تازہ ترین
Home / دنیا

دنیا

ڈاکٹر ذاکرنائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ سینٹر کو لائسنس دینے والے 4 افسران معطل

596689-zakirnaik-1472799081-837-640x480

ممبئی: بھارتی وزارت داخلہ نے ذاکر نائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ سینٹر (آئی آر سی) کو فارن کنٹریبیوشن ایکٹ (ایف سی آر اے) لائسنس جاری کرنے پر 4 افسران کو معطل کردیا۔معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کافی عرصے سے بھارتی انتہا پسندوں کے عتاب کا شکار ہیں اور اب ان کے بین الاقوامی ادارے ”اسلامک ریسرچ سینٹر“ کو بھی مسلمان دشمنی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اسلامک ریسرچ سینٹر کو فارن کنٹریبیوشن ایکٹ لائسنس جاری کرنے پر اپنے 4 افسران کو معطل کردیا ہے۔ یاد رہے کہ بھارت میں کوئی بھی غیر سرکاری تنظیم بیرونی ممالک سے فنڈ یا عطیات ایف سی آر اے سے حاصل شدہ لائسنس کی بنیاد پر ہی حاصل کرسکتی ہے۔بھارتی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ذاکر نائیک کے خلاف ابھی تک کوئی بھی مقدمہ درج نہیں ہے تاہم ان کے اور ان کے ادارے کے خلاف تفتیش جاری ہے اس لئے انہیں لائسنس نہیں دیا جانا چاہیئے تھا، غفلت کے مرتکب 4 افسران کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ڈاکٹرذاکرنائیک رواں برس جولائی میں بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کے ریسٹورنٹ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے بھارتی اور بنگلا دیشی میڈیا کی زد میں ہیں، بنگلا دیش کے ریسٹورنٹ پر حملے میں غیر ملکیوں سمیت 28 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ بنگلا دیش کی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حملہ آور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بیانات سے متاثر تھے۔ڈھاکا میں ہونے والے حملے کے بعد بنگلا دیش میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے چینل پیس ٹی وی پر پابندی عائد کردی گئی تھی جب کہ بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ نے ممبئی پولیس کو ذاکر نائیک کی تقاریر، مضامین اور ان کے ادارے کی فنڈنگ کی تفتیش کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں 50 ویں روز بھی کرفیو، کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی

592097-CurfewWeb-1472284101-961-640x480
سری نگر / دنئی دلی: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے نافذ کرفیو 50 ویں روز بھی نافذ ہے جب کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فورسز کی جانب سے وادی میں مسلسل 50 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے ریاست میں غذائی اشیاءاور ادویات کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ کے علاقے کوئل میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا جس کے بعد بھارتی فورسز کی بڑی تعداد نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن کے بہانے گھروں کی تلاشی شروع کر دی ہے۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے نئی دلی میں ملاقات کی اور حست روایت ہرزہ سرائی کرتے مقبوضہ کشمیر میں ہونے بھارت مخالف مظاہروں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا۔گزشتہ روز کرفیو کے باوجود مقبوضہ وادی کے ہر ضلع میں نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد آزادی مارچ اور ریلیاں نکالی گئیں جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی اور پاکستان کے حق اور بھارت کی مخالفت میں نعرے لگائے۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین پر تشدد کر کے ایک نوجوان کو شہید جب کہ درجنوں کو زخمی کردیا تھا۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ تحریک آزادی کے نوجوان کمانڈر بربان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے جنت نظیر وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک 90 کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کا 49 واں روز، حریت رہنما سید علی گیلانی گرفتار

591482-KashmirCurfewWeb-1472207994-410-640x480

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 49 ویں روز بھی کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے غذائی اشیاءکی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جب کہ بھارتی فوج نے بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج کی جانب مقبوضہ وادی میں کرفیوکے نفاذ کو 49 روز ہوگئے جس کی وجہ سے وادی میں اشیائے خردونوش اور دواو¿ں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے وادی کے مختلف اضلاع میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر رکھی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو اپنے پیاروں سے رابطے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اس خبر کو بھی پڑھیں: بھارت کی پوری فوج بھی مقبوضہ کشمیر فتح نہیں کر سکتیدوسری جانب آج کرفیو کے باوجود وادی بھر میں نماز جمعہ کے بعد بھارتی مظالم کے خلاف بری تعداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے پاکستان کے حق اور بھارت مخالفت نعرے لگائے جب کہ بھارت نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیرمین سید علی گیلانی سمیت متعدد رہنماو¿ں کو گرفتار اور درجنوں کو گھروں میں نظر بند کردیا ہے۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ماہ تحریک آزادی کے نوجوان کمانڈر بربان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے جنت نظیر وادی میں بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک 90 سے کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

بھارت کا کشمیریوں پرچھروں والی بندوق کی جگہ ”مرچوں“ سے لیس گن استعمال کرنے پر غور

591465-IOC-1472208167-350-640x480

نئی دلی: عالمی سطح پر بدنامی اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے شدید مذمت کے بعد بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں چھروں کی بندوق ”پیلٹ گن“ کی جگہ مرچوں سے لیس اسلحہ استعمال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی جانب سے معصوم کشمیریوں پر پیلٹ گن کے استعمال پر عالمی سطح پر بھارت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے بعد اب بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں بھارت مخالف مظاہروں کے دوران پیلٹ گن کی جگہ مرچوں سے لیس ”پاوا شیلز“ استعمال کرنے پر غور کررہی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ”پاواشیلز“ جب فائر کئے جاتے ہیں تو اس دوران مظاہرین کچھ دیر کے لئے حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتے جب کہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی گزشتہ رو اپنے بیان میں کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جلد پیلٹ گن کا متبادل متعارف کرادیا جائے گا۔واضح رہے کہ کشمیر میں گزشتہ 2 ماہ سےمقبوضہ بھارتی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر چھروں والی گنوں کے بے دریغ استعمال کے نتیجے میں اب تک سیکڑوں معصوم کشمیری بینائی سے محروم اور درجنوں معذور ہو چکے ہیں۔

ترکی میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے میں 9 اہلکار ہلاک، 50 سے زائد زخمی

591359-image-1472195096-983-640x480

انقرہ: ترکی کے شہر سزری میں پولیس ہیڈ کوارٹر پرحملے کے نتیجے میں 9 اہلکار ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کے شہر سزری میں خود کش بمبار نے کار پولیس ہیڈ کوارٹر کے قریب لا کر دھماکے سے اڑا دی جس کے نتیجے میں 9 اہلکار موقع پر ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے جب کہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ پولیس ہیڈ کوارٹر کی عمارت زمین بوس ہوگئی۔ دھماکے کے فوری بعد امدادی ٹیموں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی جب کہ امدادی کاموں میں معاونت کے لئے ہیلی کاپٹر بھی بھیج دیا گیا۔دوسری جانب سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکا پولیس ہیڈ کوارٹر کے کنٹرول روم سے 50 میٹر دوری پر کیا گیا جب کہ دھماکا کردش ورکرز پارٹی کے شرپسندوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق دھماکا ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب ترکی کی مسلح افواج نے شام کے سرحدی علاقے میں داعش اور کردش باغیوں کے خلاف اتحادی افواج کے ساتھ مشترکہ ا?پریشن شروع کیا جب کہ پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملہ اسی کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔

جرمن چانسلر انجیلا مرکل پر قاتلانہ حملے کی کوشش ناکام

591316-engla-1472194787-915-640x480

پراگ: دنیا کی طاقتور ترین خاتون جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو جمہوریہ چیک کے دارلحکومت پراگ میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی جسے پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق جرمن چانسلر جمہوریہ چیک کے پراگ ائیرپورٹ سے وزیر اعظم کے دفتر جارہی تھیں کہ ایک سیاہ رنگ کی کار نے ان کے قافلے میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا لیکن کارسوار ملزم تیزی سے کانوائے کی جانب بڑھتا رہا جس پر پولیس اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے کانوائے سے کچھ ہی فاصلے پر حراست میں لے لیا۔ کار کی تلاشی کے دوران آنسو گیس شیل، ہتھکڑی، ڈنڈا اور خود کار ہتھیار بھی برآمد ہوا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی۔واضح رہے کہ چرمن چانسلر انجیلا مرکل کو دنیا کی طاقتور ترین خاتون ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور وہ گزشتہ 6 برس سے مسلسل یہ اعزازحاصل کرنے والی بھی دنیا کی واحد خاتون ہیں۔ رواں برس جون میں بھی امریکی میگزین فوربز نے دنیا کی 100 طاقتور خواتین کی فہرست جاری کی جس میں انجیلا مرکل کو پہلا نمبر دیا گیا جب کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن اس فہرست میں مسلسل دوسرے سال بھی دوسرے نمبر پر براجمان ہیں۔

بھارتی وزیرداخلہ راجیا سبھا میں اپنی لاعلمی پر پاکستان کو کوستے رہے

575479-RAJNATHSINGH-1470385988-348-640x480

نئی دلی: بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے شکوہ کیا ہے کہ سارک وزرائے داخلہ کانفرنس میں بھارتی میڈیا کو ان کی تقریردکھانے کی اجازت نہیں دی گئی اور صرف میزبان ملک کو ہی یہ موقع دیا گیا۔بھارتی راجیا سبھا (سینیٹ) میں دورہ پاکستان کی تفصیلات بتاتے ہوئے راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ انڈین نیوز ایجنسی اور دیگر میڈیا کو ان کی تقریر براہ راست دکھانے نہیں دیا گیا تاہم بھارتی وزیرداخلہ شاید بھول گئے ہیں کہ سارک اجلاسوں کا یہ اصول ہے کہ میزبان ملک کی استقبالیہ تقریر میڈیا کے سامنے پیش کی جاتی ہے جبکہ بقیہ کارروائی ان کیمرہ ہوتی ہے جس میں مختلف امور پر ا?زادانہ طور پراظہارخیال کیا جاتا ہے۔
اراکین سینیٹ نے پاکستانی حکام کی جانب سے غیرمناسب رویہ سے متعلق سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں یہ کہنے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہوں کہ میرے ساتھ معیاری اور پروٹوکول کے مطابق برتاو¿ کیا گیا جب کہ گزشتہ روز مودی حکومت یہ راگ لاپتی رہی تھی کہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ پاکستان میں مناسب رویہ اختیار نہیں کیا گیا تاہم انہی کے وزیرداخلہ کے سینیٹ میں بیان کے بعد بھارتی حکومت کی غلط بیانی کی کلی کھل گئی ہے۔راج ناتھ سنگھ کا ایوان میں کہنا تھا کہ پاکستانی ہم منصب چوہدری نثار کی جانب سے تمام وزرائے داخلہ کو ظہرانے کی دعوت دی گئی لیکن جب کھانے کا وقت ا?یا تو وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے جس کے بعد میں بھی وہاں سے ہوٹل کی جانب روانہ ہوگیا۔واضح رہے کہ سارک وزرائے داخلہ کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انھیں اپنے بھارتی ہم منصب راج ناتھ سنگھ کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا کہ کیا وہ ظہرانے میں شریک ہوں گے، جس پر انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی تھی کہ انھیں وزیراعظم ہاو¿س میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کرنی ہے۔

پاک بھارت ویمنز کرکٹ سیریز یواے ای میں منعقد ہونے کا امکان

571747-PakIndWomenCricketWeb-1470022885-294-640x480

لاہور: پاکستان اور بھارت کے مابین ویمنز کرکٹ سیریز یواے ای میں ہونے کا امکان ہے، دونوں ملکوں کو اگست سے اکتوبر کے درمیانآئی سی سی چیمپئن شپ میچز کھیلنا ہیں۔شیڈول کے مطابق سیریز کی میزبانی پاکستان کو کرنا ہے، پاکستان ان مقابلوں کی میزبانی نیوٹرل وینیو یواے ای میں کرنے کا خواہاں ہے، اس حوالے سے دی جانے والی تجویز پر بھارتی کرکٹ بورڈ کا آئی سی سی کو جواب اگست کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ پی سی بی حکام سیریز کی میزبانی کے حوالے سے پر امید ہیں۔ یاد رہے کہ بی سی سیآئی طویل ٹال مٹول کے بعد پاکستان مینز ٹیم کی ہوم سیریز یواے ای میں کھیلنے سے انکارکرچکا ہے۔

سعودی عرب؛ تنخواہیں نہ ملنے سے سیکڑوں پاکستانی فاقہ کشی پر مجبور

571785-PakistaniinSaudiaWeb-1470019518-351-640x480

جدہ:سعودی عرب میں تنخواہیں نہ ملنے کے باعث سیکڑوں پاکستانی فاقہ کشی پر مجبور ہیں جب کہ پاکستانی سفارتخانے نے بھی مشکلات سے دوچار اپنے ان شہریوں کی معاونت کے لیے تاحال کسی قسم کے اقدام نہیں کیے۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی اوجر کمپنی کے سیکڑوں پاکستانی کارکن ان دنوں انتہائی کسمپری کی زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔ کمپنی کے بعض ملازمین کا کہنا ہے کہ انھیں گزشتہ 8 ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی اور اس کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہے کہ کمپنی نے دمام، جدہ اور ریاض میں موجود کیمپوں میں اپنے میس بھی بند کر دیے ہیں جس سے کارکنوں کو کھانے پینے کی اشیا حاصل کرنے میں سخت دشواری کا سامنا ہے۔پاکستانی شہریوں کا کہنا ہے کہ انھیں گزشتہ 4 دن سے خوراک کی عدم دستیابی کے باعث انتہائی مشکلات درپیش ہیں اور فاقہ کشی پر بھی مجبور ہو چکے ہیں۔ کمپنی نے ان کی تمام سفری دستاویزات بھی ضبط کر رکھی ہیں ان کے ساتھ ساتھ اقامے بھی ختم ہو چکے ہیں جس کے باعث اپنے کیمپوں سے باہر بھی باہر نہیں جا سکتے ہیں جبکہ کیمپ میں بھی اشیائے ضرورت دستیاب نہیں ہیں۔ اگرفوری طور پر حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں اقدام نہ کیے تو کوئی بڑا انسانی سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔ان پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے متعدد بار پاکستانی سفارتخانے کو صورتحال سےآگاہ کیا لیکن سفارتخانے کی جانب سے محض تسلیاں دی جا رہی ہیں، عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ پاکستانی شہریوں نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے انھیں اس مشکل سے نجات دلائیں۔بی بی سی کے مطابق سعودی عرب میں بہت سی کمپنیاں بند ہو گئی ہیں اور وہاں موجود کئی بھارتی بیروزگار ہو گئے ہیں یا پھر انھیں تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں 10 ہزار بھارتی شہری کھانے کی قلت کا شکار ہیں۔ انھوں نے سعودی عرب میں رہنے والے30لاکھ بھارتیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے انڈین بھائی بہنوں کی مدد کریں۔ بھارتی سفارتخانے کو بھی بیروزگار بھارتی کارکنوں کو مفت کھانا فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

کابل میں امریکی فوج کے کمپاو¿نڈ پر خود کش حملہ، مقابلے میں 2 حملہ آور بھی ہلاک

571892-AfghanistanAttackWeb-1470027502-213-640x480

کابل: افغان دارالحکومت میں بگرام ایئر بیس کے قریب غیر ملکی فوجیوں کے لاجسٹک کمپاو¿نڈ پر خود کش حملہ کیا گیا جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خود کش حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک افغان دارالحکومت کابل میں بگرام ایئر بیس کے قریب واقع غیر ملکی فوجیوں کے لاجسٹک کمپاو¿نڈ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دیا جس کے نتیجے میں حملہ آور موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جس کے بعد خود حملہ آوروں کے ساتھیوں نے فائرنگ شروع کردی تاہم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں 2 دہشت گردی بھی مارے گئے۔طالبان نے غیر ملکی فوجیوں کے کمپاو¿نڈ پر خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوئے جب کہ حملہ آور کمپاو¿نڈ کے اندر بھی داخل ہو گئے تھے۔ دوسری جانب افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو فوجی کمپاو¿نڈ میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا، حملے کے بعد کابل میں غیر ملکیوں کے لئے سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔