نہیںکراتے اب بادشاہت اور نئے پاکستان کے نظریئے میں مقابلہ ہونے جارہا ہے۔

عمران خان نے پیآئی اے ملازمین پر فائرنگ کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کردیا

446230-imrankhan-1454742078-220-640x480

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے ملازمین پر فائرنگ کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیاجائے کیونکہ کل کسی دوسری سیاسی جماعت یا مزدور کی باری ہوگی جب کہ وزیراعظم پی آئی اے ملازمین سے بات کریں کیونکہ مسافر متاثر ہورہے ہیں۔
کراچی میں پی آئی اے ملازمین سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کو سمجھایا جاتا ہے۔ بندوقوں یا لازمی سروسز ایکٹ کی تلوار لٹکانے سے مسئلے حل نہیں ہوتے، اگر کسی کو انصاف نہیں ملتا تو احتجاج حق ہے، پرامن احتجاج سب کاحق ہے، اگر پی آئی اے کے ملازمین نجکاری سے مستقبل خطرے میں سمجھتے ہیں تواحتجاج ان کاحق ہے،پی آئی اے ملازمین کوئی ناجائزمطالبہ نہیں کرر ہے۔ نہتوں پر گولی چلانا غیر قانونی ہے، فائرنگ کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیاجائےکیونکہ کل کسی دوسری سیاسی جماعت یا مزدور کی باری ہوگی، وزیراعظم پی آئی اے ملازمین سے بات کریں کیونکہ مسافر متاثر ہورہے ہیں۔
اس سے قبل بنی گالہ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حکومت کی پالیسی خوفناک ہے، دنیا بھر کی فلاحی حکومتیں امیروں سے ٹیکس لے کرعوام پرخرچ کرتی ہے لیکن پاکستابن میں غریبوں پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا جارہا ہے اور امیروں کو چھوٹ دی جارہی ہے۔ ڈیزل پر 98 فیصد ٹیکس لیا جارہا ہے۔ 200 ارب روپے کے قرضے سے اورنج لائن بنائی جارہی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ نجکاری ہر مسئلے کا حل نہیں، اس سے صرف انتظامیہ بدلے گی، کسی بھی ادارے کی نجکاری سے پہلے عوامی فورم پر اس سلسلے میں مشاورت ہونی چاہیے، اپوزیشن کا کام ہے کہ حکومت سے سوال کرے، پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ پارلیمنٹ میں زیر بحث ہی نہیں لایا گیا۔ یہ بتایاجائےکہ پی آئی اےکی نجکاری کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے،پی آئی اے کے ملازمین پر گولیاں چلائی گئیں جس پر افسوس ہوا۔

حکمران قوم کی دولت عیاشیوں اورمیٹروٹرین پرخرچ کررہے ہیں، عمران خان

441984-ImranKhan-1454147066-717-640x480
پشاور: تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ جو رقم قوم پرلگنی چاہئے وہ عیاشیوں اورمیٹروٹرین پرخرچ ہورہی ہے۔
پشاور میں تقریب سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ صحت اورتعلیم کے منصوبوں پر توجہ دینے سے قوم ترقی کرتی ہے۔ اس وقت ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول ہی نہیں جاتے لیکن حکومت کو اس کی پروا نہیں، قومی دولت ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقے پر لگائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو رقم قوم پرلگنی چاہئے وہ عیاشیوں اورمیٹروٹرین پرخرچ ہورہی ہے، خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ رقم تعلیم اورصحت پرلگائی جارہی ہے کیونکہ قومی دولت انسانوں پر لگانا ہی اصل سرمایہ کاری ہے، جو قوم کی تعمیر کرتے ہیں انہیں قرضے نہیں لینے پڑتے۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھاکہ ہمارے حکمرانوں کی دولت بیرون ملک میں ہے، وہ خود ٹیکس نہیں دیتے اس لئے عوام بھی ٹیکس ادا نہیں کرتے اوراس کا بوجھ عوام پرڈالاجارہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل 80 فیصد سستاہواجس کا عوام کو فائدہ نہیں پہنچا۔ وہ واحد سیاستدان ہیں جسے قوم دل کھول کرپیسے دیتی ہے۔ اگران کی حکومت آئی تو اسی عوام سے ٹیکس وصول کرکے دکھائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ اگرہمیں اپنے اداروں کو بچانا ہے تو ان کے خود مختاربورڈ ہونے چاہئیں، اگر پچھلے ڈھائی برسوں میں خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو اس کا مطلب ہے وہ اورپرویزخٹک ناکام ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ غیرسیاسی صرف جانورہوتے ہیں، ہرن سیاسی ہوں تومل کرشیرپرحملہ کردیں، اگر100 ہرن مل کر شیرپرحملہ کردیں تووہ بھاگ جائے گا۔