تازہ ترین
Home / بزنس / صنعتی بجلی مہنگی؛ 130ارب کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز

صنعتی بجلی مہنگی؛ 130ارب کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز

518393-electricityfile-1463995353-383-640x480

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2016-17 کے وفاقی بجٹ کاحجم 4500 ارب روپے لگ بھگ رکھے جانے کا امکان ہے۔اس ضمن میں وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق بجٹ کے مسودے اور 3 سالہ میڈیئم ٹرم بجٹری فریم ورک کے مسودے کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔بجٹ اہداف و بجٹآوٹ کلے سمیت دیگراہداف کی حتمی منظوریکے لیے 28 مئی کو اعلی سطح کااجلاس ہوگاجبکہ رواںہفتے سالانہ منصوبے کی رابطہ کمیٹی(اے پی سی سی) کااجلاس ہوگااور اسکے بعد وزیراعظم کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل (ایکنک)کااجلاس ہوگاجس میںاگلے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جائیگی، یکم جون کو اقتصادی سروے جاری کیے جانے کاامکان ہے۔علاوہ ازیں2 جون کو پارلیمنٹ کامشترکہ ہوگااور 3 جون کو بجٹ اجلاس ہوگاجبکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میںسرکاری ملازمین کی تنخواہوںاور پنشن میںاضافہ سمیت الاﺅنسز میںاضافہ کی منظوری دی جائے گی۔ ”ایکسپریس“ کو دستیاب بجٹ کے ابتدائی مسودے میںدیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے دفاعی بجٹ860 ارب روپے، پی ایس ڈی پی کاحجم855 ارب روپے ، ٹیکس وصولیوںکاہدف 3620ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔قرضوںپر سود کی ادائیگی کیلئے1420 ارب روپے،پنشن کی ادائیگی کیلئے 245ارب روپے، وفاقی حکومت کے سروس ڈلیوری کے اخراجات کیلئے 348ارب روپے،سبسڈیز کیلئے169 ارب روپے، صوبوں کو گرانٹس کی ادائیگی کیلئے 40ارب روپے، دیگر گرانٹس کی مد میں542ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے بجٹ میںٹیکسوںچھوٹ و رعایات کے ایس آر اوز کی واپسی کے ذریعئے 130 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز بھی ہے اس کے علاوہ انتظامی اقدامات و اصلاحات اور براڈننگ ا?ف ٹیکس بیس کے ذریعے بھی 100 ارب روپے سے زائد کااضافی ریونیو اکٹھاکرنے کاہدف مقرر کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔دستاویز کے مطابقآئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے مالیاتی خسارے کاہدف 3.8فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کاہدف 6.2فیصد،انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح کاہدف 18.7فیصد، مہنگائی کی شرح کاہدف6 فیصد،ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کاہدف12.7 فیصد،جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضوں کی شرح کاہدف 59.4فیصد، ذرمبادلہ کے ذخائر کاہدف23.6 ارب ڈالر مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔علاوہ ازیںبجٹ خسارے کاہدف 3.8فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ دفاعی بجٹ 860ارب روپے، قرضوںپر سود کی ادائیگی کے لیے 1420 ارب روپے،پنشن کی ادائیگی کے لیے 245ارب روپے، وفاقی حکومت کے سروس ڈلیوری کے اخراجات کے لیے 348ارب روپے،سبسڈیز کے لیے169 ارب روپے، صوبوںکو گرانٹس کی ادائیگی کے لیے 40ارب روپے، دیگر گرانٹس کی مد میں542ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2016-17کے وفاقی بجٹ میںذائقہ دار دودھ اور غذائیت بھرے ڈبہ پیک دودھ سمیت دیگراقسام کے پیک ش±دہ دودھ اور ڈیری مصنوعات پر17فیصدسیلز ٹیکس کی شرح میںاضافہ کیے جانیکاامکان ہے البتہ کھ±لے دودھ اور عام دودھ پرسیلز ٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھی جائے گی۔دستاویز کے مطابق اسٹیل میلٹرزو اسٹیل ری ر±ولرز اورشپ بریکنگ انڈسٹری کیلئے بجلی کے استعمال پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح 9روپے سے بڑھاکر12 روپے فی یونٹ کیے جانیکاامکان ہے۔ذرائع کے مطابق کئی وزارتوںاور ڈویڑنوںکے ترقیاتی بجٹ کو کٹ لگ گیاہے۔145ارب روپے ٹی ڈی پیزاور وزیر اعظم یوتھ پروگرام ،فاٹا،جی بی اور آزاد کشمیر کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے،وفاقی پی ایس ڈی پی کابراحصہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر خرچ کیاجائے گا،جوکہ 455ارب روپے سی پیک اور 200ارب روپے توانائی منصوبوںکیلئے مختص کئے جانے کاامکان ہے،حکومت نے این ای سی کااجلاس 30 مئی کو طلب کر لیاہے،تاکہ اگلے مالی سال کے مائیکرو اکنامک فریم ورک اور ترقیاتی پلان کی منظوری دی جاسکے۔

About geopakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>