تازہ ترین
Home / صحت وسائنس

صحت وسائنس

بجلی پیدا کرنے والی انوکھی کرسی

elec chair
اکثر افراد کرسی پر ٹک کر نہیں بیٹھتے اور اس پر جھولنا، ہاتھوں اور پیروں کو بے مقصد حرکت دینا عادت ہوتی ہے۔اگر آپ بھی ان میں سے ایک ہے تو اس عادت کو آپ بجلی بنانے اور فون چارج کرنے کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔جی ہاں بیلجیئم سے تعلق رکھنے والی ڈیزائنر نتالی ٹیوجیلز نے ایسی کرسی تیار کی ہے جو آپ کی بے مقصد حرکتوں کو برقی رو میں تبدیلی کردیتی ہے۔موو نامی اس کرسی میں ایک یو ایس بی پورٹ بھی موجود ہے تو اس کی مدد سے بیٹھنے والے خود بجلی بناکر فونز چارج کرسکتے ہیں۔نتالی کے مطابق میں لوگوں کی بیٹھے رہنے کی عادت کو ایک مثبت رخ دینا چاہتی ہوں۔ہاتھ سے تیار کردہ اس کرسی میں 288 پریشر سنسرز موجود ہیں جو انسانی حرکات کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔جب کوئی شخص اس کرسی پر بیٹھتا، ہلتا یا کھڑا ہوتا ہے تو یہ سنسر اس عمل میں خارج ہونے والی توانائی کو پکڑ کر بجلی میں تبدیل کردیتے ہیں۔اس کرسی کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ قدرتی طور پر انسان کا آگے پیچھے جھولنے کو دل کرنے لگتا ہے جبکہ کرکسی میں ایک بیٹری پیک بھی موجود ہے جو دن بھر کے لیے بجلی کو ذخیرہ کرسکتی ہے۔نتالی انسانی خودانحصاری پر یقین رکھتی ہیں اور وہ اپنے اس ڈیزائن کو عوامی مقامات پر بینچز کی شکل میں ڈھالنا چاہتی ہے تاکہ انسان خود بجلی بناکر اپنی ڈیوائسز کو چارج کرسکیں۔کسی ڈیڈ بیٹری کو چارج کرنے کے لیے کچھ گھنٹوں تک کرسی پر بیٹھنے کی ضرورت ہوگی تاہم ایک ڈیڈ آئی فون کو مکمل چارج کرنے کے لیے 10 روز درکار ہیں کیونکہ اس میں سنسرز چھوٹے اور کم معیار کے ہیں تاہم اگر بہترین سنسرز کو استعمال کیا جائے تو یہ عمل آدھے گھنٹے میں بھی مکمل ہوسکتا ہے۔

شوٹر گیم سے دماغی چوٹ والے مریض ذیادہ تیزی سے صحتیاب ہوسکتے ہیں

460909-shooter-1456660079-371-640x480

میلبرن: ایک سروے کے مطابق ’ کالآف ڈیوٹی‘ جیسے فرسٹ پرسن شوٹر گیم کھیلنے سے دماغی چوٹ والے مریضوں کو فائدہ پہنچتا ہےاور وہ تیزی سے صحتیاب ہوسکتے ہیں۔آسٹریلیا کی مک کوارے یونیورسٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ فرسٹ پرسن شوٹر گیم کھیلنے سے دماغی چوٹ کے مریضوں میں توجہ بڑھتی ہے اور ان میں معلومات کو پروسیس کرنے کا عمل بھی بہتر ہوتا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے 31 مریضوں کو ایک گیم ’میڈلآف آنر‘ رائزنگ سن‘ کھیلنے کو دیا اور ان کی تربیت کی کہ کس طرح گیم میں مختلف حصوں سے گزرنا ہے۔ یہ مشق دماغی چوٹ پر تعلیم اور رہنمائی فراہم کرنے والے ایک پروگرام کے تحت دی گئی ہے۔کچھ روز گیم کھیلنے کے بعد سر پر چوٹ لگنے والے لوگوں میں توجہ بہتر ہوئی اور وہ روز کے کام اچھی طرح کرنے لگے۔ اس طرح ثابت ہوا کہ بہت کم خرچ اور تفریحی انداز میں ایسے ہزاروں لاکھوں مریضوں کا علاج کیا جاسکتا ہے جو کسی دماغی چوٹ کے بعد معمول کے کام کرنے میں پریشانی محسوس کرتے ہیں۔ ایکس باس ون، اور پی ایس فور جیسے گیم کونسولز اگرچہ تھوڑے مہنگے ہیں لیکن دماغی مشق کرانے والی میڈیکل مشینوں کے مقابلے میں ان کی قیمت کچھ بھی نہیں۔تجربے میں 18 سے 65 عمر کے افراد کو شامل کیا گیا لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ چھوٹے گروپ پر تجربات کے باوجود یہ طریقہ مفید ہے اور اسے مزید افراد پرآزمانے کی ضرورت ہے۔ کوگینٹ سائیکالوجی میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق کسی حادثے میں شکار ہونے والے افراد کو ویڈیو گیمز کی تربیت فراہم کرکے ان کے ذہنی افعال کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

دوران نماز موبائل فون بجنے سے پریشان لوگوں کے لیے اپیلی کیشن آ گئی

461188-mobileapps-1456688643-155-640x480

لندن: کیا آپ بھی ان لاکھوں لوگوں میں شامل ہیں جو نماز کی ادائیگی کے دوران اچانک موبائل فون بج اٹھنے سے پریشان ہیں تو آپ کے لئے خوشخبری ہے کہ اس سلسلے میں ایک نئی موبائل ایپ تیار ہوچکی ہے۔ بھاگتی دوڑتی زندگی میں موبائل فون کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیونکہ موبائل فون آپ کا ہر وقت کا ساتھی بن چکا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں بھی اور اگر آپ نے لشکارے مارتی رنگیلی رنگ ٹون سیٹ کررکھی ہو اور نماز کی ادائیگی کے دوران آپ کا موبائل بج اٹھے تو شرمندگی بھی اسی قدر ہوتی ہے کیونکہ یہ ناصرف آپ بلکہ دوسروں کی عبادت میں بھی مخل ہوتی ہے۔نماز کی ادائیگی کے دوران عام طور پر لوگ اپنے موبائل فون یا تو بند کردیتے ہیں یا پھر سائلنٹ لیکن کبھی کبھا لوگ اسے اس احتیاطی تدبیر کو اختیار کرنا بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنا موبائل فون سائلٹ یا بند کرنا بھول جاتے ہیں ان کے لئے خوش خبری یہ ہے کہ اب ان کا موبائل فون خود بخود سائلنٹ موڈ پر چلا جائے گا، بس اس کے لئے آپ کو اپنے اینڈرائیڈ موبائل فون پر ”صلاتی“ کو ڈاو¿ن لوڈ کرنا پڑے گا۔ اس ایپلی کیشن کو فعال کئے جانے کے بعد دوران نماز آپ کا موبائل خوبخود ہی سائلنٹ موڈ پر چلا جائے گا۔

اب بیکٹیریا ہماری سڑکوں اور عمارتوں کو روشن بھی کریں گے

461059-glowee-1456733871-106-640x480
پیرس: فرانس میں قائم ایک کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مستقبل میں سڑکوں، عمارتوں اور زیرِ زمین راستوں کو بیکٹیریا سے روشن کرکے بجلی اور بیٹریوں کے جھنجھٹ سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہوگا۔
گلووی نامی کمپنی نے اپنی پہلی پراڈکٹ ایک بیٹری کی شکل میں تیار کرلی ہے جو تین دن تک روشنی خارج کرتی رہتی ہے۔ اگرچہ یہ بلب اور روشنیوں کی جگہ نہیں لے سکیں گے لیکن اپنی مخصوص روشنی سے دکانوں کے باہر کے حصوں اور سائن بورڈ کو منور کرسکتے ہیں۔
تین دن روشن رہنے والی بیکٹیریا لائٹ بنانے کے بعد اب یہ کمپنی بیکٹیرا کو اس قابل بنارہی ہے کہ وہ کم ازکم ایک ماہ تک روشن کرسکیں۔ گلووی کمپنی کی سربراہ سانڈرا رے چاہتی ہیں کہ ’ روشنی حاصل کرنے کا تصور بدلا جائے، اگر پوری دنیا میں بیکٹیریا سے روشنی پیدا کی جاسکے تو اس سے 19 فیصد بجلی بچائی جاسکتی ہے۔ ‘
بیکٹیریا لائٹ میں شفاف ٹٰیوب میں ایک جیل بھرا گیا ہے جس میں ایسے بیکٹیریا شامل ہیں جو روشنی خارج کرتے ہیں۔ انہیں سمندروں سے حاصل کیا گیا ہے۔ ٹیوب میں الائی وائبریو فشری Aliivibrio fischeri بیکٹیریا ڈالے گئے ہیں جو کسی بیماری اور مضر اثرات کی وجہ نہیں بنتے جیل میں ان بیکٹیریا کی خوراک بھی ڈالی گءہے جو غذائی اجزا پر مشتمل ہوتی ہے۔
پہلے تجربے میں صرف چند سیکنڈ تک ہی روشنی ملی اور اس کے بعد تین دن تک روشنی دینےوالے بیکٹیریا بنائے گئے ہیں۔ فرانس میں بعض علاقوں میں رات کے ایک سے صبح سات بجے تک دوکان کی بیرونی روشنیاں جلانے پر پابندی ہے اور اس دوران بیکٹیریا کی ہلکی دھیمی روشنی سے ان کو منور کیا جاتا ہے جو بہت تیز نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے بھی بیکٹیریا سے روشنی حاصل کی جاتی رہی ہیں لیکن یہ پہلی کمپنی ہے جو اپنی مصنوعات بازار میں فروخت کررہی ہے۔
گلووی بیکٹٰیریا کو عمارتوں کی سجاوٹ اور ایسے علاقوں میں روشنی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں جہاں روشنی نہ پڑتی ہو۔ لیکن دوسری جانب روشن بیکٹیریا پر کام کرنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح عمارتوں کو روشن کرنے کا طریقہ بہت مہنگا ثابت ہوسکتا ہے جبکہ اس کی جگہ ایل ای ڈی روشنی کا نظام موجود ہے لیکن کمپنی کے مطابق وہ 2017 میں اپنی پہلی پراڈکٹ پیش کریں گے جو ایک ماہ تک روشنی دیتی رہے گی۔
سمندروں میں قدرتی طور پر روشنی دینے والے بیکٹیریا کسی بیماری کی وجہ نہیں بنتے لیکن انہیں طویل عرصے تک زندہ رکھنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔

برازیل کے بعد کولمبیا کی ہزاروں حاملہ خواتین زکا وائرس سے متاثر

442585-zika-1454230502-926-640x480

بوگوٹا: لاطینی امریکی ملک برازیل کے بعد کولمبیا میں بھی ہزاروں حاملہ خواتین کے زکا وائرس سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق لاطینی امریکی ملک کولمبیا کے صحت کے قومی ادارے نے ملک بھر میں 20 ہزار 297 افراد کے زکا وائرس سے متاثرہونے کی تصدیق کی ہے جن میں 2 ہزار116 حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ کولمبیا میں زکا وائرس سے متاثرہونے والے افراد کے متعلق جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد وشمارکے بعد برازیل کے بعد کولمبیا دوسرا ملک ہے جہاں اس وائرس سے سب سے زیادہ افراد متاثرہوئے ہیں۔واضح رہے کہ ملیریا اورڈینگی کی طرح زکا وائرس بھی ایک خاص قسم کے مچھرکے کاٹنے سے پھیلتا ہے اسی کے باعث لاطینی امریکی ممالک میں چھوٹے سروں والے بچے پیدا ہورہے ہیں۔

ماں کے دودھ میں طاقتورترین اینٹی بایوٹک جزو کا انکشاف

437640-medicine-1453546230-852-640x480

لندن: برطانوی ماہرین نے ماں کے دودھ میں ایک طاقتور اینٹی بایوٹک جزو دریافت کیا ہے جو اب تک تمام دوا کے سامنے سخت جاں ثابت ہونے والے بیکٹیریا کو بھی تباہ کرسکتا ہے۔
برطانوی ماہرین نے ماں کے دودھ میں ایک طاقتور اینٹی بایوٹک جزو دریافت کیا ہے جو اب تک تمام دوا کے سامنے سخت جاں ثابت ہونے والے بیکٹیریا کو بھی تباہ کرسکتا ہے جب کہ اس اہم دریافت سے خطرناک بیکٹیریا ( سپربگز) سے پھیلنے والے امراض کا علاج ممکن ہوگا جس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہرسال ہلاک ہورہے ہیں۔یہ اینٹی بایوٹک جزو نیشنل فزیکل لیبارٹری کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ اس سے سِکل سیل انیمیا جیسی جینیاتی بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہوسکے گا۔ نیشنل فزیکل لیبارٹری کے چیف میڈیکل افسر ڈیمے سیلی ڈیویز نے خبردار کیا ہے کہ وہ اندھا دھند اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے گریز کریں کیونکہ اس سے جراثیم طاقتور بن رہے ہیں جو دواو¿ں کو بے اثر بنارہے ہیں اس لیے ہمیں ہر عشرے میں 10 نئی اینٹی بایوٹکس درکار ہیں اور عالمی سطح پر اس میں بہت سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے نئی اینٹی بایوٹکس نہ بنائیں تو 2050 تک 1000 ارب ڈالر کی رقم ان امراض کے علاج پر خرچ ہوگی اور قریباً 1 کروڑ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔

سائنس دانوں نے نظام شمسی میں ایک اور نئے سیارے کی کھوج لگالی

436625-planet-1453389252-837-640x480

کیلیفورنیا: خلاوو¿ں کی وسعتوں پر نظر رکھنے والے سائنس دان وہاں ایک نئی دنیا کی تلاش میں کوشاں ہیں لیکن اس کوشش کے دوران ہر گزرتے دن کے ساتھ نت نئے انکشافات جنم لے رہے ہیں اور اب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہیں نظام شمسی میں نویں سیارے کی موجودگی کےآثار ملے ہیں۔ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا کے انسٹیٹیوٹآف ٹیکنالوجی میں کام کرنے والے محققین کو نظام شمسی کے میں ایک نئے سیارے کےآثار ملے ہیں جو ممکنہ طور پر ”نوان“ سیارہ ہوسکتا ہے۔ سائنس دانوں نے اس سیارے کو”پلینٹ نائن“ کا نام دیتے ہوئے کہا ہےکہ اس سیارے کا حجم زمین سے 10 گنا بڑا ہے اور اس کا محور نیپچون کے مقابلے میں سورج سے 20 گنا دوری پر ہے جب کہ دوسرے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ سیارہ سورج کے گرد چکر کاٹنے میں 10 ہزار سے 20 ہزار سال لگاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سیارے کو پوری طرح نہیں دیکھا لیکن شواہد اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ کوئی بڑا جسم نظام شمسی میں موجود ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے برف جیسی فیلڈ کیوپر بیلٹ میں نیپچون سے دور کچھ اجسام کو تیرتے دیکھا ہے جو ایک خاص سمت میں حرکت کر رہے ہیں جب کہ بارہا ریاضی ماڈلنگ اور کمپیوٹر پر بنائی گئی گرافکس سے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ سیارہ ایسی کشش ثقل پیدا کر رہا ہے جو کسی بھی مدار کو شکل دینے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق زمانہ قدیم سے لے کر اب تک جدید سائنس نے کائنات میں صرف دو ہی سیارے دریافت کیے ہیں لیکن اب کہا جا سکتا ہے کہ یہ تیسرا سیارہ ہوگا اور سب ہی سائنس دان اس بارے میں بہت پر تجسس ہیں۔

کام مکمل کرنے پر ازخود تلف ہوجانے والے روبوٹس کی جانب اہم پیش رفت

437330-robot-1453481984-281-640x480

اٹلی: اطالوی انسٹی ٹیوٹآف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے خاص مٹیریلز کے ذریعے ایسے روبوٹ بنانے پر کام شروع کردیا ہے جو استعمال کے بعد ازخود ختم ہوجائیں گے۔
روبوٹس روزمرہ زندگی میں پلاسٹک اور دیگر دھاتوں سے بنائے جاتے ہیں اور ہماری زندگی میں روزبروز ان کا کردار بڑھتا جارہی ہے لیکن حیاتیاتی طور پر گ±ھل کر ختم ہونے والے ان روبوٹس کے کوڑا کرکٹ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ پرانی گاڑیوں اور سواریوں کی طرح مستقبل میں بھی روبوٹس کے قبرستان بنے ہوں گے اور اس سے بچنے کے لیے ہی خود ختم ہونے والے روبوٹ پر کام ہورہا ہے۔
اٹلی کے سائنسدانوں نے بچ جانے والی خوراک سے ”بایوپلاسٹک“ تیار کیا ہے جس سے پورا روبوٹ بنایا جاسکتا ہے جو اپنی مدت ختم کرکے خود بکھر کر ضائع ہوجائے گا، یہ پلاسٹک مضبوط بھی ہے اور لچکدار بھی اور اس کے اندر الیکٹرانک سرکٹ بنانے کے علاوہ روبوٹ کی ”جلد“ بھی بنائی جاسکتی ہے جس پر سینسر لگائے جاسکیں گے۔
انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کے مطابق اس طرح بہت ہلکے، مو¿ثر اور ری سائیکل (بازیافت) ہونے والے روبوٹ تیار کرنا ممکن ہوگا کیونکہ یہ میٹریل بہت ہلکا پھلکا ہے۔ ماہرین نے اس ایجاد پر کہا ہے کہ خطرناک علاقوں میں اور ماحولیاتی صفائی کرنے والے روبوٹ اپنے مشن مکمل کرکے ازخود خود ختم ہوجائیں گے جس سے بہت سہولت ہوسکے گی تاہم اٹلی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی ان کا کام ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے۔

حیران کردینے والا لیزر کی بورڈ

laser
آج کے عہد میں ٹیکنالوجی بجلی کی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہر سال لاتعداد ڈیوائسز اور اپلیکشنز سامنے آتی ہیں مگر اس ڈھیر میں سے ہیرے کو چننا مشکل ثابت ہوتا ہے اور اور ان میں سے ایک کیلون ایپل لیزر کی بورڈ ہے۔پاکٹ سائز یہ الیکٹرونک ڈیوائس کسی بھی سپاٹ سطح کو ڈیجیٹل ٹائپ رائٹر کی شکل دے سکتی ہے۔ماچس کے سائز کی یہ ڈیوائس کپڑوں کو بھی لیزر کی بورڈ کی شکل میں بدل سکتی ہے۔اس ڈیوائس میں موجود پراجیکٹر لیزر کو ٹائپ رائٹر کی شکل دیتا ہے اور اسے بلیو ٹوتھ کے ذریعے ایپل، مائیکروسافٹ اور بلیک بیری کے اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹ یا لیپ ٹاپ سے کنکٹ کیا جاسکتا ہے۔اسے جنوبی کوریا کی کمپنی کیلون نے تیار کیا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ تخلیقی سوچ اور صلاحیتوں کو جلا دینے والی ڈیوائس ہے۔اس ڈیوائس کی بیٹری سنگل چارج پر دو گھنٹے تک چل جاتی ہے اور اس کے پراجیکٹر کو ورچوئل ملٹی ٹچ ماؤس کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس کی قیمت 149 ڈالرز رکھی گئی ہے۔

پہلی بار بغیر بیج کے کینوں کاشت کرنے کا کامیاب تجربہ

کنو
کراچی:ملک میں پہلی بار فیصل آباد کے ایوب ریسرچ سنٹر میں بغیر بیج کے کینوں کاشت کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جس کی قیمت عام کینوں کے مقابلے میں تو زیادہ ہے لیکن اب انہیں بیرون ممالک بھیجا جائے گا۔منفرد کینوں کا نام‘‘ایری’’رکھا گیا ہے ۔ ایوب ریسریچ سینٹر ملک کا واحد تحقیقاتی ادارہ جہاں سائنسدانوں نے کمال کر دکھایا اور بغیر بیج کے کینوں کی کامیاب کاشت کا تجربہ کیا ۔بغیر بیج کے کینوں کی کامیاب کاشت کا تجربہ تو 2004 میں کیا گیا تھا مگر بارہ سال بعد محنت کا سمر ملا اور خواب کوپایاں تکمیل تک پہنچا ہی دیا گیا ۔ عام کینوں میں 6 سے 8 بیج ہوتے ہیں لیکن اس اپنی طرز کے منفرد کینوں میں تو ایک بھی بیج نہیں جس کا عملی مظاہرہ بھی دکھایا گیا۔ اب اس کینوں کو بیرون ممالک بھیج کر معیشت کو بہتر کیا جائے گا۔ابتدائی طور پر بغیر بیج کے کینوں کی کاشت سرگودھا ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لیہ میں کی جا رہی ہے ، منفرد کینوں کو جاپان ، یورپ، فرانس اور کینیڈا میں درآمد کیا جائے گا جبکہ مانگ میں اضافے پر نئی کاشت میں تیزی لائی جائے گی ۔منفرد کینوں کا ذائقہ بھی عام کینوں کی نسبت زیادہ مٹھاس رکھتا ہے لیکن کینوں کی قمیت مارکیٹ میں آنے والے عام کینوں کی نسبت 5 سے 7 گنا زیادہ ہے ۔