تازہ ترین
Home / دلچسپ و عجیب

دلچسپ و عجیب

پشاور میں کینٹ انتظامیہ کا ایک چوہا مارنے پر 300 روپے انعام کا اعلان

482405-mouse-1459414209-327-640x480

پشاور: چوہوں سے تنگ کینٹ انتظامیہ نے ایک چوہا مارنے والے کے لئے 300 روپے انعام کا اعلان کردیا ہے۔ پشاور میں ضلعی انتظامیہ کے بعد اب کینٹ ایریا کی انتظامیہ نے بھی چوہے کی ٹارگٹ کلنگ پر نقد انعام کا اعلان کردیا ہے ، کینٹ انتظامیہ نے ایک چوہے کے سر کی قیمت 300 روپے مقرر کردی ہے، جو شخص جتنے چوہے مارے گا اسے ہر چوہے کے بدلے 300 روپے نقد انعام دیا جائے گا۔ کینٹ انتظامیہ نے چوہے مارنے والے شخص کے لئے یہ شرط عائد کی ہے کہ اس کا تعلق کینٹ یا صدر سے ہونا چاہیئے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پشاور میں ضلعی انتظامیہ نے ایک چوہے کو مارنے پر 25 روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں شہر کے چاروں ٹاو¿نز میں مخصوص پوائنٹس بنائے گئے ہیں اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چوہے ان مقامات پر لاکر پھینکیں اور اپنے انعام حاصل کریں.

چین میں 3 ہزار کھلونے جیتنے والے ماہر شخص سے دکان کے مالکان بھی پریشان

459696-Toys-1456585125-160-640x480

آپ نے چاروں طرف سے شیشے میں بند گیم دیکھیں ہوں گے جس میں کھلونے بھرے ہوتے ہیں اور انہیں سکہ ڈالنے پر چلنے والے پنجہ نما چمٹے سے گرفت میں کیا جاتا ہے جس میں چین کا ایک شخص اتنا ماہر ہوگیا ہے کہ وہ ہر دفعہ کوئی نہ کوئی کھلونا شکنجے سے پکڑ لیتا ہے اور اپنی مہارت سے 3 ہزار کھلونے جیت چکا ہے جس سے دکان کے مالکان بھی پریشان ہیں۔
چینی شہری چین زیٹونگ شکنجے سے کھلونے اٹھانے والی آرکیڈ مشینوں کے ماہر ہیں اور گزشتہ 6 ماہ کےدوران وہ 3 ہزار کھلونے جیت چکے ہیں۔ وہ چین کے شہر ڑیامین کے جیانگو شاپنگ سینٹر میں اپنے فن کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں اور ان کی مہارت سے خود مشینوں کے مالکان پریشان ہیں جو انہیں کھانا اور مشروب پیش کرتے ہیں تاکہ وہ کچھ دیر کھیلنے اور کھلونے جیتنے سے باز رہیں۔
چین زیٹونگ کے مطابق انہوں نے مسلسل مشق کے بعد یہ مہارت حاصل کی ہے، شروع میں انہیں ناکامی ہوئی لیکن ایک ماہ کے بعد وہ کلو مشین کے ماہر ہوگئے، جب جب وہ مشین کے سامنےآتے ہیں لوگ ان کے اردگرد جمع ہوکر ان کی مہارت سے محظوظ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ مشین سے سارے کھلونے جیت کر مشین خالی کردیتےہیں۔ اب یہ حال ہے کہ 3 ہزار جیتے گئے کھلونے ان کے باورچی خانے، بیڈروم اور گھر کے راستوں میں بھی بکھرے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ایک وقت میں ایک مشین سے 100 گڑیا نکال کر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے جب کہ ان کی مہارت سے مشین مالکان بہت افسردہ ہیں۔

چار ایسے فیشل اور مساج جنہیں آپ آزمانا نہیں چاہیں گے

461420-snailmain-1456731924-828-640x480

لندن: مغربی دنیا میں جوان اور توانا نظرآنے کےلئے ہر طرح کے جتن کئے جاتے ہیں۔ ان میں بعض اتنے عجیب و غریب ہیں جنہیں سوچ کر ہی دل گھبرانے لگتا ہے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
گھونگھوں کا فیشل
یہ عجیب و غریب فیشل جاپان میں بہت مشہور ہیں جس میں تین چار گھونگھوں کو چہرے پر پھسلایا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ گھونگھے پھسلنے کے دوران ان کے جسم سے خارج ہونے والا لیسدار مادہ چہرے پر بڑھاپے کے اثرات کم کرتا ہے اور جلد کو جوان رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
حال ہی میں برطانیہ میں بھی کچھ مقامات پر گھونگھوں کے فیشل کے پارلر کھولے گئے ہیں جہاں لگ بھگ 50 برطانوی پاو¿نڈ یا پاکستانی 8 ہزار روپے میں گھونگھوں سے فیشل کرایا جاتا ہے۔ خواتین کے مطابق گھونگھوں کے فیشل کے بعد ان کی جلد بہترین ہوجاتی ہے اور کئی روز تک چمکتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ گھونگھوں کا لیس دار مادہ ڈبیوں میں بند کرکے بھی فروخت کیا جارہا ہے جس سے خواتین گھر بیٹھے فیشل کرسکتی ہیں۔
پرندوں کی بِیٹ کا فیشل
کاسمیٹکس ماہرین کے مطابق پرندوں کی بِیٹ کا فیشل کرانے والوں کی جلد پیدائشی بچوں کی طرح ملائم اور تروتازہ ہوجاتی ہے۔ یہ بھی جاپان ہی کی ایجاد ہے اور اس کے فیشل میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جس میں مختلف پرندوں کا فضلہ پیسٹ کی صورت میں ملاکر استعمال کیا جاتا ہے۔
برطانیہ میں اس کا فیشل 25 سے 30 ہزار پاکستانی روپے میں کیا جاتا ہے اس کے علاوہ پرندوں کی فضلے کے خشک اور فیس واش بھی دستیاب ہیں جن کی قیمت 2 سے 3 ہزار روپے ہے۔ ہالی وڈ اداکاروں میں ٹام کروز اور وکٹوریا بیکھم باقاعدگی سے یہ فیشل کراتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک خاص جاپانی بلبل کے فضلے کا فیشل بہت مقبول ہے۔
سانپوں کا مساج
یہ ایک مشکل عمل ہے کیونکہ عوام کی اکثریت نفسیاتی طور پر سانپوں سے ڈرتی ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اگر تھوڑی دیر چھوٹے سانپوں کو چہرے، کمر اور کندھے پر رینگنے دیا جائے تو اس سے ذہنی تناو¿کم ہوتا ہے اور آدھے سر کا درد (میگرین) کم ہوتا ہے۔
امریکہ اور برطانیہ میں کءاسپا اور پارلرز سانپوں کے مساج کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ سانپوں کے زہر سے بنے فیشل اور فیس کریم بھی بازار میں دستیاب ہیں۔
آنول نال کا فیشل
پیدائش کے وقت ماں اور بچے سے جڑی آنول نال میں خاص قسم کے خلیات پائے جاتے ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ انسانی جلد کو خوبصورت اور ملائم بناتے ہیں۔ اس کا ایک پروفیشنل فیشل بھی 20 سے 25 ہزار روپے میں ہوتا ہے۔
اس میں آنول نال کو کھینچ کر اس کی شیٹ چہرے پر چڑھائی جاتی ہے اور ڈیڑھ گھنٹے تک اس کو ماسک کی طرح چہرے پر چڑھایا جاتا ہے۔ مشہور امریکی شوبز شخصیت کم کرڈاشین بھیڑ کے بچے کی آنول نال استعمال کرتی ہیں۔

گائے کا گوشت کھانے والوں کے ہریانہ داخلے پر پابندی کی تجویز

449341-redmeat-1455140331-934-640x480

چندھی گڑھ: بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی مسلمان دشمنی پاگل پن میں تبدیل ہوگئی اور وزیر صحت نے گائے کا گوشت کھانے والوں کا ریاست ہریانہ میں داخلہ بند کرنے کا مشورہ دیدیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ میں گائے کے گوشت کھانے پر نیا تنازع سامنےآگیا۔ وزیر صحت ہریانہ انیل وج نے شر انگیز تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گائے کا گوشت کھانے والوں کا ریاست ہریانہ میں داخلہ بند کر دیا جائے۔

بصارت سے محروم پروفیشنل بورڈ سرفرنے دنیا کو حیران کردیا

445768-derekmain-1454675401-589-640x480

ساو¿ پالو: تختے پر تیرنے والے برازیلی سرفر ڈیرک ریبیلو کی عمر اس وقت 23 سال ہے۔ پیدائشی نابینا ڈیرک اس وقت دنیا کے بہترین سرفر ہیں جوسمندر کی بپھری ہوئی موجوں پر سرفنگ کرتے ہیں۔
ڈیرک ریبیلوکے والد انہیں سرفر بنانا چاہتے تھے اوران کی خواہش کے احترام میں ڈیرک نے اپنے عزم وہمت سے بورڈ سرفنگ کا ممتاز کھلاڑی بن کر دکھایا، نابینا ہونے کے باوجود ان کے والد روزانہ صبح انہیں سمندر لے جاتے اور کہا کرتے کہ نابینا ہونے کے باوجود دیگرحواس پر یقین کرکے آگے بڑھو اورتیراکی سیکھو۔
ڈیرک نے 17 سال کی عمر میں باقاعدہ بورڈ سرفنگ کا آغاز کیا لیکن جب انہوں نے سرفنگ سکھانے والے ایک اسکول میں داخلہ لیا تو لوگوں نے ان کی حوصلہ شکنی کی اور ان کا مذاق اڑایا۔ لیکن ان کے استاد فیبیو مارو نے ان کی ہمت بڑھائی اور تین ماہ میں وہ لکڑی کے تختے پر تیرنا سیکھ گئے اوراب وہ 5 میٹر بلند لہروں پر بھی سرفنگ کرتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ڈیرک کا زیادہ تر وقت پانی کی لہروں پر صرف ہوتا رہا اور وہ لہروں کی آواز کے لحاظ سے آگے بڑھتے اور اپنے جسم کو لہروں سے ہمآہنگ کرتے ہیں۔
اب وہ دنیا بھر کے سمندروں میں سرفنگ کرتے ہیں اور لوگ انہیں کئی ممالک میں مدعو کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے عزم کی کہانی سنا کر دوسرے لوگوں کے لیے بھی نمونہ بن سکیں۔ ڈیرک نے حال ہی میں امریکی جزیرے ہوئی پر ہونے والے عالمی سرفنگ کے مقابلے میں بھی حصہ لیا اور اپنی مہارت سے دنیا کو حیران کیا۔
ڈیرک کے مطابق سرفنگ کے دوران وہ اپنی چھٹی حس، سمندر کیآواز اور لہروں کے شور کو سن کر اپنی سمت برقراررکھتے ہیں۔

بھارت میں دنیا کی سب سے کم عمر بچی کو طلاق کا انوکھا واقعہ

445853-india-1454686573-674-640x480

اتر پردیش: بھارت میں 4 سالہ بچی کی شادی کے 4 سال بعد ہی طلاق ہوگئی جو کہ اب تک دنیا میں سب سے کم عمری میں طلاق کا پہلا واقعہ ہے۔بھارتی معاشرہ بہت سی توہم پرستیوں کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہاں غیرضروری رسم و رواج عام ہیں۔ ایسی ہی ایک رسم کم عمری میں شادی کا ہوجانا ہے۔ بھارت میں ایسے کئی گھرانے ہیں جو ان غلط رسموں کی وجہ سے نہایت کم عمری میں اپنے بچوں کو شادی کے بندھن میں باندھ دیتے ہیں جس کے منفی اثرات لڑکا اور لڑکی دونوں کی زندگی کو بری طرح متاثرکرتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ بھارتی ریاست اتر پردیش میں پیشآیا جہاں صرف 4 سالہ لڑکی کی شادی ایک 10 سالہ لڑکے سے کرادی گئی لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شادی کے صرف 4 سال بعد لڑکی کی طلاق بھی ہوگئی جسے دنیا میں سب سے کم عمرطلاق یافتہ بچی بھی قرار دیا جارہا ہے۔ فاطمہ مینگرے نامی بچی کی شادی نہایت کم عمری میں اس کے والدین نے کرادی تھی جب کہ اس نے اپنے سسرال میں 4 سال گزارے اور پھر8 سال کی عمرمیں اس کی طلاق بھی ہوگئی۔
بچی کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹی کی شادی کے بعداحساس ہوا کہ نہایت کم عمری میں بیٹی کو بیاہ دینا نہایت غلط اقدام تھا کیونکہ یہ عمراس کے کھیلنے کودنے کی تھی لہذا اپنے فیصلے کو درست کرنے کے لئے بیٹی کے سسرال میں بات کی کہ ان کی بیٹی کو 18 سال کی عمرتک ان کے پاس رہنے دیا جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے گزار سکے لیکن لڑکے کے والدین نے صاف انکارکردیا اور پھربات لڑائی تک جاپہنچی اور بالآخرلڑکی کو طلاق دے دی گئی۔

افریقا میں لوگ ایک سال میں اربوں ڈالر ہیئراسٹال پرخرچ کردیتے ہیں

445804-hair-1454685291-791-640x480

نیروبی: انسانی شخصیت کی خوبصورتی اور دلکشی میں بال مرکزی کردار ادا کرتے ہیں اسی لیے تو لوگ اپنے بالوں کی حفاظت اوراسے جاذب نظر بنانے کے لیے پوری توجہ دیتے ہیں لیکن دنیا کے غریب براعظم افریقا کی خواتین اور مردوں نے ہیئر اسٹائل پر رقم خرچ کرنے میں تو سبھی کو پیچھے چھوڑدیا جوہر سال اربوں ڈالر اپنے اس شوق کی خاطر اڑا دیتے ہیں۔
حالیہ جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقی ملک نائجیریا میں لوگ بالوں کے عجیب و غریب اور پرکشش اسٹائل بنانے کے لیے ہر سال 44 کروڑ ڈلر خرچ کر ڈالتے ہیں جبکہ اس سال صرف کنڈیشنرز اور دیگر اشیا کی خریداری میں 11 فیصد اضافہ ہوگیا۔ جنوبی افریقا میں 2013 سے 2014 کے مالی سال کے دوران بالوں پر رقم لگانے کے رجحان میں 7 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کہ کینیا میں لوگوں نے اپنے بالوں کی حفاظت اورنئے اسٹائل بنانے پراس سال 10 کروڑ ڈالرخرچ کئے اسی طرح رواں سال سیلون کی سیل میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بالوں کے نت نئے اسٹائل اور ڈیزائن بنانے میں افریقی ممالک یوں تو پوری دنیا میں سبقت لیے ہوئے ہیں لیکن ان میں نائیجیریا نے سبھی کو پیچھے چھوڑ دیا جہاں مسلسل بالوں پرخرچ کرنے کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے اور یہ رجحان صرف خواتین میں ہی نہیں بلکہ مردوں میں بھی نظرآرہا ہے۔ اس لیے افریقا کے بڑے بڑے اداکاروں کو بالوں سے متعلق اشتہاروں میں لیا جاتا ہے تاکہ عام لوگوں میں ان کی پراڈکٹس زیادہ سے زیادہ فروخت ہوں۔ یورو مانیٹر کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے لوگوں کا شہروں میں بسنے کا رجحان بڑھ رہا ہے ویسے ویسے بالوں پر خرچ بھی بڑھ رہا ہے کیوں کہ جدید اوردلکش بالوں کے اسٹائل بنانے میں کئی پراڈکٹس کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے ان اسٹائل کو بنانے کی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014 میں الجزائر میں ہئر کیئر انڈسٹری کی گروتھ 8 فیصد بڑھ گئی جب کہ بالوں کے اسٹائل کا جنون تیونس میں بھی پہینچ گیا ہے اور ہیئرکیرانڈسٹری وہاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ایسی موٹرسائیکل جو بیک وقت کشتی کی طرح پانی میں بھی تیر سکتی ہے

435914-biskimain-1453299829-312-640x480

موٹرسائیکل کو روڈ سے دوڑاتے ہوئے براہِ راست پانی میں داخل کیا جاسکتا ہے جہاں یہ ہموار انداز میں پانی پر تیرنے لگتی ہے۔نیونیٹن، برطانیہ: برطانوی کمپنی نے ایسی موٹرسائیکل تیار کی ہے جو بیک وقت کشتی کا بھی کام دے سکتی ہے اور صرف 5 سیکنڈ میں تبدیل ہوکر پانی پر تیر سکتی ہے۔برطانوی کمپنی کی یہ انوکھی بائیک سڑک پر 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑسکتی ہے اور پانی میں جانے سے قبل صرف پانچ سیکنڈ میں اس کے چیسز سیدھے ہوجاتے ہیں اور پہیے اندر چلے جاتے ہیں اور اس طرح یہ سیکنڈوں میں پانی پر دوڑنے والی بسکی بائیک بن جاتی ہے۔بِسکی کی اچھی بات یہ ہے کہآپ اسے روڈ سے دوڑاتے ہوئے براہِ راست پانی میں داخل کرسکتے ہیں جہاں یہ بہت ہموار انداز میں پانی پر تیرنے لگتی ہے۔ کشتی نما بائیک کا وزن 500 پونڈ ہے جس میں 2 سلینڈر والا پیٹرول انجن لگا ہے جو سمندر کی نگرانی کے کام آسکتا ہے۔ کمپنی اب پانی پر تیرنے والے ٹرک اور کار پر بھی کام کررہی ہے جس کا سسپنشن سسٹم ہی اس کا دل و دماغ ہے جو صرف ایک بٹن دبانے سے کام کرنے لگتاہے اور بائیک کو واٹراسکی بوٹ بنادیتا ہے۔

کیلیفورنیا میں موٹے افراد کووزن کم کرنے کی مد میں نقد انعام دینے کا انوکھا پروگرام

437119-fat-1453479281-566-640x480

کیلیفورنیا: لِن ووڈ کیلیفورنیا کی بلدیہ نے ایک انوکھا پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ہر سال کم وقت میں وزن گھٹانے والے افراد کو نقد رقم بطور انعام دی جائے گی۔اس پروگرام کا نام ”کیش فارچنکرز“ رکھا گیا ہے جس میں شامل ہونے کی فیس 25 ڈالر ہے اور 12 ہفتوں کے درمیان ایک پاو¿نڈ وزن بڑھنے پر ایک ڈالر کا جرمانہ کیا جاتا ہے جب کہ اس کے علاوہ شرکا ہفتہ وار کلاسوں اور ورزش کے پروگراموں میں بھی حصہ لیتے ہیں، کلاسوں میں انہیں صحت بخش اور کم کیلوری والے پکوان بھی سکھائے جاتے ہیں۔ اس پروگرام کے ڈائریکٹر کے مطابق وزن گھٹانے میں سب ایک دوسرے کو تحریک دیتے ہیں اور ایک خاندان کی طرح ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔اس شہر میں طالب علم بھی تیزی سے موٹے ہورہے ہیں اور اس طرح کے پروگرام ان کا وزن کم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اور ایک طالبعلم دوسرے کو ترغیب دے کر وزن کم کرنے کی جانب راغب کرتا ہے۔ شرکا میں موجود ایک خاتون 261 پونڈ وزنی تھیں جنہوں نے کامیابی سے 100 پونڈ وزن کم کیا۔ پروگرام کے تحت پہلے مقابلے میں شرکا کو 4 کے گروپ میں رکھا گیا اور 12 ہفتوں میں سب سے زیادہ وزن گھٹانے والی ٹیم کو 3500 ڈالر کی رقم دی گئی۔

جاپان میں کھانے کا ذائقہ بدلنے والے کانٹے مقبول ہونے لگے

437701-fork-1453550721-859-640x480

ٹوکیو: جاپانی ماہر نے کھانا یا فاسٹ فوڈ وغیرہ کے لیے 9 وولٹ کی بجلی کے ایسے کانٹے تیار کیے ہیں جو کھانے کے ذائقے کو تبدیل کردیتے ہیں جب کہ اس سے کسی قسم کے نقصان کا خطرہ بھی نہیں ہوتا۔ٹوکیو کے سائنسدان ہیرومی ناکامورا نے کھانا یا فاسٹ فوڈ وغیرہ کے لیے 9 وولٹ کی بجلی والے کانتے تیار کیے ہیں جو کھانے کے ذائقے کو تبدیل کردیتے ہیں تاہم اس سے کسی قسم کے نقصان کا خطرہ نہیں ہوتا، ذائقہ بدلنے والے یہ کانٹے جاپان میں دن بدن مقبول ہورہے ہیں۔ سائنسدان کے مطابق یہ (برقی کانٹے) ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو کھانے میں احتیاط کرتے ہیں یا کسی بیماری کے باعث ذائقے دار کھانا نہیں کھاسکتے ہیں، بلڈ پریشر کے مریض جب اس کانٹے سے کھائیں گے تو انہیں نمک ذیادہ لگے گا اور اس طرح وہ نمک ذیادہ بڑھائے بغیر ہی کھانے سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔موجد کے مطابق بجلی زبان پر موجود ذائقے محسوس کرنے والے غدود کو بڑھاتی ہے اور کھانے کا ذائقہ الگ محسوس ہونے لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے پر ناکامورا کرنٹ کی مدد سے زبان پر مختلف ذائقوں کو پیدا کرنے کی کوشش کریں گی تاکہ انسان مختلف ذائقوں کو محسوس کرسکے۔ ایک ماہر نے اس بجلی کے کانٹے سے مرغی کے دس ٹکڑے کھائے اور انہیں بہت پسند کیا کیونکہ کھانے میں نمک نہیں تھا لیکن ہلکی بجلی نے کھانا نمکین اور ذائقے دار بنا دیا تھا۔