جمعرات , جولائی 9 2020
تازہ ترین
Home / صحت / ماں کے دودھ میں طاقتورترین اینٹی بایوٹک جزو کا انکشاف

ماں کے دودھ میں طاقتورترین اینٹی بایوٹک جزو کا انکشاف

437640-medicine-1453546230-852-640x480

لندن: برطانوی ماہرین نے ماں کے دودھ میں ایک طاقتور اینٹی بایوٹک جزو دریافت کیا ہے جو اب تک تمام دوا کے سامنے سخت جاں ثابت ہونے والے بیکٹیریا کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔
برطانوی ماہرین نے ماں کے دودھ میں ایک طاقتور اینٹی بایوٹک جزو دریافت کیا ہے جو اب تک تمام دوا کے سامنے سخت جاں ثابت ہونے والے بیکٹیریا کو بھی تباہ کرسکتا ہے جب کہ اس اہم دریافت سے خطرناک بیکٹیریا ( سپربگز) سے پھیلنے والے امراض کا علاج ممکن ہوگا جس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہرسال ہلاک ہورہے ہیں۔یہ اینٹی بایوٹک جزو نیشنل فزیکل لیبارٹری کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس سے سِکل سیل انیمیا جیسی جینیاتی بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہوسکے گا۔ نیشنل فزیکل لیبارٹری کے چیف میڈیکل افسر ڈیمے سیلی ڈیویز نے خبردار کیا ہے کہ وہ اندھا دھند اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ اس سے جراثیم طاقتور بن رہے ہیں جو دواو¿ں کو بے اثر بنارہے ہیں اس لیے ہمیں ہر عشرے میں 10 نئی اینٹی بایوٹکس درکار ہیں اور عالمی سطح پر اس میں بہت سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے نئی اینٹی بایوٹکس نہ بنائیں تو 2050 تک 1000 ارب ڈالر کی رقم ان امراض کے علاج پر خرچ ہوگی اور قریباً 1 کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔

About geopakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*