Friday , October 30 2020
تازہ ترین
Home / خواتین / ابتدائی عمرمےں عدم توجہی،بچوں کی شخصےت مےں بگاڑ کا سبب

ابتدائی عمرمےں عدم توجہی،بچوں کی شخصےت مےں بگاڑ کا سبب

11

بچوںکے لئے ابتدائی اےام بہت اہمےت کے حامل ہوتے ہےں،ابتدائی عمر مےںعدم توجہی ان کی شخصےت مےںبگاڑ کاسبب بنتی ہے۔ والدےن کابچوں کی شخصےت بنانے مےں بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ انڈی پنڈنٹ تھنک ٹےنک ڈےموس نے گذشتہ چالےس برسوں مےں انگلےنڈ مےں پےدا ہونے والے تےس ہزار بچوں پر تحقےق کی، اس تحقےق کے مطابق جووالدےن ابتدائی اےام مےں بچوںکی تربےت پرتوجہ نہےں دےتے بڑے ہوکر ان کی شخصےت کے بگڑنے کے امکانات زےادہ ہوتے ہےں۔اس تحقےق کے مطابق جووالدےن بچوں پر ضرورت سے زےادہ اپنی مرضی مسلط کرتے ہےںان کی شخصےت بھی بننے کی بجائے بگڑتی ہے۔ اس تحقےق کے مطابق دس برس تک بچوں کو محبت، توجہ اور پےار کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ےہ دس برس ان کی شخصےت کوبنانے مےںاہم ہوتے ہےں۔ 15سے 16برس کے بچوں کو نظم و ضبط سکھانے کی ضرورت زےادہ ہوتی ہے لےکن ان کوڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہےں ہوتی کےونکہ اس عمر کے بچوںکو ڈانٹ ڈپٹ کر بات نہےں منوائی جاسکتی۔ ٹےن اےجرز صرف پےار کی بات مانتے ہےں۔اس کے علاوہ والدےن اپنے بچوں کے جتنا زےادہ قرےب ہوں گے، ان کے بچے بڑے ہوکر کم بری عادات کواپنائےںگے۔ مغربی معاشرے مےں والدےن بچوں کومار پےٹ سے گرےز کرتے ہےں کےونکہ ان کے قوانےن بچوں کے لئے ہوتے ہےں اسی لئے محققےن کے نزدےک والدےن صرف پےار کی زبان سے سمجھا جاسکتے ہےں۔اس رپورٹ کے سربراہ جےمی بارٹلےٹ کے نزدےک مغرب مےں والدےن خود بچوں کا مستقبل بنااوربگاڑ سکتے ہےں۔ماں بچے کی تربےت مےں بہت اہم کردار اداکرتی ہے لےکن اگر بچے کو چھوٹی عمر مےں مختلف کام کرنے سے روکا جائے تو وہ نہ صرف ضدی ہوجاتے ہےں بلکہ ان کی ذہنی نشوونما پر بھی منفی اثرات ہوتے ہےں اور ان کی شخصےت ادھوری رہتی ہے، اس خامی کوساری عمر دورنہےں کےا جاسکتا۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض مائیں چھوٹے بچوں کی بدتمیزیوں اور بے ادب لہجے کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتی ہیں کہ ابھی بچہ ہے بڑا ہوگا تو خود ہی سمجھ جائے گا۔ ےہ طرےقہ بھی ٹھےک نہےں کےونکہ بچہ ڈھیل پا کر مزید سرکشی اور گستاخی پر اتر آتا ہے۔ ماں باپ چاہے کسی بھی کلاس سے تعلق رکھتے ہوں ، بچے ان کی یکساں توجہ اور محبت کے طالب ہوتے ہیں۔ والدےن کی قربت بچے کو تعمیری اور تخرےبی کارروائےوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ ےورپی محققےن کے نزدےک جن بچوںکووالدےن کی توجہ نہےں ملتی وہ34برس کی عمر مےں پہنچنے پرشراب نوشی کا استعمال شروع کردےتے ہےں۔ عہد حاضر اپنی بہت ساری بے سروسامانیوں کے ساتھ والدین اور اولاد میں رابطے اور تربیت کے تعلق کا فقدان بھی لایا ہے۔ وقت کی کمی، دفتری مشغولیات اور الیکڑونک میڈیا کی بہتات نے والدین کی طرف سے اولاد کی تربیت کے سلسلے میں ایسے خلاءپیدا کردیئے ہیں جو تمام عمر نہیں بھرسکتے۔

About geopakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*