تازہ ترین
Home / سپورٹس / پاکستان کھیلوں کیلیے پ±ر امن ملک ہے، عامر خان

پاکستان کھیلوں کیلیے پ±ر امن ملک ہے، عامر خان

591911-BoxerAamirKhanPhotoFile-1472244469-884-640x480
لاہور: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نڑاد برطانوی باکسر عامر خان نے کہاکہ پاکستان کھیلوں کے لیے پرامن ملک ہے، یہاں باکسنگ کا بہت ٹیلنٹ موجود بس اسے نکھارنے کی ضرورت ہے، پاکستان کو باکسنگ میں بلندیوں پر لے جانا چاہتا ہوں۔فاسٹ بولر تھا لیکن پروفیشن اور جنون باکسنگ سے ہی وابستہ ہے،کوئی بھی ٹائٹل جیتنے سے زیادہ مشکل اس کا دفاع کرنا ہوتا ہے، میری اگلی فائٹ آئندہ سال جنوری یا فروری میں ہوگی۔لاہور داتا دربار میں حاضری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ میرا تعلق راولپنڈی سے ہے، ہم چھوٹی عمر سے گرمیوں کی چھٹیاں پاکستان میں گزارتے تھے اور اس وقت سے آمد کا سلسلہ جاری ہے، مداحوں سے کبھی نہیں گھبرایا، وہ جب بھی سیلفیزکی فرمائش کرتے ہیں تو میں انکار نہیں کرتا، باکسنگ کا آغاز 8 سال کی عمر میں کردیا تھا، پاکستان سے تعلق ہونے کی وجہ سے کرکٹ سے لگاﺅ ضرور ہے، میں فاسٹ بولنگ کرتا تھا لیکن پروفیشن اور جنون باکسنگ سے ہی وابستہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ باکسنگ میں سخت لیکن زندگی میں ذمہ دار شہری ہوں، پاکستان میں باکسنگ کا بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے صرف اس کو نکھارنے کی ضرورت ہے۔عامر خان نے بتایا کہ میری اہلیہ مجھے اردو سکھاتی ہیں، اردو اتنی زیادہ بولنی نہیں آتی لیکن کوشش ضرور کرتا ہوں، اپنی ذاتی زندگی کے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے بتایا کہ فریال سے نیویارک میں ڈنر پر ملاقات ہوئی اور میں نے ہی شادی کے لیے پرپوز کیا تھا، فریال کو باکسنگ کے متعلق کچھ خاص نہیں پتہ، جب میں نے شادی کے لیے پرپوز کیا تو اس نے بات والدین پر ڈال دی تھی جس کے بعد میں نے اپنے اہل خانہ کو ان کے گھر بھیجا اور شادی انجام پائی، فریال بہت کہتی ہیں کہ اب باکسنگ کو خیرباد کہہ دو لیکن میرا ابھی بہت کیریئر باقی ہے، میں صرف 29 سال کا ہوں، میرا خواب تھا کہ ورلڈ چمپئن بنوں جس کے لیے میں نے جرمنی کے 35 سالہ ورلڈ چمپئن کو چیلنج کیا اور کامیاب رہا، عامر خان نے بتایا کہ ایک فائٹ کے دوران میں پہلے ہی راو¿نڈ سے باہر ہوگیا تھا، اپنی اس شکست سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور وہ فائٹ مجھے ابھی تک یاد ہے جس کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔برطانوی باکسر نے کہا کہ17سال کی عمر سے اولمپکس میں شرکت کر کے کامیابیوں کا سلسلہ شروع کیا۔، جب باکسنگ شروع کی تو دن میں 4 سے 5 گھنٹے سخت ٹریننگ کرتا تھا، پاکستان میں اسلام آباد کے جناح اسٹیڈیم میں باکسنگ کی ہے، کوئی بھی ٹائٹل جیتنے سے زیادہ مشکل ٹائٹل کا دفاع کرنا ہوتا ہے کیونکہ آپ ذہن میں سوار کر لیتے ہیں کہ اس فائٹ کو کسی صورت نہیں ہارنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور انگلینڈ سے قطع نظر پوری دنیا کے مسلمان مجھے سپورٹ کرتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ ابھی حالیہ دنوں میں تھر وغیرہ کا دورہ کر کے آیا ہوں جہاں میں نے دیکھا کہ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں جسے دیکھ کر بہت افسوس ہوا، ایسے ہی لوگوں کی مدد کے لیے میں عامر خان ٹرسٹ اور فاﺅنڈیشن کا قیام عمل میں لایاہوں، جب بھی قدرتی آفات سے تباہی ہوئی ہم نے متاثرین کی مدد کی، خیرات اور امداد دینے کے متعلق انھوں نے بتایا کہ پاکستانی اس معاملے میں اپنی مثال آپ ہیں، لوگ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں اور ہماری فاﺅنڈیشن میں رقم اور عطیات جمع کراتے ہیں، میرے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے لوگوں کی طرف سے عطیہ کی گئی ایک ایک پائی اسی مقصد کے لیے خرچ کی جاتی ہے جس کیلیے حاصل کی جاتی ہے۔عامر خان نے بتایا کہ میرا یقین ہے کہ آپ جتنا زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے وہ اتنا زیادہ آپ کو نوازے گا، فیملی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ اب میں ایک والد بھی ہوں اور میری بہت پیاری بیٹی ہے، میری اگلی فائٹ آئندہ سال جنوری یا فروری میں ہوگی۔

About geopakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>