تازہ ترین
Home / پاکستان

پاکستان

1965 کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا،ایئرچیف مارشل کا اعتراف

596239-AIRCHIEF-1472807145-412-640x480

نئی دلی: بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہماری فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑادہلی میں ایرو اسپیس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی ایئرچیف مارشل اروپ راہا کا کہنا تھا کہ 1965 کی جنگ میں بھارتی حکومت نے پوری طرح فضائی طاقت کا استعمال نہیں کیا جس کی وجہ سے پاکستانی جنگی طیاروں نے مشرقی پاکستان (بنگلادیش) سے بھارتی ایئربیسز، انفرااسٹرکچر اور ایئرکرافٹ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایئرفورس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا لیکن 1971 میں پہلی مرتبہ فضائیہ کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا اور بھارت کی تینوں افواج نے مل کر بنگلادیش بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔بھارتی ایئرچیف مارشل کا کہنا تھا کہ 1947 میں جموں کشمیر پر حملہ فضائیہ کا منصوبہ تھا جس نے بھارتی فوج کو مسلح کرنے کے ساتھ جنگ کے میدان تک پہنچنے میں مدد کی لیکن حکومت کی جانب سے معاملے کو فوج کے ذریعے حل کرنے کے بجائے اقوام متحدہ کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تو یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہوسکا اورآزاد کشمیر اب تک ہمارے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سازگار ماحول بنانے کے لئے فوج کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور ہم بھارت کو محفوظ بنانے کے لئے فضائی طاقت کا استعمال کرنے کے لئے ہر لمحے تیار ہیں۔

بھارتی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف 15 کروڑ مزدور سڑکوں پر آگئے

596727-protestinindia-1472803185-664-640x480

ممبئی: بھارت کی 10 مختلف ٹریڈ یونینز کے 15 کروڑ مزدور اور سرکاری ملازمین ہڑتال پرہونے کے باعث ملک کی بندرگاہیں اور بینکنگ سمیت دیگر شعبے شدید

متاثر ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مساوی حقوق کی دعویدار مودی حکومت کی نامناسب پالیسیوں کی مخالفت میں 15 کروڑ مزدورسڑکوں پر آگئے ہیں۔ سینٹر فارٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہڑتال کے لئے ملک کی 10 مختلف ٹریڈ یونینز نے کال دی جس میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں اورلگ بھگ 15 کروڑ مزدور پورے ملک میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے حکومت کے سامنے 12 نکاتی مطالبات رکھے ہیں جو طویل عرصے سے پورے نہیں ہوئے اور مودی سرکار نے ان مطالبات کی مخالفت کرتے ہوئے ہڑتال کو روکنے کی بھی کوشش لیکن اب احتجاجی مظاہرین مطالبات پورے نہ ہونے پر بغاوت پر بھی اترسکتے ہیں۔
سینٹر فارٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری کے مطابق ٹریڈ یونینز حکومت معاشی اصلاحات کی پالیسیوں کی بھی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ بھارتی حکومت معاشی اصلاحات کی آڑ میں کوئلے کی صنعت ، دوا سازی اور ہوا بازی سمیت دیگر اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی تیاری کرچکی ہے لیکن مزدور تنظیمیں کوئی بھی شعبہ نجکاری میں دینے کے سخت خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ صنعتوں کے سرکاری شعبے کو برقرار رکھا جائے کیوں کہ مزدوروں کو اس بات کا خوف ہے کہ ان شعبوں کی نجکاری کے بعد بڑی تعداد میں ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا جائے گا۔ مطالبات میں مزدوروں کی کی اجرت میں اضافہ اور لیبر قوانین کا مکمل طورپر نفاذ بھی شامل ہیں۔

جمہوریت کی بقا کی لڑائی لڑنے پرترک عوام کوسلام پیش کرتے ہیں، صدرممنون حسین

596750-MAMNOON-1472804092-296-640x480

اسلام آباد: صدر ممنون حسین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہیں جب کہ جمہوریت کی بقا کی لڑائی لڑنے پر ترک عوام کو سلام پیش کرتے ہیں۔َجیو پاکستان کے مطابق صدرممنون حسین سے ترکی کے فارن اکنامک ریلیشنز بورڈ کے وفد کی ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے پراتفاق کیا گیا جب کہ دونوں ممالک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت بھی کی گئی۔ملاقات کے دوران صدرممنون حسین نے ترک عوام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی بقا کی لڑائی لڑنے پرترک عوام کو سلام پیش کرتے ہیں اورہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے صدرمملکت کا کہنا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے ترقی کی نئے راہیں کھلی ہیں جس سے ترکی کو فائدہ اٹھانا چاہیے جب کہ پاکستان اورترکی کے درمیان آزاد تجارت کامعاہدہ جلد طے ہو جائے گا اوردونوں ممالک کو مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ایم کیو ایم نے الطاف حسین کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کرا دی

596719-MQM-1472805296-249-640x480

اسلام آباد: متحدہ قومی مومنٹ پاکستان نے الطاف حسین کے خلاف قرار داد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادی ہے جس میں پاکستان مخالف نعرے لگانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے 24 اراکین اسمبلی نے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف پاکستان مخالف نعرے لگانے پر قرار داد قومی اسمبلی میں جمع کرا دی ہے جس میں پاکستان مخالف نعرے لگانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد میں الطاف حسین کی تقریر کے باعث میڈیا ہاو¿سز پر ہونے والے حملے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان میں شامل اور پاکستان کی حامی ہے لہذا ایم کیو ایم پاکستان کے موقف کو ریاست اور ادارے کھلے دل سے تسلیم کریں جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کے پیروکار تخلیق پاکستان کی جدوجہد کرنے والوں کی اولاد ہیں۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ساجد احمد کو جب اظہار خیال کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے سب سے پہلے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

مردان ضلع کچہری گیٹ پرخود کش حملے میں 13 افراد جاں بحق، 40 زخمی

596616-mardan-1472796239-908-640x480

مردان: ضلع کچہری گیٹ پر خود کش حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور وکلا سمیت 13 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے۔جیو پاکستان کے مطابق خود کش حملہ آور نے مرادن میں ضلع کچہری گیٹ پر پہلے دستی بم پھینکا اور پھر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور وکلائ سمیت کم از کم 13 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے بعد امدادی ٹیموں کے اہلکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کیا جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تعداد وکلا کی ہے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویش ناک ہے، دھماکے کے بعد مردان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جب کہ شدید زخمیوں کو پشاور منتقل کیا جارہا ہے۔مشیر اطلاعت خیبر پختونخواہ مشتاق غنی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور نے سب سے پہلے گیٹ پر دستی بم پھینکا اور پھر اندر داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو دھماکے سے اڑالیا۔ دوسری جانب ڈی پی او مردان کا کہنا ہے کہ پولیس نے خود کش بمبار کو دیکھتے ہی اس پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں حملہ آور نے خود کو گیٹ پر ہی دھماکے سے اڑالیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور نے 6 سے 7 کلو بارودی مواد استعمال کیا۔واقعہ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کرنا شروع کردیے ہیں۔وزیراعظم نواز شریف نے مردان میں دہشت گردوں کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہیمانہ حملہ دہشت گردی کے خاتمہ کے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا جب کہ دہشت گردوں کو پاکستان میں چھپنے کی جگہ نہیں دیں گے، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی مردان دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

بانیان پاکستان کی اولادوں کو مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دینگے، فاروق ستار

596749-farooqsattar-1472804343-586-640x480

اسلام آباد: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ہمیں انگاروں پر چلایا جا رہا ہے اور ہماری حب الوطنی پر سوال اٹھایا گیا ہے جب کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ہمارا بھی کردار ہے لہذا پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔قومی اسمبلی کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی بقا اور سالمیت کے نام پر ایک مرتبہ نہیں کئی مرتبہ قربانیاں دیں، پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ہمارا کردار ہے لہذا پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو مجرم بنا کر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے جب کہ زبردستی وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا اگر ایک شخص کا بیان اصل مسئلہ ہے تو ہم نے قربانی دی ان کو اپنے سے اور ان سے خود کو الگ کیا جب کہ ایم کیو ایم کی پاکستان میں ایک طویل جدوجہد ہے لہذا انصاف کا تقاضہ ہے کہ ملزم کو صفائی کا موقع ملنا چاہئے۔فاروق ستار نے کہا کہ 22 اگست کی تقریر پر آئین اور قانون کے تحت کارروائی کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ 22 اگست کو جو کچھ ہوا وہ ناقابل قبول اور ناقابل برداشت بھی ہے اس لیے ہم نے لندن سے قطع تعلق بھی کیا اور اس کےلیے پارٹی آئین میں ترمیم بھی کی تاہم اس کے باوجود ہمارے فون مانیٹرہورہے ہیں، مصطفیٰ کمال کے لندن اورایم کیوایم پاکستان کی ملی بھگت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال جواب میں فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہماری کوئی ملی بھگت نہیں اور ہم لندن سے مکمل بائیکاٹ کا کہہ رہے ہیں لیکن اگر پھر بھی وہ الزام بغیر ثبوت کے لگاتے ہیں تو اداروں کو ان کی مدد کرنی چاہیے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اگر جیل میں بیٹھے میئر کے گھر کو سب جیل قرار دیا جائے تو ہم اس طریقے سے کام کرکے دکھا سکتے ہیں یا پھر کراچی کے میئر کو پیرول پر رہا کیا جائے اور وہی جیل کی سیکیورٹی ان کے ساتھ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ضمنی انتخابات میں مقابلہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں ہے لیکن ضمنی انتخابات میں کوئی اور مداخلت کررہا ہے یعنی بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔ الطاف حسین پر غداری کے مقدمے کی حمایت کرنے کے سوال پر فاروق ستار کا کہنا تھاکہ نہ وزیراعظم نے غداری کا لفظ استعمال کیا اور نہ ہی کسی اور جماعت نے جب کہ ا?ج قومی اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد میں بھی اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔اس سے قبل قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہمیں انگاروں پر چلایا جا رہا ہے اور ہماری حب الوطنی پر سوال اٹھایا گیا ہے جب کہ ایک بیان کو بنیاد بنا کر سارے طبقے کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ وطن سے ہماری محبت غیرمشروط ہے لہذا نشانہ بنانے کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے والوں کو رد کرنے کا نہیں بلکہ معاملہ پاکستان زندہ باد کہنے والوں کو تسلیم نہ کرنے کا ہے، پاکستان مردہ باد کہنے والوں کو پوری قوم نے رد کردیا اور آج پوری ایم کیو ایم پاکستان ایک طرف کھڑی ہے جب کہ پاکستان مردہ باد کہنے والے ایک طرف کھڑے ہیں لہذا پاکستان زندہ باد کہنے والوں کو سینے سے لگایا جائے۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ بانی نے جب پاکستان سے لکیر کھینچی تو ہم نے بھی لکیر کھینچ دی اور ایم کیو ایم نے خود کوتحریک کے بانی سے لاتعلق کر لیا۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مردان حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت

596819-ArmyChiefWeb-1472810731-314-640x480

مردان: آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ضلع کچہری گیٹ پر ہونے والے خود کش حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مردان میڈیکل کمپلیکس میں ضلع کچہری میں ہونے والے خود کش حملے کے زخمیوں کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہمراہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور کور کمانڈر پشاورنے بھی مردان میڈیکل کمپلیکس میں زخمیوں کی عیادت کی اور انھیں مکمل طبی سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔واضح رہے کہ آج صبح مردان ضلع کچہری کے مرکزی دروازے پر خود کش بمبار نے پہلے ہینڈ گرینیڈ سے حملہ کیا اور پھر خود کو اڑا لیا جس کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان میں آج ذی الحج کا چاند نظر آنے کا واضح امکان ہے، محکمہ موسمیات

596838-MuftiMuneebWeb-1472812182-831-640x480

کراچی: پاکستان میں ذوالحج کا چاند دیکھنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہو گا جب کہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک مین آج ذی الحج کا چاند نظر آنے کا واضح امکان ہے۔
ذی الحج 1437 ہجری کا چاند دیکھنے کے لئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس چیرمین مفتی منیب الرحمان کی سربراہی میں محکمہ موسمیات کراچی کے دفتر میں ہو گا۔محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ ذی الحج کا چاند یکم ستمبرکو 2 بج کر3 منٹ پر پیدا ہو چکا ہے، آج لاہور میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 28 گھنٹے 49 منٹ ہوگی اور چاند نظر آنے کے واضح امکانات ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں ذی الحج کا چاند دیکھنے کے لیے اجلاس ہوا تاہم ذی الحج کا چاند نظر نہیں آیا جس کے بعد عید قرباں 12 ستمبر بروز پیر ہوگی۔

نیب انکوائری افسر روز چھوٹے افسران اور کلرکوں کو نوچتا ہے، جسٹس امیر ہانی مسلم

596895-supremecourt-1472814454-698-640x480

کراچی: جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا ہے کہ نیب میگا کرپشن کیسز کے لئے بنائی گئی تھی لیکن نیب کا انکوائری افسر روز جاکر چھوٹے افسران اور کلرکوں کو جاکر نوچتا ہے۔سپریم کورٹ رجسٹری میں نیب کے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار اور ڈی جی نیب سندھ سراج النعیم نے رپورٹ پیش کی۔ جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ یہ ڈیڑھ سے 2 لاکھ کی انکوائریاں کس قانون کے تحت کی جارہی ہیں جو فہرست آپ نے عدالت کو پیش کی اس میں کتنے میگا کرپشن کیسز ہیں۔ ڈی جی نیب سندھ سراج النعیم کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی میگا کیس موجود نہیں 1 کروڑ روپے سے کم مالیت کے 28 ریفرنسز سندھ میں دائر کئے گئے ہیں۔جس پرجسٹس امیرہانی مسلم کا کہنا تھا کہ نیب میگا کرپشن کے خلاف بنائی گئی تھی چھوٹی چھوٹی کارروائیوں کے لئے نہیں۔ وفاق نے جو بڑی بڑی رقوم معاف کیں ان کا کیا بنا؟ نیب کا انکوائری افسر روزجاکر کلرکوں اور چھوٹے افسران کونوچتا ہے ان کو نوکری سے معطل کروا دیا جاتا ہے اور بعد میں رضاکارانہ اسکیم کے نام پر پیسے واپس لے کر دوبارہ نوکریوں پر واپس بھیج دیا جاتا ہے اور پھر یہی چھوٹے افسران واپس جاکر لوٹ مار میں مصروف ہوجاتے ہیں،کم مالیت کے کرپشن کیسز ایٹنی کرپشن کو بھجوائی جائیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے ڈی جی نیب سندھ سراج النعیم سے استفسار کیا کہ آپ کب سے اور کس ادارے سے نیب میں آئے۔ جس پر ڈی جی نیب نے جواب دیا کہ میں پاک آرمی سے ڈیپوٹیشن پر 2001 میں نیب میں آیا اور میں ریٹائر نہیں ہوا بلکہ ٹرانسفر کے بعد نیب میں ضم کردیا گیا۔ جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ نیب میں تو ضم ہونے کا قانون ہی نہیں اتنے حساس اور ذمہ دار عہدے کی تقرری کے لئے اشتہار دیا جانا چاہئے تھا۔ عدالت نے اینٹی کرپشن اور ڈائریکٹر ایف آئی اے کو فوری طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

کرپشن کے خلاف تحقیقات کیلئے نیا قانون قومی اسمبلی میں پیش کردیا، اسحاق ڈار

596847-IshaqDarWeb-1472815310-584-640x480

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات کے لئے نیا قانون قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔اسلام آباد میں وفاقی وزراءکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس میں مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ کا نام نہیں اور نہ ہی ہم اس معاملے میں کوئی استثنیٰ چاہتے ہیں، ہماری لیڈر شپ کے جن بچوں کا نام ہے وہ آکر اپنی وضاحت کریں گے جس کے بعد آئین اور قانون کے تحت فیصلہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سقوط ڈھاکا سے لے کر ایبٹ آباد واقعہ تک تمام کمیشن ایک ہی قانون کے تحت بنے لیکن ہم نے کرپشن کی تحقیقات کے لئے نیا قانون قومی اسمبلی میں جمع کرادیا ہے جو صرف پاناما لیکس کے لئے نہیں بلکہ آئندہ کئی دہائیوں کیلئے ہوگا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر کسی قسم کا استثنی نہیں چاہتے لیکن جن لوگوں نے بینکوں سے قرضہ معاف کرایا ہے ان کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیئے لیکن اپوزیشن صرف وزراعظم نواز شریف کی فیملی کے خلاف تحقیقات چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے مطالبے پر ٹی او آرز کمیٹی کا کوئی چیرمین نہیں بن سکا جب کہ سانحہ کوئٹہ کی وجہ سے ٹی او آرز کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ بات آگے نہیں بڑھ سکی، اپوزیشن نے پاناما لیکس کمیشن کے لئے اپنے ٹی او آرز پیش کئے، اگر اپوزیشن سینیٹ میں اپنے ٹی او آرز پیش نہ کرتی تو شاید آج ہم بھی یہ قانون پیش نہ کرتے اور ٹی او آرز کے معاملے پر ایک اور میٹنگ کر کے معاملات طے کر لیتے۔وفاقی وزیر قانون زائد حامد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے قوم سے خطاب کے چند روز بعد ہی ہم نے پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ 1956 کے ایکٹ کے تحت بننے والا کمیشن بے کار ہو گا جس پر ہم نے اس قانون میں مزید ترامیم کر کے قومی اسمبلی میں پاکستان کمیشن آف انکوائری بل پیش کر دیا ہے جو اپوزیشن کے سینیٹ میں پیش کردہ بل سے بہت بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی بل میں اپوزیشن کے مطالبے کے مطابق تبدیلی کی، ہم نے قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل میں اپوزیشن کی مرضی کی ترامیم بھی شامل کی ہیں، 2016 کے بل میں 1956 کے ایکٹ کے اختیارات شامل کئے گئے ہیں۔