تازہ ترین
Home / بزنس

بزنس

پاکستان میں ایک ہفتے کے دوران تیل و گیس کا دوسرا بڑا ذخیرہ دریافت

547065-CrudeOilx-1467390502-722-640x480

کراچی: آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے صرف ایک ہفتے کے دوران سندھ میں تیل اور گیس کا دوسرا بڑا ذخیرہ دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ مذکورہ دریافت صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں کھودے گئے آزمائشی کنویں ”بِٹ رِزم ویسٹ زیرو ون اے“ سے ہوئی جب کہ او جی ڈی سی ایل کے سیکریٹری احمد حیات لک نے بتایا کہ اس کنویں سے روزانہ 290 بیرل خام تیل اور 43 لاکھ معیاری مکعب فٹ قدرتی گیس یومیہ حاصل کی جاسکے گی۔واضح رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیربرائے پیٹرولیم اور قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے اجلاس میں بتایا تھا کہ تیل و گیس کے 4 ذخائر صوبہ سندھ اور 2 صوبہ خیبر پختونخوا میں دریافت ہوئے ہیں اور دریافت کی رو سے خیبرپختونخوا سے 31.6 ملین کیوبک فٹ گیس اور 339 بیرل روزانہ تیل نکالا جائے گا جب کہ سندھ سے 2,020 بیرل تیل روزانہ اور 18.5 ملین کیوبک فٹ گیس ملے گی۔

نیا سنگ میل عبور، بجلی کی پیداوار 17 ہزار 350 میگاواٹ ہوگئی

537233-electricityfile-1466369180-120-640x480

اسلام آباد: وزارت پانی و بجلی کے ترجمان کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار 17 ہزار 350 میگا واٹ کے ساتھ ملکی تاریخ میں نیا سنگ میل عبور کر لیا گیا، یہ پیداوار گذشتہ سال کی نسبت500 میگاواٹ زیادہ ہے۔وزارت بجلی و پانی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بجلی کے ترسیلی نظام میں بھی بہتری لائی گئی ہے جس سے بجلی کے موجودہ ٹرانسمیشن سسٹم میں 17 ہزار 350میگاواٹ بجلی کو استعمال میں لایا جا رہا ہے جو بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 87 فیصد ہے۔ اتوار کو ملک کے 90 فیصد سے زائد دیہی علاقوں اور98 فیصد شہری علاقوں میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی جاری رہی۔واضح رہے کہ حکومت نے 2018 تک ملک سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کررکھا ہے اور اس سلسلے میں ملکبھر میں بجلی کی پیداوار کے کئی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

پیٹرول اورہائی آکٹین کی قیمتوں میں اضافےکی سمری مسترد، ڈیزل اورمٹی کا تیل مہنگا کرنےکافیصلہ

523490-tw-1464677836-722-640x480

اسلام آباد: حکومت نے اوگرا کی جانب سے آئندہ ماہ کے لیے پیٹرول اور ہائی آکٹین کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل اور مٹی کا تیل مہنگا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اوگرا نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور جی ایس ٹی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو آئندہ ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کمی کرنے کی تجویز دی تھی، وزارت پیٹرولیم کو بھیجی گئی سمری میں پیٹرول 85 پیسے، ہائی آکٹین 2 روپے 18 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 69 پیسے، لائٹ ڈیزل 4 روپے 47 پیسے، جب کہ مٹی کا تیل 3.97 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔حکومت نے اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی پیٹرولیم مصنوعات کو جزوی طور پر مسترد کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی آکٹین کی موجودہ قیمت آئندہ ماہ کے لیے بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے 69 پیسے کے بجائے 3 روپے 34 پیسے ، لائٹ ڈیزل 4 روپے 47 پیسے کے بجائے 2 روپے 23 پیسے اور مٹی کا تیل 3 روپے 97 پیسے کے بجائے ایک روپیہ 98 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ہائی آکٹین کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان اور دیگر مصنوعات کی نئی قیمتوں کے اطلاق کا نوٹیفکشن آج شام جاری ہونے کا امکان ہے۔

آئندہ ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی سفارش وزارت پٹرولیم کو ارسال

522952-petrol-1464606435-172-640x480

اسلام آباد: اوگرا نے آئندہ ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل سے متعلق سمری وزارت پٹرولیم کو ارسال کردی ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 روپے 69 پیسے تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔جیو پاکستان کےمطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے وزارت پیٹرولیم کو عالمی مارکیٹ کے تناظر میں آئندہ ماہ کے لیے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھجوا دی ہے، قیمتیں بڑھانے کی تجویز حکومت کی جانب سے اضافی جی ایس ٹی کے نفاذ کے باعث کیا گیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم سمری وزارت خزانہ کو بھجوائے گی۔ نئی قیمتوں کا اعلان منگل کی شام کیا جائے گا۔اوگرا کی سمری میں پیٹرول 85 پیسے، ہائی آکٹین 2 روپے18پیسے ، مٹی کا تیل 4 روپے57 پیسے، لائٹ ڈیزل 4 روپے47پیسے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6روپے69 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی اس وقت 49 ڈالر فی بیرل کی سطح پر موجود ہے ، گزشتہ ماہ بھی اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھجوائی تھی تاہم وزیر اعظم نے اسے مسترد کردیا تھا۔

صنعتی بجلی مہنگی؛ 130ارب کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز

518393-electricityfile-1463995353-383-640x480

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2016-17 کے وفاقی بجٹ کاحجم 4500 ارب روپے لگ بھگ رکھے جانے کا امکان ہے۔اس ضمن میں وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق بجٹ کے مسودے اور 3 سالہ میڈیئم ٹرم بجٹری فریم ورک کے مسودے کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔بجٹ اہداف و بجٹآوٹ کلے سمیت دیگراہداف کی حتمی منظوریکے لیے 28 مئی کو اعلی سطح کااجلاس ہوگاجبکہ رواںہفتے سالانہ منصوبے کی رابطہ کمیٹی(اے پی سی سی) کااجلاس ہوگااور اسکے بعد وزیراعظم کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل (ایکنک)کااجلاس ہوگاجس میںاگلے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جائیگی، یکم جون کو اقتصادی سروے جاری کیے جانے کاامکان ہے۔علاوہ ازیں2 جون کو پارلیمنٹ کامشترکہ ہوگااور 3 جون کو بجٹ اجلاس ہوگاجبکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میںسرکاری ملازمین کی تنخواہوںاور پنشن میںاضافہ سمیت الاﺅنسز میںاضافہ کی منظوری دی جائے گی۔ ”ایکسپریس“ کو دستیاب بجٹ کے ابتدائی مسودے میںدیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے دفاعی بجٹ860 ارب روپے، پی ایس ڈی پی کاحجم855 ارب روپے ، ٹیکس وصولیوںکاہدف 3620ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔قرضوںپر سود کی ادائیگی کیلئے1420 ارب روپے،پنشن کی ادائیگی کیلئے 245ارب روپے، وفاقی حکومت کے سروس ڈلیوری کے اخراجات کیلئے 348ارب روپے،سبسڈیز کیلئے169 ارب روپے، صوبوں کو گرانٹس کی ادائیگی کیلئے 40ارب روپے، دیگر گرانٹس کی مد میں542ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے بجٹ میںٹیکسوںچھوٹ و رعایات کے ایس آر اوز کی واپسی کے ذریعئے 130 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز بھی ہے اس کے علاوہ انتظامی اقدامات و اصلاحات اور براڈننگ ا?ف ٹیکس بیس کے ذریعے بھی 100 ارب روپے سے زائد کااضافی ریونیو اکٹھاکرنے کاہدف مقرر کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔دستاویز کے مطابقآئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے لیے مالیاتی خسارے کاہدف 3.8فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ کاہدف 6.2فیصد،انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح کاہدف 18.7فیصد، مہنگائی کی شرح کاہدف6 فیصد،ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کاہدف12.7 فیصد،جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضوں کی شرح کاہدف 59.4فیصد، ذرمبادلہ کے ذخائر کاہدف23.6 ارب ڈالر مقرر کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔علاوہ ازیںبجٹ خسارے کاہدف 3.8فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ دفاعی بجٹ 860ارب روپے، قرضوںپر سود کی ادائیگی کے لیے 1420 ارب روپے،پنشن کی ادائیگی کے لیے 245ارب روپے، وفاقی حکومت کے سروس ڈلیوری کے اخراجات کے لیے 348ارب روپے،سبسڈیز کے لیے169 ارب روپے، صوبوںکو گرانٹس کی ادائیگی کے لیے 40ارب روپے، دیگر گرانٹس کی مد میں542ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2016-17کے وفاقی بجٹ میںذائقہ دار دودھ اور غذائیت بھرے ڈبہ پیک دودھ سمیت دیگراقسام کے پیک ش±دہ دودھ اور ڈیری مصنوعات پر17فیصدسیلز ٹیکس کی شرح میںاضافہ کیے جانیکاامکان ہے البتہ کھ±لے دودھ اور عام دودھ پرسیلز ٹیکس کی چھوٹ برقرار رکھی جائے گی۔دستاویز کے مطابق اسٹیل میلٹرزو اسٹیل ری ر±ولرز اورشپ بریکنگ انڈسٹری کیلئے بجلی کے استعمال پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح 9روپے سے بڑھاکر12 روپے فی یونٹ کیے جانیکاامکان ہے۔ذرائع کے مطابق کئی وزارتوںاور ڈویڑنوںکے ترقیاتی بجٹ کو کٹ لگ گیاہے۔145ارب روپے ٹی ڈی پیزاور وزیر اعظم یوتھ پروگرام ،فاٹا،جی بی اور آزاد کشمیر کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے،وفاقی پی ایس ڈی پی کابراحصہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور پر خرچ کیاجائے گا،جوکہ 455ارب روپے سی پیک اور 200ارب روپے توانائی منصوبوںکیلئے مختص کئے جانے کاامکان ہے،حکومت نے این ای سی کااجلاس 30 مئی کو طلب کر لیاہے،تاکہ اگلے مالی سال کے مائیکرو اکنامک فریم ورک اور ترقیاتی پلان کی منظوری دی جاسکے۔

بجلی کی قیمت میں 3 روپے 41 پےسے فی ےونٹ کمی کا امکان

518393-electricityfile-1463995353-383-640x480

اسلام آباد: سینٹرل پاور پرچےزنگ ایجنسی نے نیپرا کو بجلی کے نرخوں میں 3روپے 41 پیسے جب کہ کے الیکٹرک نے 54 پیسے فی یونٹ تک کمی کی درخواست دے دی ہے۔سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپریل کے مہینے کے لئے بجلی کی اوسط پیداواری قیمت 7 روپے 62 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی تاہم بجلی کی اوسط پیداواری لاگت 4 روپے21 پیسے فی یونٹ رہی۔ اس لئے اپریل کے لیے فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 3روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کی جائے۔دوسری جانب کے الیکٹرک نے بھی 54 پیسے فی یونٹ تک کمی کی درخواست دے دی ہے۔ نیپرا دونوں درخواستوں کی سماعت 26 مئی کو کرے گا جب کہ صارفین کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ جون کے بلوں میں ہوگا۔

نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 36 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی

Electricity-1

اسلام آباد: نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 36 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیپرا نے سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت کی جس کے بعد بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 4 روپے 36 پیسے کمی کی منظوری دیدی ہے۔ نیپرا حکا م کے مطابق بجلی کی قیمت میں کمی کی منظوری فروری کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی ہے۔ البتہ کے الیکٹرک، زرعی صارفین اور ماہانہ 300 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے اس کمی سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔

بھارتی دھاگے سے مقامی استعمال کی اشیا بن رہی ہیں، اپٹما

461119-APTMAWeb-1456686079-281-640x480

کراچی: ملک میں بھارتی فائن کاو¿نٹ کاٹن یارن کی درآمدات پر عائد 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی واپس لینے کی سفارش نہیں کی۔یہ بات آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)کے سینٹرل چیئرمین طارق سعود نے وفاقی وزیر تجارت انجینئرخرم دستگیر خان کی جانب سے اس ضمن میں جاری کردہ بیان کی تردیدکرتے ہوئے کی۔انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیرنے کہاکہ اپٹما نے بھارت سے فائن کاو¿نٹ کاٹن یارن کی درآمدپر عائد10فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ اس یارن کی درآمدپر ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کے بعد بھارت سے فائن کاو¿نٹ کاٹن یارن کی درآمد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور اب پاکستان بھارتی یارن درآمدکرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن گیا ہے، بھارتی فائن کاو¿نٹ یارن کے سرفہرست 3 درآمدکنندگان چین، بنگلہ دیش اورترکی ہیں۔
طارق سعود نے کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن خود اس بات کا اعتراف کرچکاہے کہ بھارتی یارن کی درآمد سے مقامی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے،کاٹن یارن زیادہ تر مقامی کھپت میں استعمال ہوتی ہے اور اس سے تیارٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات نہیں ہوتی ہیں، بھارتی یارن بالخصوص کاٹن یارن کے فائن کاو¿نٹ کی چین کو برآمدکم ہو چکی ہے اس لیے بھارت سرپلس یارن پاکستان میں انتہائی کم قیمتوں پر ڈمپ کر رہا ہے۔طارق سعود نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے کاٹن یارن بالخصوص بھارت سے درآمدکی جانے والی کاٹن یارن کے فائن کاو¿نٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرح بڑھا کر 20فیصد کی جائے کیونکہ 10فیصد ڈیوٹی سے سستی بھارتی یارن کی پاکستان میں ڈمپنگ کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکا۔

پاک ایران گیس منصوبے پر کام جاری 2018 تک بحران ختم ہوجائےگا، وزیر پٹرولیم

461107-ShahidkhaqanabbasiMinsiterpertroleun-1456686198-997-640x480

لاہور: وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف دیتے رہیں گے، 2018 تک گیس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیاجائیگا۔ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حکومت عوام کی فلاح اور بہتری کیلیے کام کررہی ہے کچھ لوگ بلا جواز تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نیچے جاتی رہیں گی، حکومت ریلیف دیتی رہے گی، پاکستان نے جتنی قیمتیں کم کی ہیں، کسی اورملک نے نہیں کیں۔ انہوں نے کہاکہ پچھلی حکومتوں نے گیس بحران پرقابو پانے کے لیے کچھ نہیں کیا، پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام جاری ہے،2018 تک گیس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیاجائیگا۔

ہفتہ رفتہ میں روئی کی تجارتی سرگرمیاں ماند پڑنے سے قیمتیں پھر جمود کا شکار

461117-COTTONANDPHATTIAPP-1456685876-592-640x480

کراچی: چین کی اپنی روئی کے ذخائزفروخت کرنے، سال2016-17 میں عالمی سطح پرروئی کی کھپت ابتدائی تخمینوں کے مقابلے میں کم ہونے کی اطلاعات سے نیویارک کاٹن ایکس چینج میں روئی کی قیمت 6سال کی کم ترین سطح پرآنے کے باعث گزشتہ ہفتے پاکستان سمیت دنیابھرمیں روئی کی تجارتی سرگرمیاں ماند رہیں جبکہ پاکستان میں بھارتی سوتی دھاگے وکپڑے کی مسلسل درآمدودیگر منفی عوامل کے سبب مندی کے اثرات غالب رہے۔
چیئرمین کاٹن جنرزفورم احسان الحق نے ”ایکسپریس“ کوبتایاکہ پاکستان اورخاص طورپرپنجاب میں اس وقت کاٹن سیکٹرکوملکی تاریخ کے بدترین مالی بحران کاسامناہے جس کے باعث پنجاب میں 30سے 40 ٹیکسٹائل ملزمکمل طور پر بندہوچکی ہیں جبکہ بیشتراپنی پوری پیداواری صلاحیت پرآپریشنل نہیںہیں جس کے باعث ٹیکسٹائل ایکسپورٹس میں ریکارڈکمی کے ساتھ ساتھ لاکھوں مزدوروںکے بے روزگار ہونے اورٹیکسٹائل ملزمالکان کوبڑے مالی بحران کاسامنا ہے۔
انہوں نے بتایاکہ گزشتہ ہفتے کے دوران آل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوسی ایشن (اپٹما) کے ہونیوالے ہنگامی اجلاس میں اپٹما نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ تمام درآمدی سوتی دھاگے اورفیبرک پرفوری طورپرکم ازکم 25 فیصدریگولیٹری ڈیوٹی کانفاذکیاجائے تاکہ ملکی کاٹن انڈسٹری کوبچایاجاسکے۔ انہوں نے بتایاکہ پنجاب کی ٹیکسٹائل ملزکوپچھلے کافی عرصے سے بدترین بجلی اورگیس کے بحران کا سامناہے جس کے باعث آپریشنل ٹیکسٹائل ملزکی بھی پیداواری لاگت میں ریکارڈاضافے سے وہ بھی معاشی بحران کاشکارہورہی ہیں جس کے براہ راست منفی اثرات ملکی کاٹن ایکسپورٹس پرمرتب ہورہے ہیں تاہم وزارت پٹرولیم وقدرتی وسائل کے اعلامیے کے مطابق مارچ میں پنجاب کی ٹیکسٹائل ملزکوسستے داموں ایل این جی کی فراہمی سے بجلی اورگیس کے مسائل حل ہونے کے امکانات ظاہرکیے جارہے ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضرڈلیوری روئی کے سودے 1.50سینٹ فی پاو¿نڈمندی کے بعد 65.05 سینٹ جبکہ مئی ڈلیوری روئی کے سودے ریکارڈ2.01سینٹ فی پاو¿نڈکمی کے بعدپچھلے 6ماہ کی کم ترین سطح 57.53سینٹ فی پاو¿نڈتک گرگئے جبکہ بھارت اورچین میں بھی گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمتوںمیں مندی کے اثرات غالب رہے تاہم کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیرکسی تبدیلی کے 5 ہزار300روپے فی من تک مستحکم رہے۔
احسان الحق نے بتایاکہ فیڈرل کاٹن کمیٹی کی جانب سے کاٹن ایئر2016-17 کیلیے مختص کیاگیاکپاس کامجموعی ملکی پیداواری ہدف جوکہ 1 کروڑ41لاکھ بیلزمختص کیاگیاہے انتہائی غیرحقیقت پسندانہ ہے کیونکہ ایف سی سی کی جانب سے جاری کیے گئے تخمینے کے اعدادوشمارکے مطابق پنجاب میں پھٹی کی فی ایکڑ پیداوار 21 من جبکہ سندھ میں 35من کاتخمینہ لگایاگیاہے جس کے مطابق سندھ میں پھٹی کی فی ایکڑپیداوار پنجاب کے مقابلے میں66فیصد زائد ہے جوکہ ناممکن ہے اس لیے ایف سی سی کوچاہیے کہ وہ کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف زمینی حقائق کے مطابق دوبارہ مختص کرے تاکہ اس میں باربارتبدیلی نہ کرنی پڑے۔
یادرہے کہ کاٹن ایئر2015-16 کے دوران ایف سی سی نے 5مرتبہ کپاس کی مجموعی ملکی پیداواری ہدف میں تبدیلیوں کااعلان کیاتھا۔انہوں نے بتایاکہ بعض رپورٹس کے مطابق چین میں کاٹن ایئر 2016-17 کے دوران پچھلے 7سالوں میں پہلی مرتبہ کپاس کی کھپت میں 10لاکھ بیلز (218 کلو گرام) کے اضافے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ اطلاعات کے مطابق سندھ کے بعض ساحلی شہروں ٹھٹھہ، بدین، میرپورساکرو، گھارووغیرہ میں کپاس کی ابتدائی کاشت شروع ہوچکی ہے اور درجہ حرارت کے کچھ مزیدبہترہونے کی صورت میں کپاس کی کاشت میں کافی تیزی کارجحان سامنے آسکتاہے۔