تازہ ترین
Home / کینیڈا

کینیڈا

کینیڈا کے جنگل میں آتشزدگی خطے کی دہشت ناک آگ قرار

canada_forest_fie

اوٹاوا: کینیڈا کے جنگل میں گذشتہ نو روز سے جاری آتشزدگی کو خطے کی دہشت ناک آگ قرار دے دیا گیا، وحشی آگ سے اب تک کم سے کم 1600 مکان نذر آتش اور ایک لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ کم وبیش لبنان کے کل پانچویں حصے کے برابر علاقہ اگ کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں مگر لگتا ہے کہ اس وحشی آگ پر قابو پانے کے لیے ایک ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے “ناسا” کے مصنوعی سیاروں کی مدد سے بھی کینیڈا میں لگی آگ کے فضائی مناظر حاصل کیے گئے ہیں جن سے آگ کی ہولناکی کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے تمام ریاستی میشنری حرکت میں ہے۔ سینکڑوں فوجی، فائر بریگیڈ کے 500 اہلکار، 88 گاڑیوں، 15 ہیلی کاپٹر، آگ بجھانے کے لیے استعمال ہونے والے 16 طیارے دن رات آگ پر قابو پانے میں مصروف عمل ہیں۔ کینیڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق آگ نے اب تک ایک ملین سے زاید درخت جلا ڈالے ہیں۔ ساسکاچوان کے علاقے میں آگ مزید 30 سے 40 کلومیٹر تک پھیلنے کا اندیشہ ہے جب کہ مغربی کینیڈا کے “البرٹا” کا 2000 کلومیٹر کا علاقہ آگ کے نتیجے میں بری طرح برباد ہوچکا ہے۔ جنوب مغربی کینڈا میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں اب تک اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے مگر اس کے حقیقی اسباب کا پتا نہیں چلایا جاسکا ہے۔ آگ کی لپیٹ میں آنے والا علاقہ ریتلے صحراءاور تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ “ووڈ بوفالو” کا علاقہ تیل کا مرکز ہے جہاں 6000 لبنانی باشندوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں عرب تارکین وطن بھی قیام پذیر ہیں۔

کینیڈا: سکول میں فائرنگ، چار افراد ہلاک

کینیڈا

 کینیڈا میں پولیس کے مطابق ملک کے مغربی صوبے سیسکیچوان کے ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور کو سکول کے باہر سے حراست میں لے لیا گیا ہے اور لا لوچے کمیونیٹی سکول کے بچوں کو محفوظ مقام تک پہنچا دیا گيا ہے۔کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس سے پہلے پانچ افراد کے مارے جانے کی بات کہی تھی تاہم بعد میں اس کی تصحیح کر دی گئی۔کینیڈا کے وزیر اعظم نے سکول میں فائرنگ کے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’سکول میں جو کچھ بھی ہوا وہ والدین کے لیے کسی خوفناک خواب سے کم نہیں تھا۔‘عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے بچوں کے چیخنے اور کم از کم نصف درجن گولیوں کی آوازیں سنیں۔کینیڈا پولیس کی سینيئر اہلکار مورین لیوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے ہتھیار چھین لیا گیا ہے۔انھوں نے کہا: ’اب عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘ تاہم انھوں نے کہا ’یہ ایک افسوسناک واقعہ تھا۔‘ انھوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔کینیڈا براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق پولیس نے بتایا کہ انھیں مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے بتایا گیا ’ایک شوٹر فائرنگ کر رہا ہے اور انھوں نے 45 منٹ بعد مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا تھا۔صوبے سیسکیچوان کے وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا ہے ’لا لوچے کے واقعات پر ہونے والے رنج و غم کو میں اپنے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ حملے کے شکار افراد، ان کے اہل خانہ، ان کے دوستوں اور برادری کے لوگوں کے لیے ہماری دعائیں اور نیک خواہشات ہیں۔‘گذشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق اس سکول میں تقریبا 900 بچے زیر تعلیم تھے اور یہاں درجۂ اطفال سے 12 ویں تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ایک طالب علم نے بتایا کہ انھوں نے فائرنگ کی آوازیں سنیں اور ’سکول سے باہر بھاگے۔ وہاں بہت چیخ و پکار تھی۔ میرے سکول سے باہر نکلنے تک میں نے چھ سات گولیوں کی آواز سنیں۔ میرے خیال سے اور بھی گولیاں چلی ہوں گی۔‘

کینیڈا میں شامی مہاجرین پر سرخ مرچوں سے اسپرے

430060-SyrianRefugeesWeb-1452503196-560-640x480

اوٹاوا:کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈ یاو¿ نے شامی مہاجرین پر سرخ مرچوں کے اسپرے کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔گزشتہ روزاپنے ٹویٹر اکاو¿نٹ پر جاری بیان میں کینیڈین وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ ہمارا رد عمل ہے نہ ہی یہ والہانہ استقبال کا انداز ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب حال ہی میں کینیڈا آنے والے شامی مہاجرین کیلیے ایک خیرمقدمی تقریب ہونے والی تھی کہ ایک نامعلوم بائیسکل سوار نے ان پر سرخ مرچیں پھینک دیں جس سے انھیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

عوام کو معلومات بہم پہنچانے سے حکومت بہتر ہوگی،ٹروڈو

189196

اوٹاوا: کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹرڈو کاکہناہے کہ عوام کو معلومات بہم پہنچانے سے حکومت بہتر ہوگی۔انہوںنے مزیدکہاکہ میراخیال ہے کہ وہی حکومت بہتر ہوتی ہے جواپنے عزائم کے بارے میںعوام کوآگاہ کرتی رہتی ہے۔لبرلز اس بارے میں باقاعدہ لائحہ عمل تیار کررہے ہیںتاکہ لوگوںکوزیادہ سے زیادہ معلومات بہم پہنچائی جاسکے کہ ہم ان کے بارے میںکیا سوچ رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاںمیڈیا کوبھی معلومات فراہم نہیںکرتی تاہم کبھی کبھار یہ ضروری ہوجاتا ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے الیکشن مہم کے دوران یہ فیصلہ کیا تھاکہ لوگوںکو ہر قسم کے معاملات کی انفارمیشن فراہم کریں گے تاکہ وہ اندھیرے میں نا رہیں، ہم اس حوالے سے کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی بہتر کارکردگی کی رپورٹس باقاعدہ عوام تک پہنچنی چاہئے تاکہ ان کو اپنے منتخب نمائندوںکے بارے میں آگہی ہو۔

ایڈمونٹن سٹور میں ڈکیتی مزاحمت پر مارے جانے والوںکی شناخت

1348

ایڈمونٹن: ایڈمونٹن سٹور کیس میں ڈکیتی مزاحمت پر مارے جانے والوںکی شناخت ہوگئی ہے، ان کے نام کرن پال سنگھ بھانگو اور رکی میسن ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایڈمونٹن میسز شوٹنگز کیس میں تیرہ برس کے لڑکے سمیت تین افراد کوگرفتار کرلیاگیا تھا۔ شہر کے جنوب میں سٹورز میں کلرک کوتنہا دیکھ کر ماسک پہنے ہوئے شخص اندر داخل ہوئے ڈکیتی کی تھی اور مزاحمت پر کلرک کوماردیاتھا۔ اس کے بعد وہی لوگ کسی اور سٹور میںگئے لیکن پولیس آلارم کے بعد پولیس موقعہ واردات پر پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق اس واقعہ میں مر نے والوںکی عمریں بالترتیب35 اور 41 برس ہیں۔بھاگنو کا چھ برس کا ایک بچہ ہے اس کی بیوہ شدید صدمے میں ہے۔وہ انڈیا سے ایڈمونٹن آئے تھے۔ ان کی بیوی کنڈر گارٹن ٹیچر ہیں۔انہوںنے اپنی فیملی کی سپورٹ کے لئے باقاعدہ پیچ بنایا ہے اورامداد کی منتظر ہیں۔اس واقعے میں مارے جانے والے دوسرے شخص کنابرے کا تعلق فلپائن سے ہے۔ اس معاملے میں پولیس چیف کاکہنا ہے کہ ہم نے تیرہ برس کے لڑکے سمیت تےن افراد کوگرفتار کیا تھا اور ان پرتیسرے درجے کے قتل کی دفعہ لگائی گئی ہے۔ یہ بربریت کاواقعہ تھا۔ ان تینوں شخصیات کا ریکارڈ مجرمانہ ہے۔ ان کی عمریں چھبیس سے چوبیس برس ہیں۔واضح رہے کہ ڈکیتی کی واردات دو سٹوروںپر ہوئی تھی اس کے بعد پولیس نے اپنی کارروائی مکمل کی۔

کینیڈا کے وزیر دفاع کا عراق کادورہ

348

اوٹاوا:کینیڈا کے وزیر دفاع ہرجیت ساجن نے عراق کادورہ کیا۔ اس کی تصدیق کردش میڈیا نے بھی کی ہے۔انہوںنے ٹاﺅن آف ار بل میں وقت گزارااورمیڈیا کے نمائندگان سے بھی ملاقات کی۔ واضح رہے کہ اس دورے کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیںکی گئی تھی، ابھی تک اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ عراق کیوںگئے ہیں۔ تاہم ان کی وہاںسے جاری کردہ تصاویر نے ان کی وہاںپر موجودگی کی تصدیق کردی ہے۔ میڈیا میں تذکرہ کیاجارہا ہے کہ وہ عراق میںدہشت گردی کے خلاف جنگ میں فضائی امداد کے حوالے سے بات چیت کرنے گئے ہیں۔ ٹروڈوحکومت نے سی ایف اٹھارہ کو عراق سے واپس بلانے کا ارادہ ظاہر کیا تھااوراس حوالے سے عمل درآمد ہورہا ہے۔

شامی مہاجرین کی کینیڈامیںآبادکاری میںسوشل میڈیا کا کرداراہم

1843

اوٹاوا:شامی مہاجرین کی کینیڈا میںآبادکاری میںسوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔اس بارے میںمبصرین کی رائے ہے کہ شامی مہاجرین کینیڈا آرہے ہیںاوراس سلسلے میںسوشل میڈیا پرباقاعدہ ان کی امداد کے لئے مہم چلائی جارہی ہے۔ اس وجہ سے کینیڈا میںان کی آبادکاری میںسوشل میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ اس بارے میں فیس بک پیچ بھی بنایاگیا ہے تاکہ ان مہاجرین کی مدد کی جاسکے۔ ان کے لئے بہتسے لوگ عطیہ دے رہے ہیںاور خطیر رقم عطیہ کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے لوگوںکو ان مہاجرین کی مدد کی ترغیب مل رہی ہے اور لوگ دل کھول کر مدد کررہے ہیں۔ اس ضمن میں فلاحی اداروں سمیت وفاقی حکومت نے بھی یہ طریقہ اپنایا ہے جوکافی کارگر ثابت ہورہا ہے۔فلاحی اداروں کے سربراہوں کاکہنا ہے کہ سوشل میڈیا سے ملنے والے نتائج خاصے حوصلہ افزاءہیں۔

کینیڈا بھر میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون میںتبدیلی ہوگی

domestic_violence

اوٹاوا؛ کینیڈابھر میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون میںتبدیلی ہوگی۔یہ تبدیلی بہت ضروری ہے کیونکہ رواں برس بھی کینیڈا بھر میں گھریلو تشدد کے واقعات دیکھنے کوملے۔ ماریا فٹزپیٹرک کی بائیں ہاتھ کی ایک انگلی ان کوماضی کی ایک ایسی کہانی کی یاد دلاتی ہے جس کاتذکرہ انہوں نے کسی سے نہیںکیا۔ ان کے جسم کی کچھ ہڈیاں بھی ٹوٹیں تھی ،زخم وقت کے ساتھ بھرگئے ہیںلیکن ان کوبہت سی باتیںیاد ہیں جو ناقابل فراموش ہیں۔فٹزپیٹرک ایک نومنتخب سیاست دان ہیں۔ ان کا تعلق البرٹا سے ہیںوہ گھریلو تشدد کے بل میںترامیم اور تبدیلی کی خواہاںہیںاوراس کے لئے باقاعدہ مہم چلارہی ہیں۔ ان کی عمر چھیاسٹھ برس ہے۔ تاہم اپنے ماضی کویاد کرکے وہ کبھی کبھار آبدیدہ ہوجاتی ہیں۔ ان کاکہناہے کہ گھریلو تشدد کے لئے بل میں ترامیم کومنظور کرایا جائے۔مجھے بہت مایوسی ہوگی اگر کوئی پارلیمنٹ میںاس کے خلاف آواز اٹھائے گا۔واضح رہے کہ2015 میں بھی کینیڈا بھر میںگھریلو تشدد کے بہت سے واقعات رونما ہوئے تھے۔ مینی ٹوبا میں اس ضمن میںقوانین میں کچھ تبدیلی کی گئی اور دیگر شہروںمیں کی جارہی ہے۔فٹز پیک کو کینیڈا بھر سے اس مہم کے لئے اچھے پیغامات موصول ہورہے ہیںاور ان کی سپورٹ کے لئے لوگ گھروںسے نکل رہے ہیں۔ ان کاکہنا ہے کہ اگر لوگ میرے ساتھ ہوںتو ہم اس نظام اور لوگوں کی سوچ کو بدل سکتے ہیں۔

ٹورانٹو میں ایک اور پرواز224شامی مہاجرین کولے کر آگئی

2040

ٹورانٹو:ٹورانٹو میں ایک اور پرواز224شامی مہاجرین کولے کر آگئی۔ ان کااستقبال گورنر جنرل ڈیوڈ جانسٹن نے کیا۔ ٹورانٹومیں مہاجرین کو لے کر تیسری جبکہ کینیڈامیں چوتھی پرواز آئی ہے۔ ان مہاجرین کوپرائیویٹ کمپنیاںاور لوگ سپانسر کررہے ہیںاوران کی ضروریات پوری کرنے کے لئے خطیر رقم عطیہ کررہے ہیں۔ ان کوکھانے کے لئے مقامی ہوٹل میں لے جایاگیا اور ان کا پرتپاک استقبال ہوا۔ ان کے رہنے کاا نتظام ٹورانٹو سمیت مختلف شہروں میںکیاگیا ہے

ٹورانٹو:شوپرڈرگ مارٹ سٹور پرتشدد کانشانہ بنانے والی کی عدالت پیشی

4221

ٹورانٹو: ٹورانٹو میںشوپر ڈرگ مارٹ سٹور پر تشدد کانشانہ بنانے والی کی عدالت میں پیشی ہوئی۔وہ مسکراتے ہوئے عدالت میں پیش ہوئی۔تاہم عدالت میںاس کے وکیل نے جراح کی اور اس کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ کچھ روز قبل ڈرگ سٹور پر روہنی بساسرنے ایک لڑکی جونور پر چاقو سے وار کئے تھے اور شدید زخمی کردیا تھا۔ وہ ہسپتال میںزیر علاج رہنے کے بعد انتقال کرگئی۔اس لڑکی کانام روز میری جونور تھااوراس کی عمر اٹھائیس برس بتائی جاتی ہے۔ جونوراس سٹور میںکام کرتی تھی۔پولیس تفتیش کے مطابق ایک عورت کے ہاتھ میں چاقو تھا وہ اس پر لپکی اور چاقو سے پہ درپہ وار کرکے زخمی کردیا۔پولیس کوتشدد کانشانہ بنانے والی ایم بی اے گریجویٹ روہنی بساسر عملی طور پربہت زیادہ خطرناک تھی۔روہنی بساسر شوپر ڈرگ مارٹ میںکسی سے فون پر بات کررہی تھی کہ اچانک اس نے روز میری جونورپر چاقو سے حملہ کیا۔اس کے بعد وہ وہاںسے بھاگ گئی۔