تازہ ترین
Home / خواتین

خواتین

غیر ملکی دلہنوں کے سنگھار کے انداز

pic_1451475155

دنیا بھرمیں مردوزن کیلئے شادی کادن ان کی زندگی کاسب سے یادگاراور خاص دن ہوتاہے۔ چونکہ اس خاص دن پردلہن ہی ہرکسی کی توجہ کامرکز ہوتی ہے لہٰذا اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سب سے زیادہ خوبصورت خاص اور منفرد نظر آئے۔
امریکی ماہرمیک اپ آرٹسٹ آمندہ شیکلٹن نے یہ رازنے جاننے کیلئے دنیاکے مختلف ممالک کا دورہ کیااور نئی نویلی دلہنوں سے یہ سوال کیاکہ انہوں نے اپنے اس خاص دن کی تیاری کیلئے کس طرح سے تیاری کی تھی۔
ذیل میں مختلف ممالک کی دلہنوں نے اپنی خوبصورتی کے جورازبتائے وہ نذرقارئین ہیں۔
جاپانی دلہنیں:اپنی بے داغ اور چمکدارجلدکیلئے رنگ گوراکرنے والی کریموں کااستعمال کرتی ہیں۔ان کریموں کے استعمال سے چہرے پرموجودداغ دھبے اورجھائیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ان کریموں کے بہترین کیلئے دلہن شادی سے چھ ماہ قبل کریموں کااستعمال شروع کردیتی ہیں۔
افریقی دلہنیں:اپنے چہرے کی شادابی کیلئے خاص پام آئل سے بنے”بلیک افریقین سوپ“ کا استعمال کرتی ہیں۔ افریقی دلہنیں اس صابن کااستعمال شادی سے چھ یاسات ماہ قبل شروع کردیتی ہیں۔
یورپی دلہنیں:یورپ کے شہرکروایٹیامیں”لیونڈرآئل“وافرمقدارمیں پایاجاتا ہے۔یہ تیل اینٹی سینک ہوتاہے جوخشک جلدکوبھی شاداب بنانے میں مددگارثابت ہوتاہے۔یورپی دلہنیں شادی سے آٹھ یاچھ ماہ قبل وہاں کی خواتین ایک بوتل میں پانی بھرکر اس میں چندقطرے لیونڈرآئل کے ملاکررکھ لیتی ہیں اور اسے دن میں کئی بارچہرے پرسپرے کرتی ہیں۔
کورین دلہنیں:آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقوں کوختم کرنے کیلئے میک اپ کنسیلرکابے جااستعمال کرتی ہیں۔
بھارتی دلہنیں:شادی سے قبل اپنے بالوں کاخاص خیال رکھتی ہیں۔اس سلسلے میں وہ جڑی بوٹیوں سے تیارکردہ تیل کااستعمال کرتی ہیں۔شای سے تین ماہ قبل وہ جڑی بوٹیوں سے بنے تیل کوبالوں میں لگانے لگتی ہیں تاکہ بال لمبے‘سیاہ اور چمکدار ہوجائیں۔جلدکی تروتازگی کیلئے عرق گلاب استعمال کیاجاتا ہے۔
ترکی دلہنیں:پانی اور گلاب کی پتیوں سے گلاب کاخالص عرق گھرمیں تیارکرتی ہیں اور اسے بطور ٹونراستعمال کرتی ہیں۔
پاکستانی دلہنیں:شادی سے چھ ماہ قبل چہرے کی تروتازگی کی خاطرجوسزوغیرہ استعمال کرتی ہیں اور ماہربیوٹیشنزکے ساتھ مسلسل رابطے میں بھی رہتی ہیں۔

نیچرل میک اپ ان ہوچکا ہے

pic_1452157107

ہیوی میک اپ کاٹرینڈآوٹ ہوچکا:
ہمارے ہاں میک اپ اور سٹائلنگ میں بہت نمایاں دیکھنے میں آرہی ہیں اب ینگ لڑکیاں لائٹ اور سافٹ میک اپ لک پسند کرتی ہیں بلکہ وہ میک اپ سے زیادہ پرسنیلٹی گرومنگ (Personality Grooming) کوترجیح دیتی ہیں جس سے میک اپ کی اہمیت نسبتاََ بدل رہی ہے۔ آپ بھی کوشش کریں میک اپ کااستعمال کم سے کم کریں کیونکہ اگرآپ کی جلد صاف شفاف ہوگی توبیس کی زیادہ تہیں جمانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ جلد کی حفاظت کے لئے فارمولاکرمیوں کے استعمال کی بجائے زیادہ سے زیادہ پئیں، پھل اور سبزیوں کے ساتھ دفریش جوسزکااستعمال بھی کریں۔ پہلے عام تاثر یہی تھا کہ خواتین ایک دوسرے کودیکھ کرفیشن کرتی تھیں مگراب وہ سوچتی ہیں کہ ان پرکیاجچتاہے اور کیانہیں؟ اس لئے وہ مختلف تجربے کرتی ہیں تاکہ کوئی خاص سٹائل سٹیٹمنٹ (Style Statement) اپنی شخصیت کاحصہ بناسکیں۔ میرا مشورہ ہے کہ شام کی تقریبات کے لئے شمری آئی میک اپ کریں اور لپ سٹک شیڈز لائٹ استعمال کریں لیکن یہ خیال رہے کہ میک اپ کاتاثر ہلکاپھلکا ساہو۔ ہیوی میک اپ (Heavy Makeup) اب آو¿ٹ ہوچکاہے، کالی اور بھری ہوئی آنکھیں پسندنہیں کی جارہیں جبکہ لپ سٹک میں اورنج اور پنک شیڈز ان رہیں گے۔ اس طرح فارمل وئیر میں لہنگے، گھاگھرے اور شارٹ چولیاں پسندکی جائیں گی، قمیض کی مانند لمبی لمبی چولیاں اب فیشن کاحصہ نہیں رہیں۔ ان ڈریسز کے ساتھ کس کربال باندھنے کی بجائے ذراسٹائل سے ہیئر ٹائے (Hair Tie) کریں توزیادہ اچھی لگیں گی۔
بیس کااستعمال خدوخال کوابھارنے تک محدود کیاجائے گا:
دوسرے ممالک میں ہرہفتے میک اپ پراڈکٹس اور فیشن ٹرینڈزبدلتے رہتے ہیں جبکہ پاکستان میں لوگ جلد تبدیلی کوقبول نہیں کرتے اس لئے یہاں ٹرینڈزبدلنے میں سالوں لگ جاتے ہیں اور یوں کوئی بھی تبدیلی آہستہ آہستہ اپنی جگہ بناتی ہے مگراب فیشن اور سٹائلنگ میں نمایاں تبدیلیاں نظر آئیں گی مثلاََ 2016میں نیچرل میک اپ لک مقبول ہوگی۔ ویسے توکچھ عرصہ سے لائٹ اور ڈارک میک اپ کا فیوڑن چل رہاہے مگراب ینگ لڑکیاں نئے نئے سٹائلنگ ٹرینڈز کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتی ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے انہیں جلد اپنا لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب ینگ اور ٹین ایجرز میں نیوڈمیک اپ خاصا پاپولرہورہاہے یعنی 2016میں بیس (Base) کااستعمال کم سے کم کرنے کارحجان بڑھے گا۔ بہتر ہے لیکوئیڈبیس اور فاو¿نڈیشن کاانتخاب کریں۔
شام کی تقریبات کے لئے شمری آئی میک (Shimmery Eye Makeup) کریں
ہمارے ہاں اکثر خواتین کوبیس کے استعمال کااصل مقصد معلوم نہیں?? اور زیادہ ترخواتین بیس کااستعمال رنگ گورا کرنے کے لئے کرتی ہیں‘ یہ تصور قطعاََ درست نہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ اب خواتین کواس خبط سے باہرنکل آناچاہیے۔ بہترہے آپ اپنی جلد کی حفاظت کریں اور جلد پرداغ دھبے یاپمپلزوغیرہ ہونے دیں۔ اسی طرح بیس کااستعمال محض اپنے خدوخال کوابھارنے کے لیے کریں اوراگر آپ کی آنکھوں کے گرد گہرے حلقے ہوں یاجلد پرداغ دھبے ہوں توانہیں چھپانے کے لئے تھوڑا سا کنسیلر یا فاو¿نڈیشن بیس لگالیں مگر خیال رہے کہ جلد پربیس کی تہہ نہ چڑھی ہوبلکہ اس کاتاثر ہلکا پھلکا سارہے۔ اسی طرح دن کے وقت آئی میک نہ ہونے کے برابرہوچنانچہ صرف آئی لائنریاکاجل لگائیں البتہ آپ ڈارک شیڈ میں لپ سٹک لگاسکتی ہیں۔ ریڈ میرون (Maroon)اور نج (Orange) شاکنگ پنک کورل اور نیون کے تمام شیڈز اس سال ان رہیں گے۔ شام کے تقریبات کے لئے میک اپ میں نسبتاََ تبدیلی کی جاسکتی ہے یعنی آنکھوں کامیک اپ تھوڑا سا ڈارک رکھیں مثلاََ شمری (Shimmery) گلیٹری اور سموکی ، آئی میک اپ کریں جبکہ لپ سٹک لائٹ اور فریش شیڈ میں لگائیں۔
2016میں برائیڈل سٹائل
ہمارے ہاں روایتی دلہنوں کے انداز میں بھی کئی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں، اب ریڈ اور گولڈکلرز میں برائیڈل ڈریسزکم ہی پسند کئے جاتے ہیں لیکن دوسری طرف دلہنیں بناو¿ سنگھارابھی بھی روایتی کرتی ہیں جس سے فیوڑن کنفیوڑن نمایاں نظر آتاہے۔ مغربی اور عرب ممالک میں بھی دلہنیں رخ جوڑانہیں بلکہ سفید یادیگر ہلکے رنگ پسند کرتی ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی گلوبل ٹرینڈ(Global Trend) عام ہو رہاہے اور اس کے ساتھ ساتھ دلہنیں اب برائیڈل میک اپ بھی پارٹی میک اپ کی طرح کرنے لگی ہیں اور اب ایسالگتا ہے کہ خواتی کسی حدتک اس کنفیوڑن سے باہرنکل آئیں گی۔ ویسے بھی اب پہلے کی طرح ریڈلپ سٹک اور ڈارک آئیزکافیش نہیں رہا۔ اب ینگ لڑکیاں بالوں کے ساتھ بھی کافی تجربے کرتی نظر آرہی ہیں مثلاََ کل ہیئراسیسریز (Hair Accessories) کافی عام ہورہی ہیں اور سمپل لکس تقریباََ آو¿ٹ ہوچکی ہے اس لئے آپ بریڈز اور بنز(Buns)بناکرپھول، پرلز (Pearls) اور بیڈز (Beads) وغیرہ بھی لگاسکتی ہیں۔ کرلی (Curly) اور میسی (Messy) ہیئرسٹائلز کوہی ترجیح دیں برائیڈل ہیئر سٹائل میں بیک کومنگ کی بجائے فرنچ نوٹس (French Konts) اور ٹوسٹ ہیئر (Twist Hair) کافی پسند کئے جارہے ہیں جن سے بال بندھے رہتے ہیں۔
2016میں ہیئراپ ڈوز(Hair Updos) بہت ان ہوں گے
سٹائل تخلیق نہیں کیا جاتابلکہ آپ کی شخصیت میں موجود ہوتاہے اس لئے آپ اپنی مرضی سے جوبھی ہیئر سٹائل پسندکریں، اسے خوداعتمادی سے اپنائیں۔ ویسے اب موٹے اور پتلے کرلز کافیشن بالکل آو¿ٹ ہوچکاہے۔ البتہ آپ ہیئر برش کی مدد سے بالوں کوہلکی سی ویولک (Wavy Look) دے سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہیئر اپ ڈوز(Hair Updos) بہت ان ہیں یعنی آپ اپنے چہرے کی بناوٹ کے مطابق سنیٹریاسائیڈمانگ نکال کربالوں کوہلکا ساٹوسِٹ (Twist)کرسکتی ہیں، ہلکی سی بیک کومنگ کے ساتھ سائیڈبن (Side Buns) بھی اچھا لگے گا۔ اگرآپ سٹوڈنٹ ہیں توبالوں کوآئرن سے سٹریٹ کرنے علاوہ ہیئر ایکسٹنسو (Extenso) جیسا ٹڑیٹمنٹ بھی لے سکتی ہیں تاکہ روزانہ نئے نئے ہیئر سٹائل بنانے میں زیادہ وقت ضائع نہ ہو۔

گاجر سے حسن سنواریں

pic_1452503874

گاجر ہر جگہ باآسانی مل جاتی ہے قدرت نے اس سبزی میں بیش بہا فوائد جمع کررکھے ہیں، لیکن ہم میں سے اکثر لوگ ان سے قطعی بے خبر ہونے کی وجہ سے اس کے فوائد سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ کچھ لوگ توگاجروں کے سالن کانام سن کرہی منہ بگاڑنے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گاجر میں رنگت میں نکھار پیدکرنے اور جلد کونئی دلکشی دینے کی خاصیت بدرجہ اتم موجودہے۔ یہ خون کوصاف کرنے اور جلد کوسرخی مائل کرنے میں بہت اہم کردارادا کرتی ہے۔ لہٰذا اپنی رنگت نکھارنے اور دلکشی میں اضافے کی خواہشمند خواتین کویہ سبزی کثرت سے استعمال کرنی چاہئے۔ خصوصاََ اگراسے بھاپ یا پانی میں ابال کراستعمال کیاجائے توجلد میں حیران کن حدتک دلکشی پیدہوجاتی ہے۔ اور اس کے مقابلے میں قیمتی سے قیمتی کریم بھی ایسا جادوئی اثر نہیں دکھاسکتی۔
موٹاپے کے ہاتھوں پریشان خواتین کوچاہئے کہ وہ کچی گاجروں کاسلاد اکثرت سے کھائیں یہ ان کی غذائی ضروریات کوبھی پوراکرے گا اور موٹاپے کوبھی قابو کرے گا۔ حسن وصحت کی حفاظت کیلئے گاجروں کے جوس سے بڑھ کرکوئی چیز ہوہی نہیں سکتی۔ ماہرین کاکہناہے کہ گاجرکاجوس صحت کی حفاظت کے ساتھ جسم میں خون کی کمی پوری کر کے رنگت نکھارتاہے۔ بیماری کی وجہ سے کمزوری کا شکارہوجانے والی خواتین استعمال کریں توکچھ ہی دنوں میں ان کاچہرہ بھرابھرادکھائی دے گا اور اگر ایک گلاس جوس پینے کے بعد ایک گلاس دودھ پی لیں یاملائی کھا لیں تو یہ سونے پرسہاگہ کاکام دے سکتی ہے۔
بیوٹی ٹپس :
لیموں یاسنترے کے چھلکوں کو باریک کاٹ کرپانی میں بھگودیں۔ 24گھنٹے بعداس پانی سے چہرہ دھولیں اس عمل کومسلسل کرنے سے کچھ ہی دنوں میں جھائیاں ختم ہوجاتی ہیں۔
ایک کھانے کے چمچے لیموں کے عرق میں ایک چٹکی بورک پاو¿ڈراور ایک چٹکی چینی ملاکرایک بوتل میں ڈال لیں اور کچھ دنوں کیلئے چھوڑدیں۔اس کوچہرے کی جھائیوں اور بلیک ہیڈزپرلگائیں توداغ دور ہو جائیں گے۔
ایلوویراجیل ، گاجرکارس اور ٹماٹر کاگودا لے کرپیسٹ بنالیں اورا سے رات سونے سے پہلے چہرے پر لگائیں اور صبح گرم پانی سے دھولیں۔
تھوڑاسا ارنڈکاتیل ہتھیلی پرلے کراس سے جھائیوں پرمساج کریں چند دنوں میں جھائیاں مدہم پڑنے لگیں گی۔
کیل مہاسوں سے پاک جلد، دہی اور شہد کاماسک شہدکوہلکا ساگرم کرلیں اس میں ہم وزن دہی پھینٹ کرزیادہ ایکنی والے حصوں پرلگائیں۔ پندرہ منٹ کے بعد چہرہ دھوئیں۔ یہ ماسک جلد کوخشک نہیں کرتا اور تمام اقسام کی جلد کیلئے نہایت مفید ہوتاہے۔
اگررات کونیند نہ آئے اور بے چینی محسوس ہورہی ہوتوسرسوں یازیتون کاتیل لے کر ہلکے ہاتھوں سے پاو¿ں کے تلوو¿ں کی مالش کریں۔ گہری اور پرسکون نیند آئے گی۔

گھریلو ٹوٹکے

pic_1449567129

نمک ، گھی اور شہد سے علاج: ایک چھٹا نک نمک اور ایک پاو¿دیسی گھی کھرل کرکے بوتل میں محفوظ کر لیں۔ قبض ہونے کی صورت میں رات سوتے وقت ایک تولہ کے قریب نیم گرم پانی سے کھالیں، مفید رہے گا۔
نمک اور سرسوں کاتیل ملاکر مسوڑھوں پرملنے سے خون آنا بند ہوجاتاہے۔ نیزاسے دانتوں پرملنے سے کیڑا نہیں لگتا۔ شہد میں نمک ملاکر اگر بچوں کے مسوڑھوں پر ملاجائے توان کے دانت آسانی سے نکل آتے ہیں۔ نمک اور نیم کے پتے پانی میں ا±بال کرنہانے سے خارش اور پھنسیوں وغیرہ کوآرام مل جاتاہے۔
منہ کے چھالے: بچوں کے منہ میں چھالے پڑجائیں توسہاگہ بھون لیں اور گلیسرین میں ملاکر روئی کے ساتھ منہ میں چھالوں پرلگائیں۔ گلیسرین کی جگہ شہد بھی ملاسکتے ہیں۔
چھپاکی کے لئے جسم پر چھپا کی یعنی لال الال دانے نکل آئیں توایک ماشہ سوڈا ہائی کارب تھوڑے سے پانی میں ملاکر روئی سے لگائیں۔
ہونٹ پھٹ ہوجائیں تو۔ سردیوں میں اکثر ہونٹ پھٹ جاتے ہیں۔ تازہ دودھ ہونٹوں پرروزانہ لگانے آرام آجاتاہے۔ نیم گرم پادیسی گھی یامکھن لگانے سے بھی بہت جلد آرام آجاتاہے۔
شدید کھانی کی صورت میں : پرانی اور شدیدکھانسی یاکالی کھانسی کی صورت میں املتاس کی پھلی آگ میں جلا کر کوئلے کی مانند کرلیں اور اس کوکوٹ اور چھان کراس کاسفوف اچھی طرح محفوظ کرلیں۔ ایک چمچہ خالص شہد میں چٹکی بھریہ سفوف مکس کرکے کھلائیں۔ ہرقسم کی کھانسی کیلئے مفید ہے۔
انجیر سے علاج: گردے یامثانے کی پتھر ہوتو پانچ عددانجیرروزانہ کھانے سے انشاء اللہ پتھری ریت بن کرنکل جاتی ہے۔ انجیر کھانے سے جسم کے بند مسامات کھل جاتے ہیں اور پسند آنے سے جلد صاف ہوجاتی ہے۔ تلی میں ورم یاتکلیف ہوتو انجیرسے فائدہ ہوتاہے۔
خالی پیٹ کیلانہیں کھانا چاہئے۔ نہ ہی کیلئے کے بعد پانی پئیں۔ یہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ ایک کیلاکھانے سے قبض ہوجاتی ہے اور زیادہ کھانے سے نہیں ہوتی۔ کم ازکم پانچ چھ کیلئے کھانے چاہئیں۔

خشک بال اور ان کی نگہداشت

aaa
بالوں کی مختلف اقسام ہواکرتی ہیں جیسے کہ خشک آئلی ملے جلے‘ گھنگھریالے‘ سلکی وسیدھے۔ سرکی جلد کے چربی کے غدودجس مقدار میں آئل خارج کرتے ہیں‘ بالوں کی اقسام اس آئل کے اخراج پر محیط ہوتی ہے۔ اگر یہ گلینڈزیادہ مقدار میں آئل کااخراج کریں توبال آئلی یعنی چکنے ہوں گے۔ اسی طرح اگر یہ کم آئل پیدا کریں توبال روکھے اور بے جان ہوجاتے ہیں۔ وہ خواتین جوخشک بال کی مالک ہیں۔ انہیں بالوں کے حوالے سے سردموسم میں نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ خشک ہوا ان کے بالوں کو انتہائی روکھا اور بے جان بنادیتی ہے جس کے باعث ان کے بال اڑے اڑے اور روکھے معلوم ہوتے ہیں جیسے سوکھی ہوئی گھاس یاچڑیا کاگھونسلہ ان کے سرپر رکھ دیاگیا ہو(معذرت کیساتھ) خشک بالوں کی حامل خواتین اپنے بالوں کازیادہ سے زیادہ خیال رکھیں اور انہیں نرم وملائم تاثردینے کے لیے مندرجہ ذیل میں بتائی گئی ٹپس پر عمل کریں۔
خشک بالوں کی حامل خواتین اپنے بال خصوصاََ موسم سرمامیں صرف ہفتے میں ایک بار شیمپو کریں اور شیمپو بھی ملیح اساس کاحامل ہونا چاہیے جوخشک بالوں کے لیے تیارکیاگیا ہو۔ جوآپ کے بالوں کونمی فراہم کرکے نرم وملائم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
بالوں کوشیمپو کرنے کے بعد کنڈیشنر کااستعمال ضرورکریں چاہے سردی ہویا گرمی۔ کنڈیشنر لازمی کریں اور اپنے بالوں کوروزانہ برش اور مساج کرنے کی روٹین بنالیں۔ اس عمل سے آپ کی سر کی جلد میں آئل گلینڈز متحرک ہوکرآپ کے بالوں کوزندگی ورونق بخشیں گے۔
اپنے بالوں پر ہفتے میں ایک دفعہ ناریل یابادام کے تیل سے ضرور مساج کریں اور سرکی جلد کوتیل سے تر کرلیں۔ اس کے بعد آپ بالوں کوشیمپو کریں لیکن دھیان رہے بالوں کوگرم پانی سے کبھی مت دھوئیں۔ اس سے آپ کے بالوں کوموئسچر اڑجاتا ہے اور آپ کے بال مزید خشک ہوجاتے ہیں۔
اپنے بالوں پر ربڑبینڈیارولرزکااستعمال نہ کریں۔ اس سے بال ٹوٹنے کاخدشہ ہوتا ہے اور نہ ہی بیک کومبنگ کریں۔
آپ کامناسب اور صحت بخش غذائیت سے بھرپور ڈائیٹ پلان آپ کے بالوں کوخوبصورت ولچکدار بنانے میں مدد کرسکتا ہے۔ اپنی غذائی روٹین میں مکھن‘ کریم انڈے‘ تازے پھل‘ سبزیاں ‘ دودھ دہی ‘ پنیر خشک میوہ جات وغیر شامل کرلیں۔
خشک بالوں کی مالک خواتین ہیئر ڈرائیر‘ اسٹرینز اور ہیئر اسپرے سے اپنے بالوں کومحفوظ رکھیں اور دھوپ میں جب بھی گھر سے باہر نکلیں اسکارف ہیٹ یادوپٹے سے اپنے بالوں کواچھی طرح ڈھانپ لیں کیونکہ سورج بالوں کوخراب کرنے میں اہم کردارادا کرتا ہے۔

میک اپ سے خزاں میں بہار لائیں

pic_1450085706

ثبینہ رفعت
موسم سرماکامیک اپ دوسرے موسموں سے بالکل الگ ہوتاہے کیوں کہ سردموسم خواتین کے میک اپ کوجلد خراب کرسکتا ہے۔ یہی وجہ سے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی میک اپ کے رحجان میں بھی تبدیلی آنے لگتی ہے۔ رنگوں کی نت نئی قوس و قزح دکھائی دینے لگتی ہے اور خواتین ان کواپنا کراپنے حسن میں مزیداضافہ کرنے میں مصروف ہوجاتی ہیں۔ نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمرکی خواتین بھی خود کو جاذب نظربنانے کی کوشش کرتی ہیں۔س زیرنظر آرٹیکل میں موسم سرمامیں درمیانی اور بڑی عمرکی خواتین کامیک اپ کیساہونا چاہئے تاکہ وہ خودکوبہترمحسوس کریں۔ اس بارے میں تفصیل سے بتایا جارہا ہے۔
درمیانی عمرکی خواتین
میک اپ کرنے والی خواتین کے لیے سب سے اہم رنگوں کاانتخاب ہوتاہے تیزوشوخ، سفید اور سیاہ ہررنگ کااپنا جادو ہوتا ہے مگر کچھ رنگ سردموسم میں کچھ ززیادہ ہی اپنی بہادرکھاتے ہیں۔ سردموسم میں بہرحال رنگوں کاانتخاب مشکل ہوتاہے۔ بعض اوقات خواتین موسم سرما میں موسم خزاں والے رنگ منتخب کرلیتی ہیں اور ایسا تب ہوتا ہے جب خواتین رنگوں کے انتخاب میں گومگوں کی کیفیت سے دوچار ہوتی ہیں۔ سردموسم میں خواتین کوشوخ اور تیز رنگوں کاانتخاب کرنا چاہئے، تاکہ ان کی شخصیت میں مزید نکھار پیداہوسکے۔ ان کو چاہئے کہ وہ پھیکے اور مدھم رنگوں سے دور ہیں۔
سردموسم میں درمیانی عمرکی خواتین (تیس سال سے زائدعمرکی) کومیک اپ کے حوالے سے شوخ رنگوں کاانتخاب کرنا چاہئے تاکہ ان کے حسن کوچار چاند لگ جائیں۔ اسموک آئی کلرکوبہرحال ہرموسم میں پذیرائی ملتی ہے۔ سردموسم میں میک اپ ایسا کیاجائے جوجاذب نظر ہو۔ اسموک آئی کلر کی طرح کلاسک ریڈ لپ اسٹک کوبھی سردموسم میں اولیت حاصل رہتی ہے یہ دونوں چیزیں کسی بھی عورت کوجاذب نظر بنانے میں اہم کردارادا کرتی ہیں۔ اگرآپ روایتی اور قدرے شوخ شیڈکی تلاش میں ہیں توسنگل شیڈ اسے سلسلے میں بہترین انتخاب ہے۔ میک اپ کوئی سابھی استعمال کریںآ پ کی جلد کاصاف ستھرا اور شفاف ہونااولین شرط ہے آپ قدرتی رنگوں کے مختلف شیڈز اپنے شوق وذوق اور موقع کی مناسبت سے استعمال کرسکتی ہیں۔ پارٹی میں عموماََ خاکستری شیڈسوٹ کرتاہے تاہم آپ چاہیں تواس کی جگہ گلابی شیڈ کااستعمال کرسکتی ہیں۔ جس میں آپ براو¿ن شیڈکاٹچ بھی دے سکتی ہیں آئی بروز‘ ہونٹ اور گالوں کے لیے صرف براو¿ن ٹچ مناسب رہے گا۔ ہونٹوں پر شوخ رنگ کاہلکا سا شیڈسا لگائیں۔
موسم سرما میں بھنوو¿ں پر بھی توجہ دیں۔آپ ان پر بے چک کم توجہ دیں مگرمیک اپ کے ساتھ بہرحال اس کاہم آہنگ ہونا بہت ضروری ہے یہ نہ ہوکہ زیادتی سارے میک اپ کوتباہ کرکے رکھ دے۔ پرفیکٹ بھنوو¿ں کے لیے اسپیشل پینسل کی مدد سے آو¿ٹ لائن بنائیں۔ اس کے بعد چوڑے منہ کے برش کی مدد سے آئی شیڈ ولگایاجائے اگر آس پاس کوئی نشان ہے تو اسی برس کی مدد سے ان کوخفیہ رکھاجاسکتا ہے۔ جہاں تک بقیہ میک اپ کاتعلق ہے تواسے جس قدر ممکن ہوقدرتی رکھیں۔ ہربارمسکارا لگانے کی ضرورت نہیں ہمیشہ ایسا فاو¿نڈیشن استعمال کریں جوآپ کی جلد کو رنگت سے اہم آہنگ ہو۔
اب بات کرتے ہیں آئی شیڈوکلرکی، سردموسم میں کول وبولڈشیڈز کااستعمال پرفیکٹ رہے گا۔ گولڈن شیڈکوفراموش نہ کریں۔ کیونکہ یہ ہمیشہ فیشن میں ان رہتا ہے۔ اس شیڈ کومیک اپ کے فائنل ٹچ کے طور پر بھی استعمال کیاجاسکتاہے۔ آپ قدرے شوخ شیڈز بھی اس حوالے سے منتخب کرسکتی ہیں۔ مثلاََ اورنج، نیلگوں وغیرہ سردموسم میں آپ گہرایاڈارک میک اپ بھی کرسکتی ہیں کیونکہ یہ بہت پرکشش نظر آتاہے۔ آئی میک اپ اس طرح کریں کہ آنکھیں زیادہ سے زیادہ نمایاں ہوسکیں اور دوسروں کے مقابلے میں کچھ منفرد بھی نظر آئیں آپ آئی شیڈ واستعمال کرکے بھی اسموکی نظرآسکتی ہیں۔ اس کے لیے آپ آنکھوں کے بیرونی کناروں پر بلیک شیڈکاٹچ دیں اور اس شیڈ کوپپوٹوں کی شکنوں پر بھی لگائیں۔ آئی شیڈ کامناسب استعمال کریں۔ اس کی زیادہ مجموعی میک اپ کاخراب کرسکتی ہے ہونٹوں پر سرخ رنھ کی لپ اسٹک لگائیں۔ لپ بام لگائیں اور ہونٹوں کوخوبصورت انداز بخشیں لپ لائنر آپ کی مرضی پر ہے کہ آپ استعمال کس طرح کرتی ہیں۔ اگر نہ کریں توتب بھی کام چلے گا۔ مختصر یہ کہ آپ اپنے میک اپ کوجس قدر ممکن ہوسکے نیچرل رکھیں اسی میں خوبصورتی ہے۔
بڑی عمرکی خواتین
میک اپ کے حوالے سے بڑی عمر کی خواتین( چالیس سال سے زائد عمرکی) سردموسم میں تھوڑا سا احتیاط سے کام لیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ دراصل بڑی عمر کی خواتین کے حوالے سے میک اپ دومقصد کو پوراکرتاہے۔ پہلایہ کہ اس کے ذریعے پھیکی پڑتی جلد کی رنگت کودرست کیاجاتاہے اور دوسرا یہ کہ اس سے باریک لکیروں کوممکنہ حدتک چھپایا جاسکتاہے۔ ان باتوں کو مدنظر رکھ کربڑی عمرکی خواتین فاو¿ندیشن اور رنگوں کابے دریغ استعمال نہ کریں اور نوجوان نظر آنے کے چکر میں اپنے چہرے کومضحکہ خیزنہ بنائیں۔ دراز عمرخواتین کوچاہئے کہ وہ اپنی قدرتی بیوٹی کواولیت دیں‘ جوا نہیں میک اپ کے استعمال سے کہیں زیادہ جوان ظاہر کرسکتی ہے۔ دراز عمر خواتین کی جلد بھی ان کے جوانی کے ایام کے طرح شگفتہ اور تروتازہ نظرآسکتی ہے جس کے طریقہ کارمیں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
بڑی عمرکی خواتین کی جلد پہ ظاہر ہے شکنیں پڑچکی ہوتی ہیں اور اگر بھاری فاو¿نڈیشن استعمال کیاگیا تو یہ اور گہری ہوکر واضح نظر آنے لگیں گی لہٰذا فاو¿نڈیشن ہلکا استعمال کیاجائے۔ ایسی خواتین عموماََ فاو¿نڈیشن کے استعمال اور انتخاب میں غلطی کر جاتی ہیں ہلکا فاو¿نڈیشن ہوتویہ نظر کم آتاہے اور آسانی سے دانوں کے نشانات کوبھی چھپا دیتاہے ایسا موئسچرائزراستعمال کیا جائے جو میچور اسکن کے لیے بنایا گیا ہواور پھر آئل بیسڈ فاو¿نڈیشن کااستعمال کیاجائے یہ بہت مناسب رہتاہے۔
بڑی عمری کی خواتین کے میک اپ کے حوالے سے ایک سادہ سااصول یہ ہے کہ اپ کازیادہ استعمال نہ کیاجائے۔ جب میک اپ گہرایا بھاری ہوتا ہے تو یہ اچھی طرح جلد کے ساتھ مکس اپ نہیں ہوتا ہے اور اس طرح چہرے کے خطوط بھی قدرے دب جاتے ہیں۔ اس طرح بڑی عمرکی خواتین اور زیادہ بڑی عمرکی لگنے لگتی ہیں۔ میک اپ کے حوالے سے ایسی خواتین کی بھی کمی نہیں جویہ سمجھتی ہیں کہ زیادہ میک اپ کااستعمال ہی مناسب اور اچھا رہتاہے مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ سوچ اور خیال بالکل غلط ہے۔ ہمیشہ کم اور صرف ضرورت کے وقت ہی میک اپ کرنا مناسب ہوتاہے۔
میک اپ کے حوالے سے بڑی عمرکی خواتین سرد موسم میں آئی شیڈ واور آئی بروکاشیڈاپنی جلد کی رنگت کے ساتھ میچ کریں۔ آئی شیڈ کریم بیسڈ ہوکیونکہ جب ان کوبلینڈ کیاجاتاہے توموئسچرائزر بھی اس کے ساتھ مکس ہوجاتا ہے۔ آنکھوں کے نیچے سیاحلقوں کو کینسیلرکے ذریعے کم کیاجاسکتا ہے۔ اس کنسیلر کا شیڈ فاو¿نڈیشن کے شیڈ سے ایک درجہ کم ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ بڑی عمری کی خواتین کوبلش آن کام سے کم استعمال کرنا چاہئے تاکہ ان کاچہرہ مضحکہ خیزنہ لگے۔ پھر ایسی خواتین ایسی لپ اسٹک کا استعمال کریں جس کے فارمولے میں موئسچرائزر استعمال کیاگیاہو۔ دراز عمر خواتین کے اکثر ہونٹ خشک ہونے لگتے ہیں اور لپ اسٹک میں موجود موئسچرائزر ان کے ہونٹوں کونرم رکھنے میں مدد گارثابت ہوتاہے۔ سب سے ہلے چہرے پر میک اپ سے قبل معیاری موئسچرائزر اپلائی کریں جوکہ دیرتک قائم رہے۔
موسم سرما میں باہرنکلنے والی خواتین کے لیے مناسب ہوگاکہ ایسی کریم استعمال کریں جوآپ کی جلد کونمی فراہم کرسکے اور 30۔Spfکی خصوصیات کی حامل ہو اس سے آپ کامیک اپ استعمال اپنی جلد کی رنگت اور ساخت کی مناسبت سے کریں تاکہ یہ آپ کی جلد کی رنگت کے ساتھ میچ ہوجائے۔
سردیوں میں آپ” سلی کون بیسڈ“ فاو¿نڈیشن کااستعمال کریں۔ یہ سردموسم کے لیے اچھا ہوتاہے۔
سردیوں میں اگر تقریب میں جانا ہوتوآئل بیسڈ میک اپ فاو¿نڈیشن کاانتخاب کریں۔ اس میں درجہ حرارت کی تبدیلی مزاحمت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
اگر ٹھنڈزیادہ ہے تولیکوئڈفاو¿نڈیشن استعمال کریں یہ درجہ حرارت کی تبدیلی کوبرداشت کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔
مسکارا آئی لائنر یالپ لائنر واٹرپروف ہونا چاہئے تاکہ میک اپ دیرتک برقرار رہے۔ واٹڑ پروف مضوعات میں دیرتک قائم رہنے کی صلاحیت موجودہوتی ہے۔
سردموسم میں لوزپاو¿ڈرکااستعمال نہ کریں کیونکہ لوڑپاو¿ڈر کے استعمال سے آپ کی جلد خشک ہوسکتی ہے اور اس کے پھٹے پھٹے اور خشک ہونے کااحساس بھی ہوسکتاہے۔
سرددنوں میں کریم بلش کااستعمال کریں۔ اس میں ویسلین ہوتی ہے جو سردموسم کے لیے زیادہ مناسب اور موزوں ہوتی ہے۔
بلش اور آئی شیڈکاانتخاب کرتے وقت اپنی جلدکی ساخت کومدنظر رکھیں اور پھر اس کے مطابق ان مصنوعات کا استعمال کریں یہ زیادہ مناسب رہتاہے۔
ایسی لپ اسٹک کاانتخاب کریں جس کے اجزا میں موسم استعمال کیاگیاہو۔ آپ لپ گلوزکا استعمال بھی کرسکتی ہیں۔
اگر آپ چاہتی ہیں کہ سردموسم میں آپ کی جلد صحت مندنظر آئے توگلابی اور سرخ میک اپ کریں۔
چونکہ سردیوں میں درجہ حرارت میں تیزی سے تبدیلی آتی رہتی ہے جوآپ کے میک اپ کوبگاڑ سکتی ہے۔ جبکہ کبھی سردماحول سے گرم ماحول یعنی باہر سے گھرکے اندرآئیں گی توآپ کے میک اپ خراب ہوسکتاہے۔ اس کی وجہ جلد کے نیچے بہنے والے خون کی روانی میں کمی اور بیشی ہوتی ہے۔
مندرجہ بالامیک اپ ٹپس سے خواتین سردموسم میں استفادہ حاصل کرسکتی ہیں اور ان سے خواتین کومیک اپ کرنے میں سہولت حاصل رہے گی پھرخواتین پورے میک اپ کے ساتھ سردموسم کوخواب انجوائے کرسکیں گی میک اپ ہوسہولت کے ساتھ توکیاہی بات ہے۔
نوعمرلڑکیوں سے لے کربڑی عمرکی خواتین تک سردیوں میں میک اپ سے لطف اندوز ہوسکتی ہیں۔بس ضرورت اس امرکی ہے کہ وہ اس شاندار موسم کے فطری تقاضوں کوسمجھیں اور ذرا حتیاط سے کام لیں۔ تھوڑی سی احتیاط بہت زیادہ فائدہ پہنچانے کاسبب بنتی ہے۔دراصل خواتین میک اپ خوبصورت نظر آنے کے لیے ہی کرتی ہیں نہ کہ اپنی فطری خوبصورتی کو ماندکرنے کے لیے۔اس لیے ضروری ہے کہ میک اپ ہمیشہ موسم کے مطابق کریں اپنی عمرکاخیال رکھیں یہ بہت ضروری ہے کیونکہ نوعمر لڑکیوں کامیک اپ بڑی عمرکی خواتین سے بالکل مختلف ہوتاہے۔اسی طرح گرمیوں کامیک اپ موسم سرماکے میک اپ سے الگ ہوگا۔اگران باتوں کاخیال رکھاجائے توہرموسم سے لطف اندوز ہواجاسکتا ہے ہرموسم منفرد اور فطری تقاضوں کے مطابق ہے۔اب یہ ہمیں چاہئے کہ ہم موسم کی انفرادیت سے لفط اندوز ہوں تاکہ خوش رہیں صحت مندرہیں۔آپ خوبصورت نظر آنے کے لیے یہ بہترین ٹپس آزما کردیکھ لیں۔

لیکوئڈ فاونڈیشن کیسے لگائیں

pic_1450256965

میک اپ میں لیکوئڈ فانڈیشن لگانا بھی ایک فن ہے اس کی خوبصورتی ہی میک اپ میں نکھار کا باعث بنتی ہے۔ اسی کیلئے درست رنگ،سامان اور بہتر طریقہ کار ضروری ہے۔ ذیل میں لیکوئڈ فاو¿نڈیشن کے استعمال کے متعلق مکمل ہدایات دی گئی ہیں۔سب سے پہلے لیکوئڈفاو¿نڈیشن کے ساتھ ہیئر بینڈ کلیز موئسچرائزاور پاو¿ڈر برش وغیرہ رکھ لیں۔ لیکوئڈفاو¿نڈیشن لگانے سے پہلے چہرے کی کلینزنگ کرلیں۔ ایک معیاری موئسچرائزرکی ہلکی سی تہہ انگلی کی مدد سے لگائیں۔موئسچرائزرکا استعمال جلد کی نوعیت کے مطابق کریں۔
سن سکرین لوشن ضرورلگایاجائے تاکہ جلد کوسورج اپنی سکن ٹون کے مطابق فاو¿نڈیشن کا انتخاب کریں۔پھرایک چھوٹا ساقطرہ لیکوئڈفاو¿نڈیشن لگائیں اور چہرے کے بڑے بڑے حصوں پرہلکے سے سٹروک لگائیں اور بعد میں بتدریج پورے چہرے پرپھیلادیں۔آنکھوں کے گرد اور ناک کے گرد بڑی انگلی سے فاو¿نڈیشن لگائیں اسے کے بعد دوبارہ نیااسفنج استعمال کریں کیونکہ لیکوئڈفاو¿نڈیشن سے یہ خراب ہوجاتاہے اور صحیح طور پر آخرمیں فاو¿نڈیشن یکجان اور ہم آہنگ نہیں ہوتی اس لئے فاونڈیشن میں صفائی کیلئے ضروری ہے کہ سنتھیٹک اسفنج استعمال کریں۔یاہربار خشک اسفنج جولیکوئڈمیں بھگو کرمناسب فاونڈیشن لگائیں۔
سارے چہرے کی فاونڈیشن کوباہم برابر اور خوبصورت بنانے کیلئے نرم ریشے دار برش لگائیں اور اگر آپ کی جلد چکنی ہوتوبرش پرہلکا ساپاو¿ڈر لگاکراستعمال کریں اس سے جلد پرسارا دن چکناہٹ پیدا نہ ہوگی۔
لیکوئڈفاو¿نڈیشن لگاتے وقت چند احتیاطیں مدنظر رکھیں۔ انگلی کی مددسے مناسب فاو¿نڈیشن لگائیں زیادہ مقدار میں فاو¿نڈیشن نہ لگائیں کیونکہ یہ بعدمیں جلد پرجم جاتاہے اور صاف کرنے سے مزید بکھرجاتاہے۔ لیکوئڈفاو¿نڈیشن لگانے میں تیزی سے کام نہ لیں کیونکہ فاو¿نڈیشن جس قد بہتر ہوگی اتنی ہی میک اپ میں خوبصورتی ہوگی۔

ابتدائی عمرمےں عدم توجہی،بچوں کی شخصےت مےں بگاڑ کا سبب

11

بچوںکے لئے ابتدائی اےام بہت اہمےت کے حامل ہوتے ہےں،ابتدائی عمر مےںعدم توجہی ان کی شخصےت مےںبگاڑ کاسبب بنتی ہے۔ والدےن کابچوں کی شخصےت بنانے مےں بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ انڈی پنڈنٹ تھنک ٹےنک ڈےموس نے گذشتہ چالےس برسوں مےں انگلےنڈ مےں پےدا ہونے والے تےس ہزار بچوں پر تحقےق کی، اس تحقےق کے مطابق جووالدےن ابتدائی اےام مےں بچوںکی تربےت پرتوجہ نہےں دےتے بڑے ہوکر ان کی شخصےت کے بگڑنے کے امکانات زےادہ ہوتے ہےں۔اس تحقےق کے مطابق جووالدےن بچوں پر ضرورت سے زےادہ اپنی مرضی مسلط کرتے ہےںان کی شخصےت بھی بننے کی بجائے بگڑتی ہے۔ اس تحقےق کے مطابق دس برس تک بچوں کو محبت، توجہ اور پےار کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ےہ دس برس ان کی شخصےت کوبنانے مےںاہم ہوتے ہےں۔ 15سے 16برس کے بچوں کو نظم و ضبط سکھانے کی ضرورت زےادہ ہوتی ہے لےکن ان کوڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہےں ہوتی کےونکہ اس عمر کے بچوںکو ڈانٹ ڈپٹ کر بات نہےں منوائی جاسکتی۔ ٹےن اےجرز صرف پےار کی بات مانتے ہےں۔اس کے علاوہ والدےن اپنے بچوں کے جتنا زےادہ قرےب ہوں گے، ان کے بچے بڑے ہوکر کم بری عادات کواپنائےںگے۔ مغربی معاشرے مےں والدےن بچوں کومار پےٹ سے گرےز کرتے ہےں کےونکہ ان کے قوانےن بچوں کے لئے ہوتے ہےں اسی لئے محققےن کے نزدےک والدےن صرف پےار کی زبان سے سمجھا جاسکتے ہےں۔اس رپورٹ کے سربراہ جےمی بارٹلےٹ کے نزدےک مغرب مےں والدےن خود بچوں کا مستقبل بنااوربگاڑ سکتے ہےں۔ماں بچے کی تربےت مےں بہت اہم کردار اداکرتی ہے لےکن اگر بچے کو چھوٹی عمر مےں مختلف کام کرنے سے روکا جائے تو وہ نہ صرف ضدی ہوجاتے ہےں بلکہ ان کی ذہنی نشوونما پر بھی منفی اثرات ہوتے ہےں اور ان کی شخصےت ادھوری رہتی ہے، اس خامی کوساری عمر دورنہےں کےا جاسکتا۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض مائیں چھوٹے بچوں کی بدتمیزیوں اور بے ادب لہجے کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتی ہیں کہ ابھی بچہ ہے بڑا ہوگا تو خود ہی سمجھ جائے گا۔ ےہ طرےقہ بھی ٹھےک نہےں کےونکہ بچہ ڈھیل پا کر مزید سرکشی اور گستاخی پر اتر آتا ہے۔ ماں باپ چاہے کسی بھی کلاس سے تعلق رکھتے ہوں ، بچے ان کی یکساں توجہ اور محبت کے طالب ہوتے ہیں۔ والدےن کی قربت بچے کو تعمیری اور تخرےبی کارروائےوں کی طرف راغب کرتی ہے۔ ےورپی محققےن کے نزدےک جن بچوںکووالدےن کی توجہ نہےں ملتی وہ34برس کی عمر مےں پہنچنے پرشراب نوشی کا استعمال شروع کردےتے ہےں۔ عہد حاضر اپنی بہت ساری بے سروسامانیوں کے ساتھ والدین اور اولاد میں رابطے اور تربیت کے تعلق کا فقدان بھی لایا ہے۔ وقت کی کمی، دفتری مشغولیات اور الیکڑونک میڈیا کی بہتات نے والدین کی طرف سے اولاد کی تربیت کے سلسلے میں ایسے خلاءپیدا کردیئے ہیں جو تمام عمر نہیں بھرسکتے۔

بچوں کو سوفٹ ڈرنکس سے دور رکھیں

images

لاہور(ویمن ڈیسک) بچوں کوسوفٹ ڈرنکس سے دور رکھےں۔ سوفٹ ڈرنکس کے بڑھتے ہوئے رجحان کی اصل وجہ بچوں میں ان کی پسندیدگی سمجھی جاتی ہے۔ تاہم حال ہی میں برطانیہ میں کی جانے والی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سوفٹ ڈرنکس تیار کرنے والی کمپنیز اپنے ڈرنکس کی مقبولیت کیلئے ان میں ایسے کیمیکلز بھی استعمال کر رہی ہیں جن کی موجودگی میں بچے ایسے ڈرنکس کے عادی ہوجاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں بچوں کو ان ڈرنکس کی لت پڑجاتی ہے۔ برطانوی ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام کی جانے والی اس تحقیق کا اصل مقصد سوفٹ ڈرنکس میں پھلوں کی اصل مقدار کو معلوم کرنا تھا۔اس حوالے سے بھی یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملک میں دستیاب تمام برانڈز میں سے کسی ایک میں بھی پھلوں کا اصل رس یا گودا پانچ فیصد سے زائد مقدار میں شامل نہیں تھا۔ اس حوالے سے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان ڈرنکس میں موجود کیمیکلز کا بنیادی مقصد اگرچہ ان ڈرنکس کو محفوظ بنانا ہی ہے تاہم یہی کیمیکلز پس پردہ بچوں کو ایسے ڈرنکس کا عادی بھی بناتے ہیں کیونکہ ان کیمیکلز میں نشہ آور خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ دھوکہ سٹرس جوس بنانے والی کمپنیز دیتی ہیں کیونکہ اکثریت کے جوسز میں نوے فیصد سٹرک ایسڈ اور دیگر ایسڈز موجود ہوتے ہیں جبکہ اصل سٹرس فروٹ کی مقدار زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد تک ہوتی ہے۔رس بھری کے جوس میں پھل کے رس کی اصل مقدار محض0.1 فیصد پائی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدھا لیٹر والی ایک بوتل میں جوس کے محض دس قطرے۔ ان جوسز میں چینی کی غیر معمولی مقدار موجود ہوتی ہے جو لیبل پر درج کی جانے والی مقدار سے بھی کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کی رائے میں چینی کی اس مقدار جوس میں مٹھاس پیدا کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہم وہ جوسز جنہیں چینی سے پاک سمجھ کر استعمال کر رہے ہوتے ہیں، در حقیقت ہمارے جسم میں چینی کی غیر معمولی مقدار کے داخلے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔ وےسے بھی بچوں کے کھانے پےنے پرنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے کےونکہ اگرا س پر توجہ نہ دی جائے تو بچوں کاہاضمہ اورعادات بگڑجاتی ہےں۔ بچوں کوپھلوںکاجوس پلانا مفےد ہوتاہے۔

آم چہرہ صاف اور جلد چمک دار بنائے

ripe mango fruit

ripe mango fruit

پھلوں کا بادشاہ آم چہرہ صاف اورجلد کوچمک دار بناتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں قدرت کا خاص تحفہ ہے لوگ تو اس کے ذائقے کے دیوانے ہیں لیکن اگر آپ کو بے داغ ، چمکدار جلد اورتیز بینائی چاہئے توجب تک موسم ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ پھلوں کے ذائقہ دار بادشاہ آم کے شوقیہ کھانے والوں کا کوئی حساب نہیں۔ قدرت نے اس مزے دار پھل میں صحت کے لئے بھی بے شمار فوائد چھپائے ہیں۔ جدید تحقیق کے مطابق آم میں موجود وٹامن اے اوراینٹی آکسائیڈ جلد کو داغ دھبوں سے بچاتے ہیں اور بیٹا کیروٹین سے بینائی تیز ہوتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اس کا روزانہ استعمال جلد کو صاف، چمک دار بنانے کے ساتھ جھریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔